رات کی نماز (تہجد) کی دعائیں

وہ دعائیں جو نبی کریم ﷺ رات کو نماز کے لیے کھڑے ہو کر کرتے تھے۔

1 ایک بار

اللهم ربَّنا لك الحمدُ، أنت قَيِّمُ السموات والأرض، ولك الحمدُ أنت ربُّ السموات والأرض ومَن فيهنَّ، ولك الحمدُ أنت نورُ السموات والأرض ومن فيهنَّ، أنت الحقُّ، وقولُك الحقُّ، ووعدُك الحقُّ، ولقاؤك الحقُّ، والجنةُ حقٌّ، والنارُ حقٌّ، والساعةُ حقٌّ، اللهم لك أسلمتُ، وبك آمنتُ، وعليك توكَّلتُ، وإليك خاصمتُ، وبك حاكمتُ، فاغفر لي ما قدَّمتُ وما أخَّرتُ، وأسررتُ وأعلنتُ، وما أنت أعلم به مني، لا إلهَ إلا أنت

ترجمہ اور حوالہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: ”اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكَ الْحَمْدُ لَكَ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ فِيهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏أَنْتَ الْحَقُّ، ‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏‏وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، ‏‏‏‏‏‏وَلِقَاؤُكَ الحَقُّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّارُ حَقٌّ،‏‏‏‏ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ خَاصَمْتُ وَبِكَ حَاكَمْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ“ اے اللہ، اے ہمارے رب! ہر طرح کی تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے، تو آسمانوں اور زمین کا سنبھالنے والا ہے۔ تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔تو آسمانوں اور زمین اور ان میں بسنے والی تمام مخلوقات کا پروردگار ہے۔ تمام تعریفیں تجھے ہی زبیا ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود چیزوں کا نور ہے۔ تو حق ہے، تیرا فرمان حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، دوزخ حق ہے اور قیامت حق ہے۔ اے اللہ! میں تیرے ہی لیے تابع ہوا اور تجھی پر میں ایمان لایا، اور تجھی پر میں نے بھروسہ کیا، اور تیری مدد کے ساتھ ہی میں نے (دشمن سے) جھگڑا کیا اور تیری ہی طرف میں فیصلہ لے کر آیا۔ پس تو مجھے معاف فرما دے جو کچھ میں نے پہلے کیا اور جو کچھ بعد میں کیا، جو میں نے پوشیدہ کیا اور جو کچھ سرِ عام کیا اور جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔

متفق علیہ درجہ: صحیح

شرح

نبی ﷺ جب رات کی نماز (تہجد) کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر تحریمہ کے بعد فرماتے: ”اے اللہ، اے ہمارے رب! ہر طرح کی تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے“ یعنی تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے واجب ہیں اور وہی ان کا حق دار ہے۔ چنانچہ وہ اپنی صفات اور اپنے اسماء پر، اپنی نعمتوں اور اپنے احسانات پر، اپنی تخلیق اور اپنے افعال پر اور اپنے امر اور حکم پر لائقِ تعریف ہے، نیز وہی اول و آخر میں اور ظاہر و باطن میں لائقِ ستائش ذات ہے۔

پھر آپ فرماتے: ”تو آسمانوں اور زمین کا سنبھالنے والا ہے“ یعنی تو ہی وہ ذات ہے جس نے ان آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود دے کر قائم کیا اور تو ہی ہے جو ان کی اس طرح سے دیکھ بھال کرتا ہے کہ یہ درست اور اپنی حالت پر قائم رہتے ہیں۔ پس تو ہی خالق و رازق، مالک و مدبر اور زندگی و موت دینے والا ہے۔

پھر فرماتے: ”تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور ان میں بسنے والی تمام مخلوقات کا پروردگار ہے“ یعنی تو ان دونوں کا اور ان میں جو کچھ ہے سب کا مالک ہے، تو جیسے چاہتا ہے ان میں تصرف کرتا ہے اور تو ہی ان کو عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔ پس بادشاہت صرف تیرے لیے ہےاور تیرے ساتھ اس میں کوئی شریک نہیں اور نہ ہی کوئی اور مدبر ہے۔ تو با برکت اور بلند ہے۔

