دعا کب قبول ہوتی ہے؟ اوقات اور اسباب

وہ اوقات اور حالتیں جن میں دعا کی قبولیت کی سب سے زیادہ امید ہوتی ہے۔

1 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت ميں ہوتا ہے، لہٰذا تم (سجدے میں) خوب دعا کیا کرو“۔

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ نزدیک اس وقت ہوتا ہے، جب وہ سجدے میں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سجدے کی حالت میں بندہ اپنے جسم کے سب سے اعلی و اشرف عضو کو زمین پر رکھ کر اللہ کے سامنے خشوع وخضوع اور عاجزی وانکساری کا اظہار کرتا ہے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سجدے کی حالت میں زیادہ سے زیادہ دعا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس طرح یہاں قول و فعل دونوں کے ذریعے اللہ کے آگے اپنی بے مائگی کا اظہار ہوتا ہے۔

فوائد

  • نیک کام اللہ سے بندے کی قربت کو بڑھاتا ہے۔
  • سجدے کی حالت میں زیادہ سے زیادہ دعا کرنا مستحب ہے۔ کیوں کہ سجدہ دعا قبول ہونے کی جگہوں میں سے ایک جگہ ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

2 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ مجھے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : ’’رب تعالی بندے کے سب سے نزدیک رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے۔ لہذا اگر تم ان لوگوں میں شامل ہو سکتے ہو، جو اس وقت اللہ تعالی کو یاد کرتے ہیں، تو ہو جاؤ۔‘‘

رواه أبو داود والترمذي والنسائي درجہ: صحيح

شرح

نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری تہائی حصے میں ہوتا ہے۔ اس لیے ہر شخص کی کوشش ہونی چاہیے کہ رات کے اس حصے میں جاگ کر اللہ کی عبادت کرے، نماز پڑھے، ذکر و اذکار میں مشغول رہے اور توبہ کرے۔

فوائد

  • رات کے آخری حصے میں ذکر کرنے کی ترغیب۔
  • ذکر، دعا اور نماز کے اوقات‘ فضل و شرف کے معاملے میں ایک دوسرے سے متفاوت ہوتے ہیں۔
  • میرک، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: "رب اپنے بندے سے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری تہائی حصے میں ہوتا ہے"۔ اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے قول: "بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے"۔ کے درمیان فرق کے بارے میں کہتے ہیں: یہاں مراد یہ بیان کرنا ہے کہ رب اپنے بندے سے سب سے قریب کب ہوتا ہے جو کہ رات کا آآخرى تہائى حصہ ہے۔ جب کہ وہاں مراد یہ بیان کرنا ہے کہ بندہ کس حالت میں اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، جو کہ سجدہ کى حالت ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

3 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہيں ہوتی۔"

رواه أبو داود والترمذي والنسائي درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہاں اذان اور اقامت کے درمیان دعا کرنے کی فضیلت بتائی ہے۔ فضیلت یہ ہے کہ اس وقت کی جانے والی دعا رد نہيں ہوتی اور قبول کی جاتی ہے۔ اس لیے اس درمیان اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔

فوائد

  • اس وقت دعا کرنے کی فضیلت۔
  • دعا کرنے والا جب آداب دعا کا اہتمام کرے، دعا قبول ہونے کی جگہوں اور اوقات کا لحاظ کرتے ہوئے دعا کرے، اللہ کی نافرمانی سے دور رہے، شک و شبہ کی جگہوں پر قدم رکھنے سے اجتناب کرے اور اللہ سے حسن ظن رکھے، تو اس بات کی توقع ہے کہ اللہ کی اجازت سے اس کی دعا قبول ہو۔
  • مناوی دعا قبول ہونے کے بارے میں کہتے ہیں : دعا قبول اس وقت ہوتی ہے، جب اس کی شرطوں، ارکان اور آداب كا کیا خیال رکھا جائے۔ اگر ان میں سے کسی چيز کا خیال نہ رکھا گیا، تو دعا قبول نہ ہونے کا ذمے دار انسان خود ہے۔
  • دعا قبول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو انسان کو اس کی مانگی ہوئی چيز دے دی جائے یا اس سے اس کے بہ قدر برائی دور کر دی جائے یا اسے اس کی آخرت کے لیے جمع کر کے رکھ دیا جائے۔ ان سب باتوں کا انحصار اللہ کی حکمت اور اس کی رحمت پر ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

