دنیا اور آخرت کے لیے جامع دعائیں

مختصر دعائیں جو دنیا اور آخرت کی ہر بھلائی مانگتی ہیں۔

1 ایک بار

اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

ترجمہ اور حوالہ

انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : "اللہ کے نبی ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : ”رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ“۔ (اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا )۔

متفق عليه درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اکثر جامع ترین الفاظ میں دعا کیا کرتے تھے۔ اس طرح کی ایک دعا ہے : "اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔" اس دعا میں جہاں دنیا کی بھلائی جیسے وافر مقدار میں خوش گوار حلال روزی، نیک بیوی، آنکھ کی ٹھنڈک بننے والی اولاد، راحت، نفع بخش علم اور عمل صالح وغیرہ جیسی محبوب اور مباح چيزیں شامل ہیں، وہیں آخرت کی بھلائی جیسے قبر، حشر کے میدان اور جہنم کی سزاؤں سے سلامتی، اللہ کی خوش نودی سے سرفرازی، دائمی نعمتوں کا حصول اور رحمت والے رب کی قربت جیسی جيزیں بھی شامل ہیں۔

فوائد

  • دعا کرنے کے لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جامع ترین دعاؤں کا انتخاب کرنا مستحب ہے۔
  • کامل ترین طریقہ یہ ہے کہ انسان دعا کرتے وقت دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

2 ایک بار

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ الْخَيْرِ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الشَّرِّ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ النَّارِ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا

ترجمہ اور حوالہ

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو یہ دعا سکھائی : " اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائیاں مانگتا ہوں، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طالب ہوں، جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے طلب کی ہے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس برائی سے جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ چاہی ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور اس قول و عمل کا بھی، جو جنت سے قریب کر دے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور اس قول و عمل سے، جو جہنم سے قریب کر دے۔ میں تجھ سے سوالی ہوں کہ میرے حق میں کیے گئے ہر فیصلے کو بہتر بنادے۔"

رواه ابن ماجه وأحمد درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو کچھ جامع دعائيں سکھائی ہیں۔ یہ چار دعائيں ہيں :

پہلی دعا : ساری بھلائیوں پر مشتمل ایک دعا : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ الْخَيْرِ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ۔" یعنی اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائیاں مانگتا ہوں، جو قریب وقت کى ہوں اور دور وقت کى ہوں جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم, جنھیں بس تو ہی جانتا ہے۔ اس میں سارے معاملات کو اللہ کے حوالے کر دیا گیا ہے، جو سب کچھ جاننے والا، ہر بات کی خبر رکھنے والا اور رازہائے سربستہ سے واقف ہے، تاکہ وہ مسلمان کی جھولی میں وہی ڈالے جو افضل اور بہتر ہو۔ "وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الشَّرِّ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ۔" یعنی میں تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے، جو قریب زمانہ کى ہوں اور دور وقت کى ہوں، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم۔

دوسری دعا : یہ ایسی دعا ہے جس کے ذریعہ مسلمان دعا میں تجاوز کرنے سے محفوظ رہتا ہے۔ "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ"۔ یعنی اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طالب ہوں، جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے طلب کی ہے، اور میں اس برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ طلب کی ہے۔ اس میں اللہ سے دعا کی گئی ہے کہ وہ دعا کرنے والے کو وہ بھلائياں عطا کرے، جو آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے خود اپنے لیے مانگی ہیں۔ مختلف طرح کی ان دعاؤں کو گنوانے سے گریز کیا گیا ہے، جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مانگی ہيں۔

تیسری دعا : جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے دور رہنے کی دعا، جو ہر مسلمان کا مقصد ومنزل اور اس کے اعمال کى غایت ہے۔ "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ النَّارِ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ۔" یعنی اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور تجھے راضی کرنے والے ہر اس قول و عمل کا بھی، جو جنت سے قریب کر دے اور میں جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور تجھے ناراض کرنے والے ہر اس قول و عمل سے، جو جہنم سے قریب لے جائے۔ تیری مہربانی شامل حال نہ ہو، تو کوئی شخص برے اعمال سے بچ نہيں سکتا۔

چوتھی دعا : اللہ کے ہر فیصلے پر رضامند رہنے کی دعا۔ "وأسألك أن تجعل كل قضاء قضيتَه لي خيرًا۔" میں تجھ سے سوالی ہوں کہ تو اپںے کیے ہوئے ہر فیصلے کو میرے حق میں بہتر بنا دے۔ یہ دراصل راضی بہ رضا رہنے کی دعا ہے۔