پھر فرماتے: ”تمام تعریفیں تجھے ہی زبیا ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود تمام مخلوقات کا نور ہے“ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ نور ہے اور اپنے اس نور کے ذريعہ وہ اپنے مخلوق سے مستور ہے۔ اور اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو منور کرنے والا ہےاور ان میں بسنے والوں کو راہ سجھاتا ہے۔ اللہ تعالی سے صفتِ نور کی نفی کرنا یا اس کی تاویل کرنا کسی بھی طورپر درست نہیں ہے۔

پھر فرماتے: ”تو حق ہے“ حق اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم اور اس کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ پس اللہ اپنی ذات اور صفات میں حق ہے۔ وہ واجب الوجود ہے (ایسا موجود کہ جس کا وجود ضروری اور کسی پیدا کرنے والے سے بے نیاز ہے) اور اس کی صفات کامل ہیں، اس کا وجود اس کی ذات کے لوازم میں سے ہے اور ہر شے کا وجود اللہ ہی کے ذريعہ ہے۔

پھر فرماتے: ”تیرا فرمان حق ہے“ یعنی تو نے جو کچھ کہا وہ سچ، حق اور عدل ہے۔ اس میں آگے پیچھے کسی بھی طرف سے باطل کے در آنے کی گنجائش نہیں، نہ اس کی خبر میں، نہ اس کے حکم اور اس کی تشریع میں اور نہ ہی اس کے وعدے اور وعید میں۔

پھر فرماتے: ”تیرا وعدہ حق ہے“ یعنی تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ تو نے جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور ویسے ہی ہو کر رہے گا جیسے تو نے وعدہ کیا ہے۔ اس ميں نہ ہی وعدہ خلافی کی گنجائش ہے اور نہ ہی کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے۔

پھر فرماتے: ”تیری ملاقات حق ہے“ یعنی بندے ضرور تجھ سے ملاقات کریں گے اور تو ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ملاقات میں اللہ سبحانہ تعالی کی رؤیت بھی شامل ہے۔

پھر فرماتے: ”جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے“ یعنی دونوں ثابت و موجود ہیں جیسا کہ تو نے بتایا ہے کہ یہ دونوں ان کے اندر جانے والوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ دونوں دار البقاء (ہمیشہ رہنے والے) ہیں اور یہی دونوں تمام بندوں کا آخری ٹھکانہ ہیں۔

پھر فرماتے: ”قیامت حق ہے“ یعنی روز قیامت کا آنا حق ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ یہ ضرور آ کر رہے گی۔ یہ دنیا کا اختتام اور آخرت کی ابتدا ہے۔

”اے اللہ میں تیرا تابع فرمان ہوا“ یعنی میں تسلیم و رضا کے ساتھ تیرے حکم کا مطیع و فرماں بردار ہوں۔

”میں تجھ پر ایمان لایا“ یعنی میں نے تیری اور تو نے جو کچھ نازل کیا اس کی تصدیق کی اور اس کے تقاضے پر عمل کیا۔

”میں نے تجھی پر توکل کیا“ یعنی میرا بھروسہ تجھی پر ہے اور میرے تمام معاملات تیرے سپرد ہیں۔

”تیری مدد کے ساتھ ہی میں نے جھگڑا کیا“ یعنی تو نے مجھے جو دلائل دیے ہیں ان کے ساتھ میں نے مخالفِ حق سے بحث کیا اور اس پر غلبہ پالیا۔

”تیری ہی طرف میں فیصلہ لے کر آیا“ یعنی جس نے بھی حق کو قبول کرنے سے انکار کیا اور اسے تسلیم نہیں کیا، اس کا معاملہ میں تیری بارگاہ میں لے کر آیا اور اپنے اور اس کے مابین تجھی کو فیصل بنایا اور کسی بھی طاغوت جیسے خود ساختہ قانون، یا کاہن یا ایسے ہی دیگر شرعاً باطل ذرائع سے فیصلہ کرانے سے گریز کیا جن سے لوگ اپنے فیصلے کراتے ہیں۔