4 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں، یا (فرمایا) کم ہی رد کی جاتی ہیں، اذان کے وقت کی دعا اور لڑائی کے وقت کی دعا جب کہ دونوں فریق ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو جائیں“۔

اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

اس حديث ميں جہاد فى سبيل اللہ کى فضيلت کا بيان ہے کہ اللہ تعالیٰ معرکۂ کار زار ميں مجاہد کى دعا كو شرفِ قبوليت سے نوازتا ہے، اسى طرح اس حديث ميں اذان کى فضيلت کا بھى بيان ہے کہ اللہ تعالیٰ اذان سے لے کر اقامت ہونے تک مسلمان کى دعا قبول فرماتا ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

5 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین دعائیں قبول کی جاتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں؛ مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور باپ کی اپنے بچے کے خلاف کی جانے والی دعا“۔

اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ درجہ: حَسَنْ

شرح

تین قسم کے دعا کرنے والوں کی تین دعاؤں کی اللہ کی طرف سے قبولیت میں کوئی شک نہیں۔ ایک مظلوم کی دعا، اگرچہ مظلوم کافر ہی کیوں نہ ہو۔ اگر اس پر ظلم کیا گیا اور اس نے اللہ سے دعا کی تو اللہ تعالی اس کی دعا کو قبول فرماتے ہیں۔ دوسری مسافر کی دعا جب وہ حالت سفر میں اللہ سے دعا کرتا ہے اور تیسری والدین میں سے کسی کی دعا، چاہے وہ باپ ہو یا ماں اور چاہے وہ اپنے بچے کے حق میں دعا کرے یا اس کے خلاف دعا کرے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

6 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کی اپنے بھائی کےحق میں پیٹھ پیچھے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس کے سر پر ایک فرشتہ متعین ہوتا ہے اور جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے دعائے خیرکرتا ہے تو اس پر یہ متعین کردہ فرشتہ کہتا ہے: آمین، اور تیرے لیے بھی اس کی مثل ہو“۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

مسلمان کی اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں کی گئی دعا اللہ کے ہاں مقبول ہوتی ہے۔ جب بندہ اپنے بھائی کے لیے دعا کرتا ہے تو فرشتوں میں سے ایک فرشتہ اس کے سر پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے: آمین، اور تیرے نصیب میں بھی وہی خیر ہو جس کی دعا تو نے اپنے بھائی کے لیے کی ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

7 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: "دعا ہی عبادت ہے۔" پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ} (اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں، وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔) [سورہ غافر : 60]

رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ دعا ہی عبادت ہے۔ اس لیے دعا خالص طور پر اللہ کے لیے خاص ہونی چاہیے۔ چاہے دعا سوال و طلب پر مبنی ہو، مثلا یہ کہ اللہ سے دنیا و آخرت کی کوئی بھلائی مانگی جائے یا نقصان دہ چیز سے حفاظت مانگی جائے، یا پھر عبادت پر مبنی ہو۔ عبادت پر مبنی دعا سے مراد ہر وہ ظاہری و باطنی قول و عمل ہے، جو اللہ کو محبوب و پسند ہو۔ اس میں قلبی، بدنی اور مالی ساری عبادتیں داخل ہیں۔

پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی دلیل پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: (مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں، وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔)