فوائد

  • ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے اہل وعیال کو دین اور دنیا کی ایسی باتیں سکھائے، جو ان کے حق میں مفید ہوں، جس طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سکھایا ہے۔
  • بہتر یہ ہے کہ ہر مسلمان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے وارد دعاؤں کو یاد کر کے ان کو پڑھا کرے۔ کیوں کہ یہ جامع ترین دعائیں ہيں۔
  • علما نے اس حدیث کے بارے میں کہا ہے کہ یہ اللہ سے بھلائی مانگنے اور برائی سے پناہ طلب کرنے کے سلسلے میں سب سے جامع دعا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جامع ترین الفاظ کے انتخاب کی جو صلاحیت دی گئی تھی، اس کا یہ ایک بہترین نمونہ ہے۔
  • اللہ کی رحمت کے بعد دخول جنت کا ایک سبب نیک اقوال اور اعمال ہيں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

3 ایک بار

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي -أَو: عَوْرَاتِي- وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي

ترجمہ اور حوالہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : "اللہ کے نبی ﷺ جب صبح اور شام کرتے، تو ان دعاؤں کو پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے : ”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین و دنیا، اہل و عیال اور مال میں عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میری شرم گاہ کی ستر پوشی فرما، مجھے خوف و خطرات سے مامون و محفوظ رکھ۔ اے اللہ! میری حفاظت فرما آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے، بائیں سے اور اوپر سے۔ میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اچانک اپنے نیچے سے اچک لیا جاؤں۔"

رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه وأحمد درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ صبح شام ان دعاؤں کو کبھی نہ چھوڑتے تھے :

(اللهم إني أسألُكَ العافيةَ) اے اللہ! میں تجھ سے، برائیوں، بلاؤں، دنیوی مشکلات، شہوتوں اور دینی فتنوں سے تیری عافیت اور سلامتی کا سوالى ہوں۔ (في الدنيا والآخرة) دنیوی ہوں کہ اخروی، جلدى آنے والی ہوں یا تاخیر سے۔

(اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي) اے اللہ! میں تجھ سے عفو و درگزر اور عیوب سے سلامتی کی دعا کرتا ہوں، خواہ عیوب دین سے متعلق ہوں، جیسے شرک، بدعت اور دیگر معاصی، یا دنیا سے متعلق ہوں‘ جیسے مصائب، اذیتيں اور شرور وفتن، یا اہل و عیال سے متعلق ہوں، جیسے بیوی بچوں اور رشتے داروں سے متعلق، یا پھر مال اور عمل سے سے متعلق ہوں۔

"اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي -أَو: عَوْرَاتِي- وَآمِنْ رَوْعَاتِي"۔ اے اللہ! میرے عیوب، کمیوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈال دے اور میرے گناہ مٹا دے۔ مجھے خوف و خطر سے محفوظ رکھ۔

"اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي"۔ اے اللہ میری حفاظت فرما اور تمام تکلیف دہ چیزوں اور بلاؤں و مصیبتوں کو مجھ سے دور رکھ۔ تمام جہات سے میری حفاظت فرما۔ کیوں کہ مصیبتیں اور آفتیں مذکورہ جہات ہی سے آتی ہيں۔

"وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي"۔ میں اس بات سے تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں کہ نیچے کى جانب سے اچانک میرا مؤاخذہ ہو جائے اورغفلت کی حالت میں ہلاک ہو جاؤں پھر زمین میں دھنسا دیا جاؤں۔

فوائد

  • رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے ان کلمات کی پابندی کرنی چاہیے۔
  • جس طرح انسان کو دین کے معاملے میں اللہ سے عافیت کی دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح دنیا کے معاملے میں بھی عافیت کی دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
  • طیبی کہتے ہيں : چھ جہتوں کا ذکر کیا گیا ہے، کیوں کہ آفتیں انھیں جہتوں سے آتی ہیں۔ نیچے کی جہت کے بارے میں مبالغہ سے کام اس لیے لیا گیا ہے کہ اس جانب سے آنے والی آفت بدترین ہوا کرتی ہے۔
  • ان اذکار کو پڑھنے کا افضل وقت دن کے پہلے حصے میں فجر طلوع ہونے سے لےکر سورج طلوع ہونے تک ہے اور دن کے آخری حصے میں عصر کے بعد سے لے کر سورج ڈوبنے تک ہے۔ اگر کوئی بعد میں بھی پڑھتا ہے، یعنی صبح سورج بلند ہونے کے بعد پڑھتا ہے، تب بھی کافی ہے۔ ظہر کے بعد پڑھتا ہے، تب بھی کافی ہے اور مغرب کے بعد پڑھتا ہے، تب بھی کافی ہے۔
  • جب کوئى دلیل کسى ذکر کے تعلق سے یہ ہو کہ اس کا وقت رات ہی میں معین ہے، جیسے سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتوں کو پڑھنا، تو ایسے ذکر کو رات میں سورج ڈوبنے کے بعد ہی پڑھا جائے گا۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