”پس تو مجھے معاف فرما دے جو کچھ میں نے پہلے کیا اور جو کچھ بعد میں کیا، جو میں نے پوشیدہ کیا اور جو کچھ سرِ عام کیا اور جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے“ یعنی میرے وہ تمام گناہ معاف فرما جن کا میں مرتکب ہوا ہوں اور جن کا میں آگے بعد میں مرتکب ہوں گا، اور اس میں سے جو کچھ تیرے کسی مخلوق کے سامنے ظاہر ہیں اور جو ان سے چھپے ہوئے ہیں اور تیرے علاوہ انہیں کوئی نہیں جانتا۔

پھر آپ ﷺ اپنی دعا کا اختتام اپنے ان الفاظ کے ساتھ کیا: ”تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں“چنانچہ میں تیرے سوا کسی اور کی طرف متوجہ نہیں ہوتا کیونکہ تیرے سوا جس کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے اور اس سے دعا کرنا گمراہی اور وبال ہے۔ یہی وہ توحید ہے جسے اللہ کے تمام رسول لے کر آئے اور اللہ تعالی نے اسے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

2 ایک بار

اللهمَّ ربَّ جِبرائيل، ومِيكائيل، وإسرافيل، فاطرَ السماوات والأرض، عالمَ الغيب والشهادة، أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون، اهدني لما اختُلِف فيه من الحق بإذنك، إنَّك تهدي مَن تشاء إلى صراطٍ مستقيمٍ

ترجمہ اور حوالہ

ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اللہ کے نبی ﷺ جب قیام اللیل (تہجد) کے لیے اٹھتے تو اپنی نماز کس دعا سے شروع کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا آپ ﷺ قیام اللیل کرتے تو اپنی نماز اس دعا سے شروع کر تے تھے: ”اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ“ اے اللہ! جبریل ومیکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان اور زمین کے پیدا کر نے والے! غیب اور ظاہر کے جا ننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، فیصلہ فرمائے گا، جن چیزوں میں اختلاف ہے، ان میں اپنی منشاء سے حق کی طرف میری رہنمائی فرما۔ بے شک تو جسے چاہتا ہے اُسے سیدھی راہ دکھلا دیتا ہے۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس دعا کے بارے میں دریافت کیا جس سے نبی ﷺ قیام اللیل میں نماز کا آغاز کیا کرتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی ﷺ جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ ﷺ یہ دعا مانگتے تھے:

’’اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَإِسْرَافِيلَ‘‘: ان تین فرشتوں کی بطور خاص اللہ تعالی کی طرف اضافت کی گئی حالانکہ اللہ تعالی تو ہر شے کا رب ہے۔ ایسا ان فرشتوں کی بزرگی اوردوسرے فرشتوں پر ان کی فضیلت کی وجہ سے کیا گیا۔ گویا کہ آپ ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام کو سب پر اس لیے مقدم کیا کیونکہ وہ آسمانی کتابوں کے امین ہیں اور تمام دینی امور انہی کے ہاتھ میں ہیں۔ اسرافیل علیہ السلام کو آخر میں ذکر کیا کیونکہ وہ صور پھونکنے والے ہیں اور جس سے قیامت قائم ہو جائے گی۔ میکائیل علیہ السلام کو درمیان میں ذکر فرمایا کیونکہ وہ بارش و روئیدگی وغیرہ جیسی ان تمام اشیاء کے نگران ہیں جن کا تعلق رزق کی ان تمام شکلوں کے ساتھ ہے جن پر دنیا کا مدار ہے۔

’’فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ‘‘: یعنی انہیں عدم سے وجود بخشنے والے اور انہیں پیدا کرنے والے۔

’’عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ‘‘: یعنی جو کچھ انسانوں کی نگاہوں سے اوجھل ہے اور جو کچھ ان کے سامنے ہے سب کو جاننے والے۔