فوائد

  • دعا ہی اصل عبادت ہے، اس لیے دعا غیر اللہ سے کرنا جائز نہيں ہے۔
  • دعا بندگی کی حقیقت، اللہ کے غنی اور قادر ہونے کے اعتراف اور بندے کی اللہ کے سامنے حاجت مندی پر مشتمل ہے۔
  • اللہ کی عبادت سے اعراض کرنے اور اس سے دعا کرنے سے گریز کرنے پر سخت وعید اور اس بات کی صراحت آئی ہے کہ اللہ سے دعا کرنے سے اعراض کرنے والے جہنم میں ذلیل و خوار ہوکر داخل ہوں گے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

8 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم کوئی چیز نہیں“۔

رواه الترمذي وابن ماجه وأحمد درجہ: حسن

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ کے یہاں دعا سے افضل کوئی عبادت نہيں ہے۔ کیوں کہ اس میں اللہ تعالی کی بے نیازی اور بندے کی بے بسی اور ضرورت مندی کا اعتراف ہے۔

فوائد

  • دعا کی فضیلت اور یہ کہ اللہ سے دعا کرنے والا دراصل اللہ کی تعظیم کرتا اور اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اللہ پاک غنی ہے، کیوں کہ فقیر سے کچھ مانگا نہیں جاتا، وہ سننے والا ہے‘ کیوں کہ بہرے کو پکارا نہیں جاتا‘ وہ رحیم ہے، کیوں کہ سخت دل سے دعا نہيں کی جاتی، وہ قدرت والا ہے، کیوں عاجز سے دعا نہيں کی جاتی، وہ قریب ہے، کیوں کہ بعید سن نہيں سکتا۔ دعا کرنے والا اس کے علاوہ بھی اللہ کے دیگر جمال و جلال کی صفات کا اقرار کرتا ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

9 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالی پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اور اللہ نے اپنے مومن بندوں کو اسی چیز کا حکم دیا ہے، جس کا حکم اپنے رسولوں کو دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: (اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔) نیز ارشاد فرمایا: (اے ایمان والو! جو پاکیزه چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ، پیو۔) پھر آپ ﷺ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتا ہے، پراگندہ بال ہے، جسم غبار آلود ہے، اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا مانگتے ہوئے کہتا ہے: ”اے میرے رب! اے میرے رب!“ حالانکہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور حرام ہی سے اس کی پرورش ہوئی ہے، تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہوگی؟“

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ بلاشبہ اللہ پاک ہے، مقدس ہے، کمیوں اور عیوب سے منزہ ہے اور کمالات سے متصف ہے۔ وہ انہی اعمال، اقوال اور اعتقادات کو قبول کرتا ہے، جو پاک ہوں اور جنھیں صرف اللہ کی رضاجوئی کے لیے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقے کے مطابق کیا جائے۔ اللہ کا تقرب صرف اسی طرح کی عبادتوں کے ذریعے حاصل کیا جانا چاہیے۔ یاد رہے کہ اعمال کی پاکیزگی کا ایک اہم ترین ذریعہ حلال کھانا کھانا ہے۔ حلال کھانا کھانے سے انسان کا عمل پاک صاف ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح اللہ نے رسولوں کو حلال روزی کھانے اور نیک عمل کرنے کا حکم دیا ہے، اسی طرح اہل ایمان کو بھی دیا ہے۔ ارشاد باری ہے : ”يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنْ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا“ [سورہ مومنون : 51] (اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔) نیز ارشاد فرمایا: ”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ“ [سورہ بقرہ : 172] (اے ایمان والو! جو پاکیزه چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انھیں کھاؤ۔)

پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حرام غذا کھانے سے خبردار فرما دیا۔ کیوں کہ حرام غذا عمل کو فاسد کر دیتی ہے اور اسے اللہ کی بارگاہ میں قبول ہونے نہیں دیتی۔ چاہے قبول ہونے کے ظاہری اسباب جتنے بھی پائے جائیں۔ مثلا :

