سب سے افضل ذکر: سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ

بڑے اجر والے مختصر اذکار، دن کے کسی بھی وقت کے لیے۔

1 ایک بار

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

ترجمہ اور حوالہ

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : "سب سے افضل ذکر "لا الہ الا اللہ" اور سب سے افضل دعا "الحمد للہ" ہے۔"

رواه الترمذي والنسائي في الكبرى وابن ماجه درجہ: حسن

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں بتا رہے ہیں کہ سب سے افضل ذکر "لا الہ الا اللہ" ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہيں ہے۔ جب کہ سب سے افضل دعا "الحمد للہ" ہے، جو اس بات کا اعتراف ہے کہ اصل منعم اللہ سبحانہ و تعالی ہے، جو کامل و جمیل وصف کا مستحق ہے۔

فوائد

  • کلمۂ توحید کے ذریعے اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرنے اور حمد و ثنا کے ذریعے بہت زیادہ دعا کرنے کی ترغیب۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

2 ایک بار

سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ

ترجمہ اور حوالہ

سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اللہ کے نزدیک سب سے محبوب کلام چار ہيں؛ سبحان اللہ (اللہ پاک ہے)، الحمد للہ (ساری تعریف اللہ کی ہے)، لا الہ الا اللہ (اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہيں ہے) اور اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے)۔ تم ان میں سے جسے چاہو پہلے کہو، حرج کی کوئی بات نہیں ہے۔"

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ کے نزدیک سب سے محبوب کلام چار ہيں:

سبحان اللہ : اس کا مطلب ہے اللہ کو ہر نقص اور کمی سے پاک قرار دینا۔

الحمد للہ : اس کا مطلب ہے اللہ کو ہر قسم کے کمال سے متصف کرنا اور ساتھ میں اس سے محبت بھی رکھنا اور اس کی تعظیم بھی کرنا۔

لا الہ الا اللہ : یعنی اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہيں ہے۔

اللہ اکبر : یعنی اللہ ہر چیز سے زیادہ طاقت ور، عظیم اور عزت والا ہے۔

ساتھ میں آپ نے یہ بھی بتایا کہ ان کلمات کی فضیلت اور ان کے ثواب کا حصول ان کو بولتے وقت ان کی ترتیب قائم رکھنے کا تقاضا نہيں کرتا۔

فوائد

  • شریعت اسلامی ایک آسان شریعت ہے۔ اسی وجہ سے اس نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ انسان ان چار کلمات میں سے جسے چاہے پہلے پڑھے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

3 ایک بار

سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ

ترجمہ اور حوالہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر بڑے ہلکے ہیں، میزان میں بڑے وزنی ہیں، رحمٰن کو بڑے محبوب ہیں۔ وہ دونوں کلمے ہيں : ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ“۔

متفق عليه درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دو ایسے جملے بتائے ہيں، جو انسان آسانی سے اور ہر حالت میں بول سکتا ہے، جن کا اجر میزان میں بڑا بھاری ہے اور ہمارا رحمت والا رب ان کو محبوب رکھتا ہے۔ یہ دو جملے ہيں :

”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ“ کیوں کہ ان کے اندر اللہ کی عظمت اور اس کے کمال کو بیان کیا گیا ہے اور اللہ تبارک وتعالی کو سارے نقائص سے پاک بتایا گیا ہے۔

فوائد

  • سب سے عظیم ذکر یہ ہے کہ اس میں اللہ کی پاکی اور اس کی تعریف دونوں ہوں۔
  • بندوں پر اللہ کی وسیع رحمت کا بیان کہ وہ تھوڑے سے عمل کا بدلہ بہت بڑا دیتا ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

4 ایک بار

سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ

ترجمہ اور حوالہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ“ (اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کی ہیں، اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے) کہنا میرے نزدیک ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج نکلتا ہے۔

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ ان عظیم کلمات کے ذریعے اللہ کا ذکر کرنا اللہ اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے, اور وہ یہ ہیں۔

"سبحان الله" : ان کلمات کے ذریعے تمام نقائص سے اللہ کی پاکی بیان کی جاتی ہے۔

"الحمد لله" : ان کے ذریعے اللہ تعالی کو اس کی محبت اور تعظیم کے ساتھ اوصاف کمال سے متصف کیا جاتا ہے۔