’’أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ‘‘: یعنی دنیا میں جن دینی امور میں لوگ اختلاف کرتے ہیں ان میں تو ان کے مابین فیصلہ کرے گا۔

’’اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ‘‘: لوگ دین و دنیا کے جن امور میں اختلاف میں پڑے ہیں ان میں اپنی توفیق سے اور اپنی طرف سے آسانی پیدا فرماتے ہوئے میری حق اور راہ راست کی طرف رہنمائی فرما۔

’’إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ‘‘: تو جسے چاہتا ہے اسے حق اور راہ راست کی طرف ہدایت دیتا ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

3 ایک بار

اللهم اجعل في قلبي نورا، وفي بَصري نورا، وفي سمعي نورا، وعن يميني نورا، وعن يساري نورا، وفَوْقِي نورا، وتحتي نورا، وأمامي نورا، وخلفي نورا، واجعل لي نورا

ترجمہ اور حوالہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (ایک مرتبہ) میں نے میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری، تو نبی ﷺ اٹھے اور قضائے حاجت سے فارغ ہوکر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر سو گئے۔ پھر نیند سے بیدار ہوئے، مشکیزے کے پاس آئے، اس کا منہ بند کھولا، درميانہ وضو کیا، یعنی زیادہ پانی بھی نہیں بہایا اور اسے (تمام اعضا تک) پہنچا بھی دیا۔ پھر نماز پڑھنے لگے۔ میں آہستگی کے ساتھ اٹھا، کیوں کہ مجھے یہ ناپسند تھا کہ آپ ﷺ یہ سمجھیں کہ میں آپ پرﷺ نظریں لگائے بیٹھا تھا۔ میں نے وضو کیا۔ آپ ﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ ﷺ نے میرے کان سے مجھے پکڑا اور گھما کر اپنی دائیں جانب کر دیا۔ آپ ﷺ کی نماز تیرہ رکعت میں مکمل ہوئی۔ پھر آپ ﷺ لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے سانسوں کی آواز آنے لگی۔ آپ ﷺ جب سوتے تھے تو آپ ﷺ کے سانس کی آواز آیا کرتی تھی۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو نماز کا وقت ہونے کی اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور (اس کے لیے نیا) وضو نہیں کیا۔ آپ ﷺ اپنی دعا میں یہ کلمات کہہ رہے تھے: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْنِي نُورًا“ اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میری نظر میں نور پیدا فرما، میرے کان میں نور پیدا فرما، میری دائیں طرف نور پیدا کر، میری بائیں طرف نور پیدا کر، میرے اوپر نور پیدا کر، میرے نیچے نور پیدا کر، میرے آگے نور پیدا کر، میرے پیچھے نور پیدا کر اور مجھے نور عطا فرما۔

متفق علیہ درجہ: صحیح

شرح

اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کر رہے ہیں کہ وہ اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات کو سوئے، جو نبی ﷺ کی زوجہ ہیں۔ ”فأتى حاجَتَه“ یعنی آپ ﷺ بول و براز وغیرہ سے فارغ ہوئے۔

”فغسل وجهه ويديه، ثم نام“ قضائے حاجت کے بعد آپ ﷺ نے حصول بشاشت کے لیے اپنے چہرۂ انور کو اور صفائی کے لیے اپنے ہاتھوں کو دھویا۔ ”ثم قام، فأتى القِرْبَة فأطْلَق شِنَاقَهَا“ یعنی نبی ﷺ نیند سے بیدار ہونے کے بعد مشکیزے کی طرف گئےاور اس رسی کو کھولا، جس سے مشکیزے کا منہ باندھا جاتا ہے؛ تاکہ اس میں موجود پانی وغیرہ محفوظ رہے۔