4 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائيے، جو میں اللہ عز و جل سے مانگوں۔ آپ نے کہا : "اللہ سے عافیت مانگیے۔" جب کچھ دن بیت گئے تو میں دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا : "اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چيز سکھائيے، جو میں اللہ سے مانگوں۔ آپ نے فرمایا : "اے عباس! اے رسول اللہ کے چچا! اللہ سے دنیا اور آخرت کی عافیت مانگیے۔"

رواه الترمذي وأحمد درجہ: صحيح لغيره

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا عباس بن عبد المطلب نے آپ سے کوئی ایسی دعا سکھانے کی گزارش کی، جو وہ اللہ سے مانگا کریں۔ چنانچہ آپ نے سکھایا کہ وہ اللہ سے دین، دنیا و آخرت کی آفتوں اور کمیوں سے عافیت اور سلامتی مانگیں۔ عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں کہ کچھ دنوں کے بعد وہ دوبارہ حاضر ہوئے اور کوئی ایسی دعا سکھانے کی گزارش کی، جو اللہ سے مانگا کریں، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے اپنائیت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: اے عباس! اے اللہ کے رسول کے چچا جان! اللہ سے ہر برائی سے چھٹکارے، ہر خیر کے حصول اور دنیا و آخرت کے نفع کے لیے عافیت مانگا کریں۔

فوائد

  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا عباس رضی اللہ عنہ سے دوبارہ سوال کرنے پر اسی جواب کو دوہرانا یہ ثایت کرتا ہے کہ عافیت سب سے بہترین چيز ہے، جو بندہ اپنے رب سے مانگ سکتا ہے۔
  • عافیت کی فضیلت اور اس بات کا بیان کہ عافیت دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں کا سرچشمہ ہے۔
  • صحابہ زیادہ سے زیادہ علم وخیر کے حصول کے خواہاں ہوا کرتے تھے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

5 ایک بار

اللهم إني أسألك بأني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت، الأحد الصمد، الذي لم يلد، ولم يولد، ولم يكن له كفوًا أحد

ترجمہ اور حوالہ

بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو یہ کلمات کہتے سنا:”اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ“ اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو تنہا اور ایسا بے نیاز ہے، جس نے نہ جنا ہے، نہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہے۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا:”اس نے اللہ سے اس کا وہ نام لے کر مانگا ہے کہ جب اس سے کوئی یہ نام لے کر مانگتا ہے، تو عطا کرتا ہے اور جب کوئی دعا کرتا ہے، تو قبول فرماتا ہے“۔

اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

یہ عظیم دعا مانگتے ہوئے آپ ﷺ نے ایک اعرابی کو سنا، وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ اختیار کررہا تھا، جو کہ اسمِ اعظم اور اللہ کی توحید پر مشتمل ہے کہ وہ اکیلا اور بے نیاز ہے، لوگ اس سے اپنی ضرورتیں مانگتے ہیں، اس کی کوئی اولاد نہیں، اس لیے کہ اس کا کوئی مثل نہیں، وہ ہر ایک سے مستغنی ہے، نہ وہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہے۔ کوئی اس کی ذات، صفات اور افعال میں اس کے مشابہ نہیں۔

یہ وہ عظیم معانی ہیں جو توحید کی اصل اور بنیاد کہلاتی ہیں اور جنھوں نے اس دعا کو عظیم دعاؤوں میں سے بنا دیا۔ جو بھی بندہ اس کے ذریعے اللہ سے دعا مانگتا ہے اللہ اسے جو مانگے عطا کرتا ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

سوالات

اس صفحے پر کیا ہے؟

جامع دعائیں: ہر ایک عربی میں، اپنے ترجمے، ماخذ حدیث، درجے اور شرح کے ساتھ۔

ترجمے کہاں سے لیے گئے ہیں؟

HadeethEnc.com سے، جو ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ہر حدیث بالکل ویسے ہی دکھائی جاتی ہے جیسے وہاں شائع ہوئی، اپنے حوالے اور درجے کے ساتھ، اور اصل کا لنک بھی دیا جاتا ہے۔

کیا مجھے روزانہ یاد دہانی مل سکتی ہے؟

جی ہاں۔ اینڈرائیڈ کے لیے مفت قبس ایپ آپ کو ہر روز صبح و شام کے اذکار یاد دلاتی ہے اور اس میں یہی کاؤنٹر موجود ہے۔