"لا إله إلا الله" : یعنی اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہيں ہے۔

"الله أكبر" : اللہ ہر چیز سے بڑا اور جلیل القدر ہے۔

فوائد

  • اللہ کے ذکر کی ترغیب اور اس بات کا بیان کہ اللہ کا ذکر ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔
  • اللہ کے ذکر کے اجر و ثواب کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے کی ترغیب۔
  • دنیا سے لطف اندوز ہونے کا موقع بہت مختصر ہے اور اس کی من موہک چیزيں فنا ہو جانے والی ہیں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

5 100 بار

سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ

ترجمہ اور حوالہ

ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دن میں سو بار ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ“ پڑھا، اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“

متفق عليه درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے دن میں سو بار "سبحان اللہ و بحمدہ" کہا، اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہيں اور مٹادیے جاتے ہیں، چاہے وہ سمندر میں موجوں اور لہروں کے وقت ظاہر ہونے والے سفید جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔

فوائد

  • یہ اجر و ثواب دن میں لگاتار یہ دعا پڑھنے والے اور وقفے وقفے سے پڑھنے والے دونوں کو حاصل ہوگا۔
  • تسبیح کا مطلب ہے: اللہ کو تمام نقائص سے پاک ماننا۔ اور حمد کا مطلب ہے: اسے ہر اعتبار سے کامل ماننا اور ساتھ میں اس سے محبت بھی رکھنا اور اس کی تعظیم بھی کرنا۔
  • اس حدیث میں گناہوں کی معافی سے مراد صغیرہ گناہوں کی معافی ہے۔ کبیرہ گناہوں کے لیے توبہ ضروری ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

6 ایک بار

سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ

ترجمہ اور حوالہ

جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ کہے گا اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگایا جائے گا“۔

اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

نبی ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتے ہوئے ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ“ کہتا ہے اس کے لیے ہر دفعہ کہی گئی تسبیح کے بدلے میں جنت میں کھجور کا ایک پودا لگا دیا جاتا ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

7 ایک بار

لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ

ترجمہ اور حوالہ

سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : "ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے ایسا کلام سکھائیے، جسے میں پڑھتا رہوں۔ آپ نے فرمایا: "یہ کہا کرو: ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ۔“ (اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ بڑائی میں سب سے بڑا ہے اور بے حد و حساب تعریف اللہ کی ہے، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، جو کہ تمام جہانوں کا رب ہے، گناہ سے بچنے اور نیکی کے کام کرنے کی طاقت اللہ ہی سے مل سکتی ہے، جو غالب حکمت والا ہے) اس شخص نے کہا : ان سب کلمات کا تعلق تو میرے رب سے ہے، میرے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "یہ کہو: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي“ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما)"۔

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

دیہات سے آئے ہوئے ایک شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ انھیں ایک ذکر سکھا دیں، جسے وہ پڑھا کریں۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے کہا: تم کہو : "لا إله إلا الله وحده لا شريك له" آپ نے آغاز توحید کی گواہی سے کیا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہيں ہے۔ "الله أكبر كبيرًا" یعنی اللہ ہر چيز سے بڑا اور عظیم ہے۔ "والحمد لله كثيرًا" یعنی اللہ کی بہت زیادہ تعریف ہے، اس کی صفات وافعال اور اس کى بے شمار نعمتوں پر۔ "سبحان الله رب العالمين" یعنی اللہ تعالى ہر طرح کی کمی سے پاک اور منزہ ہے۔ "لا حول ولا قوة إلا بالله العزيز الحكيم" یعنی ایک حال سے دوسرے حال میں جانا اللہ کی مدد اور توفیق کے بغیر ممکن نہيں ہے۔ اس شخص نے کہا : یہ کلمات میرے رب کے لیے ہیں۔ یعنی اس کے ذکر اور تعظیم کے لیے ہیں۔ میں اپنے لیے دعا کن الفاظ میں کروں؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے کہا : تم کہو : "اللهم اغفر لي" یعنی میرے گناہوں کو مٹا دے اور ان پر پردہ ڈال دے۔ "وارحمني" یعنی میرے دینی اور دنیوی مصالح اور منافع کو بہم پہونچا کر مجھ پر رحم کر۔ "واهدني" یعنی بہتر احوال اور صراط مستقیم کی طرف میری رہنمائی فرما۔ "وارزقني" یعنی مجھے حلال مال، صحت اور ہر خیر و عافیت سے نواز۔