”ثم توضأ“ یعنی جیسے آپ نماز کے لیے وضوکرتے تھے، ویسے وضو فرمایا۔ ”وضُوءًا بَيْن وضُوءَيْنِ“ یعنی ایسا وضو کیا، جس میں نہ تو کوئی کمی تھی اور نہ مبالغہ، بلکہ یہ دونوں کے درمیان تھا۔ اسی لیے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”لم يُكْثِرْ“ یعنی تین تین دفعہ دھونے سے کم ہی پر آپ ﷺ نے اکتفا کر لیا۔ ایسا کرنا جائز ہے، اگرچہ سنت تین دفعہ دھونا ہے۔ ”وقد أَبْلَغَ“ اور اچھی طرح سے وضوکیا بایں طور کہ پانی کو ہر اس مقام تک پہنچایا، جہاں اس کا پہنچانا ضروری تھا اور اتنا کرنا واجب ہے۔

”فصلَّى“ یعنی رات کی نماز (نماز تہجد) ادا کی۔

”فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ“ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کو یہ سب کچھ کرتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ پھر وہ دراز ہو گئے اور جس حالت میں تھے اس کے برعکس ظاہر کیے، تاکہ نبی ﷺ کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ آپ ﷺ کو دیکھ رہے تھے۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں: "كراهية أن يرى أني كنت أَتَّقِيهِ" (یعنی مجھے یہ ناپسند تھا کہ آپ ﷺ یہ خیا ل کریں کہ) میں آپ ﷺ کو تاک رہا تھا اور آپ ﷺ کے افعال کو دیکھ رہا تھا۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دراز ہونے اور ایسا ظاہر کرنے کا مقصد یہی تھا۔ انھوں نے ایسا اس لیے کیا کہ عام طور پر انسان جب اپنے گھر میں اکیلا ہوتا ہے، تو کچھ ایسے افعال کرتا ہے، جن پر دوسروں کا مطلع ہونا وہ ناپسند کرتا ہے۔ یا پھر ان کو یہ ڈر لاحق ہو گیا کہ کہیں ان کو اپنی طرف دیکھتا ہوا پا کر نبی ﷺ اپنے کسی عمل کو چھوڑ نہ دیں، جیسا کہ آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ ﷺ اپنے بعض اعمال کو اس اندیشے کے پیش نظر چھوڑ دیا کرتے تھے کہ کہیں وہ آپ ﷺ کی امت پر فرض نہ ہو جائیں۔

چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے اس فعل کے ذریعے سے اپنے آپ کو مخفی رکھنا چاہا؛ تاکہ انھیں آپ ﷺ کے بیدار ہونے سے لے کر نماز فجر کے لیے بلانے والے کے آنے تک کے تمام امور کا تفصیلی علم ہو جائے۔ ایسا انھوں نے اصل ماخذ (یعنی نبی ﷺ) سے حصول علم کی حرص میں کیا تھا۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے وضو کیا۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: میں نے اسی طرح وضوکیا، جیسے آپ ﷺ نے کیا تھا۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے: میں نے اٹھ کر وہی کچھ کیا، جو آپ ﷺ نے کیا تھا۔

”فقام يصلي فَقُمْتُ عن يساره“ یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جب دیکھا کہ آپ ﷺ نے نماز شروع کر دی ہے، تو انھوں نے بھی وضو کیا اور نبی ﷺ کے ساتھ جا کر مل گئے۔ تاہم وہ نبی ﷺ کی بائیں جانب کھڑے ہوئے۔