1- کسی نیکی کے کام، جیسے حج، جہاد اور صلہ رحمی وغیرہ کے لیے لمبا سفر کرنا۔

2- انسان کا پریشان حال ہونا۔ جیسے اس کے بال بکھرے ہوئے ہوں اور دھول مٹی لگنے کی وجہ سے اس کے جسم اور کپڑے کا رنگ بدلا ہوا ہو۔ اور یہ سب کچھ اس بات کى دلیل ہے کہ ایسا شخص مضطر ہے۔

3- دعا کے لیے آسمان کی جانب ہاتھ اٹھانا۔

4- اللہ کے اسما کو وسیلہ بنانا اور الحاح و زاری کے ساتھ دعا کرنا۔ مثلا یا رب یا رب کہنا۔

قبولیت دعا کے مذکورہ اسباب پائے جانے کے باوجود انسان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ کیوں کہ اس کا کھانا حرام کا، اس کا پینا حرام کا، اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کی پرورش حرام غذا سے ہوئی ہے۔ لہذا اس کی دعا قبول ہو ہی نہیں سکتی۔

فوائد

  • اللہ عز و جل اپنی ذات، صفات، افعال اور احکام میں کامل ہے۔
  • خالص اللہ کی رضاجوئی کی خاطر اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کرنے کا حکم۔
  • ایسا اسلوب اختیار کرنا جس سے عمل کی رغبت اور حوصلہ پیدا ہو. اس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان ہے: "اللہ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا ہے، جس کا رسولوں کو حکم دیا ہے"۔ کیوں کہ جب مومن کو یہ معلوم ہوگا کہ وہ جو کام کرنے جا رہا ہے، اس کا حکم رسولوں کو بھی دیا گیا تھا، تو اس کے اندر رسولوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس کام کو کرنے کا جذبہ پیدا ہوگا۔
  • دعا کی قبولیت کی راہ میں حائل ہونے والی چيزوں میں سے ایک چیز حرام غذا کھانا ہے۔
  • اس حدیث میں قبولیت دعا کا سبب بننے والی پانچ چیزوں کا ذکر ہے : 1- طویل سفر۔ کیوں کہ اس سے انکساری پیدا ہوتی ہے، جو دعا کی قبولیت کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔ 2- اضطراری حالت۔ 3- ہاتھوں کو آسمان کی جانب اٹھانا۔ 4۔ اللہ کی ربوبیت کا بار بار ذکر کرتے ہوئے الحاح وزاری سے کام لینا۔ یہ بھی دعا کی قبولیت کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔ 5- پاکیزہ چيزیں کھانا اور پینا۔
  • حلال غذا کھانا عمل صالح میں ممد و مددگار ہوتا ہے۔
  • قاضی کہتے ہیں: طیب خبیث کی ضد ہے۔ طیب لفظ جب اللہ کے وصف کے طور پر آئے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تمام کمیوں سے منزہ اور تمام برائیوں سے پاک ہے۔ جب کسی بندے کے وصف کے طور پر آئے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گندے اخلاق اور برے اعمال سے دور اور اچھے اخلاق واعمال کا حامل ہے۔ جب اموال کے وصف کے طور پر آئے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حلال اور عمدہ ہیں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

سوالات

اس صفحے پر کیا ہے؟

دعا کب قبول ہوتی ہے: ہر ایک عربی میں، اپنے ترجمے، ماخذ حدیث، درجے اور شرح کے ساتھ۔

ترجمے کہاں سے لیے گئے ہیں؟

HadeethEnc.com سے، جو ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ہر حدیث بالکل ویسے ہی دکھائی جاتی ہے جیسے وہاں شائع ہوئی، اپنے حوالے اور درجے کے ساتھ، اور اصل کا لنک بھی دیا جاتا ہے۔

کیا مجھے روزانہ یاد دہانی مل سکتی ہے؟

جی ہاں۔ اینڈرائیڈ کے لیے مفت قبس ایپ آپ کو ہر روز صبح و شام کے اذکار یاد دلاتی ہے اور اس میں یہی کاؤنٹر موجود ہے۔