فوائد

  • تہلیل، تکبیر، تحمید اور تسبیح کے ذریعے اللہ کا ذکر کرنے کی ترغیب۔
  • دعا سے پہلے اللہ کا ذکر اور اس کی تعریف کرنا مستحب ہے۔
  • مستحب یہ ہے کہ انسان بہترین دعاؤں کے ذریعے اللہ سے دعا مانگے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول ایسی جامع دعاؤں کا انتخاب کرے جو دنیا اور آخرت کی بھلائی پر مشتمل ہوں۔ انسان کو یہ اختیار ہے کہ وہ جو دعا چاہے، کرے۔
  • بندے کو ایسی چيزیں سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے، جو دنیا اور آخرت میں اس کے حق میں مفید ہوں۔
  • مغفرت، رحمت اور روزی طلب کرنے کی ترغیب۔ کیوں کہ یہ خیر کے سرچشمے ہیں۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ کی جانب سے اس بات کی کوشش کہ امت کو ایسی باتیں سکھائی جائيں، جو اس کے حق میں مفید ہوں۔
  • رحمت کا ذکر مغفرت کے بعد اس لیے ہوا ہے کہ تطہیر کا کام مکمل طور پر ہو سکے۔ کیوں کہ مغفرت گناہوں پر پردہ ڈال دیے جانے، ان کو مٹا دیے جانے اور جہنم سے بچا لیے جانے کا نام ہے، جب کہ رحمت مختلف طرح کی خیر سے بہرہ ور کیے جانے اور جنت میں داخلے کی سعادت عطا ہونے کا نام ہے اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

8 ایک بار

يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

ترجمہ اور حوالہ

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ (اپنی دعاؤں میں) کثرت کے ساتھ ”يَاذا الجَلاَلِ والإكْرامِ“ پڑھتے رہا کرو۔

اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

حدیث میں ”ألِظُّوْا“ کے لفظ کے ساتھ حکم دیا گیا ہے جس کا معنی ہے پابندی اور کثرت کے ساتھ یہ دعا مانگو۔ مراد یہ ہے کہ اپنی دعا میں ہمیشہ یہ الفاظ کہو اور انہیں اپنی زبان پر جاری رکھو۔

ان الفاظ میں اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسم اعظم ہے کیونکہ وہ ربوبیت اور الوہیت سے متعلق تمام صفات پر مشتمل ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

9

ترجمہ اور حوالہ

ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ“ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے) کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے (ہاں) میرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، میں ہی سب سے بڑا ہوں، اور جب ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَہ‘‘ (اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے) کہتا ہے، تو آپ نے فرمایا ”اللہ کہتا ہے (ہاں) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور جب کہتا ہے ’’ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ‘‘ (اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں) تو اللہ کہتا ہے، (ہاں) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میرا کوئی شریک نہیں ہے، اور جب کہتا ہے ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے) تو اللہ کہتا ہے ’’کوئی معبود برحق نہیں مگر میں، میرے لیے ہی بادشاہت ہے اور میرے لیے ہی حمد ہے ‘‘ اور جب کہتا ہے ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اور گناہ سے بچنے اور بھلے کام کرنے کی طاقت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے) تو اللہ کہتا ہے (ہاں) میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور گناہوں سے بچنے اور بھلے کام کرنے کی قوت نہیں ہے مگر میری توفیق سے، اور آپ فرماتے تھے جو ان کلمات کو اپنی بیماری میں کہے اور مر جائے تو (جہنم کی) آگ اسے نہ کھائے گی“۔

اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب بندہ ’’لا إله إلا الله، الله أكبر‘‘ کہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’بے شک میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں سب سے بڑا ہوں‘‘۔ جب بندہ کہتا ہے ’’الله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله‘‘، اس پر بھی اللہ تعالی اس کی تصدیق کرتا ہے۔پس جو شخص ’’لا إله إلا الله، ولا حول ولا قوة إلا بالله‘‘ کہہ کر بقیہ ذکر کے ساتھ مر جائے، جہنم کی آگ اسے نہیں کھاتی یعنی یہ انسان پر جہنم کی آگ کے حرام ہونے کا ایک سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اس ذکر (دُعا) کو یاد رکھے اور اپنی بیماری کی حالت میں کثرت سے اسے پڑھتا رہے کہ ان شاء اللہ اس کا خاتمہ بالخیر ہو۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