”فأخذ بِأُذُنِي“ یعنی نبی ﷺ نے ان کا کان پکڑ کر انھیں بائیں جانب سے گھما کر دائیں جانب کر دیا۔ ایک اور روایت میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑ کر اسے مروڑنے لگے۔ آپ ﷺ نے پہلے اپنا ہاتھ رکھا؛ تا کہ کان کو پکڑ سکیں یا (اتفاقا) ہاتھ کان ہی پر پڑا تھا یا پھر آپ ﷺ نے ایسا اس لیے کیا کہ اس کی وجہ سے ان پر برکت کا نزول ہو اور وہ اس مجلس میں نیز اس کے علاوہ دیگر مجالس میں آپ ﷺ کے تمام افعال مبارکہ کو یاد رکھ سکیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے کان کو مروڑا۔ آپ ﷺ نے ایسا یا تو سنت کی مخالفت پر تنبیہ کے لیے کیا یا پھر اس لیے کیا تا کہ وہ آپ ﷺ کے جملہ افعال کو ذہن نشین کرنے کے لیے اور زیادہ چاق و چوبند ہو جائیں یا پھر آپ ﷺ نے ان پر طاری اونگھ کے آثار کو دور کرنے کے لیے یا انھیں بائیں طرف سے دائیں طرف گھمانے کے لیے ایسا کیا یا ایسا کرنے سے مقصود ان کے ساتھ اظہار انسیت تھا، کیوں کہ یہ سب کچھ رات کے اندھیرے میں ہو رہا تھا، جیسا کہ بخاری شریف میں موجود ایک روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی تصریح کی ہے۔ یا پھر آپ ﷺ نے ایسا انھیں بیدار رکھنے کے لیے یا ان سے اظہار محبت کے لیے کیا تھا؛ کیوں کہ کم سنی کی وجہ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حالت اس کا تقاضا کرتی تھی۔

”فَأَدَارَنِي عن يمينه“ یعنی آپ ﷺ نے انھیں اپنی بائیں جانب سے گھما کر دائیں طرف کر دیا۔ جب امام کے ساتھ ایک ہی مقتدی ہو، تو اس کے کھڑے ہونے کی جگہ یہی ہوتی ہے۔

”فَتَتَامَّت صلاته“ اس کی تفسیر میں انھوں نے کہا: ”ثلاث عشرة ركعة“ یعنی نبی ﷺ نے اس رات بشمول وتر کی ایک رکعت کے تیرہ رکعتیں پڑھیں، جن میں آپ ﷺ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے، جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں ہے: ”آپ ﷺ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے“۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم دونوں میں موجود ایک اور روایت میں ہے: ”پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں ، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں اور پھر وتر پڑھا“، يعنی دو ركعتوں سے الگ ایک رکعت پڑھی، کیوں کہ آپ ﷺ نے چھ دفعہ دو دو رکعتیں پڑھی تھیں اور ہر دو رکعتوں کے مابین فاصلہ کیا تھا۔ اس طرح وتر کی ایک رکعت کے علاوہ بارہ رکعتیں ہو گئیں اور آپ ﷺ کی مکمل نماز تیرہ رکعتیں بن گئی۔ چنانچہ وترکی صرف ایک ہی رکعت ہوئی۔

”ثم اضطجع فنام حتى نَفَخ“ یعنی آپ ﷺ آواز کے ساتھ سانس لے رہے تھے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کو آپ کے سانس نکلنے کی آوز سنائی دے رہی تھی۔ آپ ﷺ جب سویا کرتے تھے تو آپ ﷺ کے سانس کی آواز آیا کرتی تھی۔

”فَآذَنَهُ بلال بالصلاة“ یعنی صبح کی نماز کی آپ ﷺ کواطلاع دی۔

آپ ﷺ نے پہلے فجر کی سنتیں پڑھیں اور پھر مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور جماعت کے ساتھ صبح کی نماز ادا کی۔

”آپ ﷺ نے دوبارہ وضونہیں کیا“ بلکہ اپنے پہلے وضو پر ہی اکتفا کیا۔ یہ نبی ﷺ کے خصائص میں سے ہے۔ یعنی آپ ﷺ کی نیند ناقض وضو نہیں تھی؛ کیوں کہ آپ ﷺ کی آنکھیں تو سوتی تھیں، لیکن دل نہیں سوتا تھا۔ چنانچہ اگر کوئی وضو توڑنے والی شے خارج ہوئی ہوتی، تو آپ ﷺ کو پتہ چل جاتا، بہ خلاف دیگر لوگوں کے۔ اسی لیے جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے جواب دیا: اے عائشہ! میری آنکھیں تو سو جاتی ہیں، لیکن میرا دل جاگتا رہتا ہے۔

اپنی دعا کے اندر آپ ﷺ یہ فرمایا کرتے تھے: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْنِي نُورًا“ اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میری نظر میں نور پیدا فرما، میرے کان میں نور پیدا فرما، میری دائیں طرف نور پیدا کر ، میری بائیں طرف نور پیدا کر ، میرے اوپر نور پیدا کر ، میرے نیچے نور پیدا کر، میرے آگے نور پیدا کر ، میرے پیچھے نور پیدا کر اور مجھے نور عطا فرما۔

آپ ﷺ نے اپنے اعضا اور اپنی تمام جہات کے لیے نور طلب کیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ حق واضح اور روشن ہو جائے اور اس کی طرف راہ نمائی حاصل ہو۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے تمام اعضا، اپنے جسم مبارک، اپنے تمام تصرفات و تحرکات اور اپنی چھے جہات میں نور عطا کیے جانے کی دعا کی؛ تا کہ ان میں سے کوئی بھی شے نور حق سے عاری نہ رہ جائے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

4 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ مجھے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : ’’رب تعالی بندے کے سب سے نزدیک رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے۔ لہذا اگر تم ان لوگوں میں شامل ہو سکتے ہو، جو اس وقت اللہ تعالی کو یاد کرتے ہیں، تو ہو جاؤ۔‘‘

رواه أبو داود والترمذي والنسائي درجہ: صحيح

شرح

نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری تہائی حصے میں ہوتا ہے۔ اس لیے ہر شخص کی کوشش ہونی چاہیے کہ رات کے اس حصے میں جاگ کر اللہ کی عبادت کرے، نماز پڑھے، ذکر و اذکار میں مشغول رہے اور توبہ کرے۔

فوائد

  • رات کے آخری حصے میں ذکر کرنے کی ترغیب۔
  • ذکر، دعا اور نماز کے اوقات‘ فضل و شرف کے معاملے میں ایک دوسرے سے متفاوت ہوتے ہیں۔
  • میرک، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: "رب اپنے بندے سے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری تہائی حصے میں ہوتا ہے"۔ اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے قول: "بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے"۔ کے درمیان فرق کے بارے میں کہتے ہیں: یہاں مراد یہ بیان کرنا ہے کہ رب اپنے بندے سے سب سے قریب کب ہوتا ہے جو کہ رات کا آآخرى تہائى حصہ ہے۔ جب کہ وہاں مراد یہ بیان کرنا ہے کہ بندہ کس حالت میں اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، جو کہ سجدہ کى حالت ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

5 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”رات میں ایک گھڑی ایسی ہے جو کسی مسلمان کو میسر آجائے اور وہ اس میں دنیا اور آخرت کے معاملے میں کسی بھلائی کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سےضرور نوازتا ہے، اور یہ گھڑی ہر رات ہوتی ہے“۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

ہر رات میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔ جو اگر کسی بندۂ مسلم کو مل جائے اور وہ اس میں حرام کے ماسوا کوئی دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول فرمائے گا۔ اور یہ رات کا آخری تہائی حصہ ہے، جیساکہ دوسرے صحیح نصوص میں وارد ہوا ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

سوالات

اس صفحے پر کیا ہے؟

تہجد کی دعائیں: ہر ایک عربی میں، اپنے ترجمے، ماخذ حدیث، درجے اور شرح کے ساتھ۔

ترجمے کہاں سے لیے گئے ہیں؟

HadeethEnc.com سے، جو ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ہر حدیث بالکل ویسے ہی دکھائی جاتی ہے جیسے وہاں شائع ہوئی، اپنے حوالے اور درجے کے ساتھ، اور اصل کا لنک بھی دیا جاتا ہے۔

کیا مجھے روزانہ یاد دہانی مل سکتی ہے؟

جی ہاں۔ اینڈرائیڈ کے لیے مفت قبس ایپ آپ کو ہر روز صبح و شام کے اذکار یاد دلاتی ہے اور اس میں یہی کاؤنٹر موجود ہے۔