10

ترجمہ اور حوالہ

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کلمے باقیات صالحات (یعنی باقی رہنے والی نیکیاں) ہیں : ”لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَاَللَّهُ أَكْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إلَّا بِاَللَّهِ“۔

اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ درجہ: یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔

شرح

اس حديث ميں ان الفاظ كے ساتھ ذكر كرنے کی فضیلت کا بیان ہے کیونکہ ان میں اللہ تعالی کی تسبیح، تقدیس اور تعظیم کے معانی پائے جاتے ہیں اور اس لئے بھی کہ ان میں اللہ کے افعال پر اس کی حمد بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ اللہ کی مشیئت کے بغیر بندہ کوئی تدبیر، یا کوئی حرکت نہیں کرسکتا اور نہ اس کی کوئی قوت واستطاعت ہے۔ پس اللہ جل وعلا کی توفیق کے بغیر نہ شر کو دور کرنے کی طاقت ہے اور نہ ہی بھلائی حاصل کرنے کی قوت۔ ان عظیم الشان معانی پر مشتمل یہ کلمات ایسے ہیں جن کا اثر اور فائدہ مومن کے لیے اس کی موت کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

11

ترجمہ اور حوالہ

ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے، ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے، تو (کچھ اعمال کے عوض) اپنا سودا کرتا ہے، پھر یا تو خود كو آزاد کرنے والا ہوتا ہے يا خود کو تباہ کرنے والا"۔

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں بتا رہے ہیں کہ ظاہری طہارت وضو اور غسل سے حاصل ہوتی ہے اور یہ طہارت نماز کے لیے شرط ہے۔ "الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے۔" الحمد للہ در اصل اللہ پاک کی حمد و ثنا بیان کرنے اور اسے صفات کمال سے متصف کرنے سے عبارت ہے۔ قیامت کے دن اس کلمہ کو ترازو پر وزن کیا جائے گا، تو اس سے عمل کو تولا جانے والا ترازو بھر جائے گا۔ "سبحان الله اور الحمد لله" یہ دونوں کلمات ہر قسم کے نقص سے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اسے اس کی جلالت شان کے مطابق کمال مطلق کے وصف سے موصوف کرتے ہیں، جس کے ساتھ اس کی محبت اور اس کی تعظیم بھی ہم رکاب ہوتی ہے۔ یہ دونوں کلمات آسمان وزمین کے درمیان کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ "نماز نور ہے" جو بندے کے دل کو، اس کے چہرے کو، اس کی قبر کو اور اس کی آخرت کو منور کرتی ہے۔ "صدقہ دلیل ہے۔" صدقہ مؤمن کے سچے ایمان والے ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وہ اس منافق سے مختلف ہے، جو صدقہ سے دامن کش رہتا ہے، کیوں کہ وہ اس اجر وثواب کو سچ نہيں جانتا، جس کا وعدہ صدقہ کرنے والے سے کیا گیا ہے۔ "صبر روشنی ہے۔" صبر نفس کو جزع فزع کرنے اور تقدیر پر ناراضگی ظاہر کرنے سے روکنے کا نام ہے۔ ضیا ایسی روشنی کو کہتے ہیں، جس کے ساتھ حرارت اور جلانے کے اوصاف پائے جائیں۔ جیسے کہ سورج کی روشنی۔ صبر کو ضیا اس لیے کہا گیا ہے کہ صبر کرنا ایک مشکل کام ہے اور اس کے لیے نفس سے لڑنے اور اسے خواہشات سے روکنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب انسان صبر سے کام لیتا ہے، تو اس کی راہیں روشن رہتی ہیں اور وہ صحیح راستے پر گامزن رہتا ہے۔ یہاں صبر سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت گزاری پر گام زن رہا جائے، اس کی نافرمانی سے اجتناب کیا جائے دنیاوی مصائب ومشکلات کا مقابلہ پامردی کے ساتھ کیا جائے۔ "قرآن تمہارے حق میں دلیل ہے۔" قرآن انسان کے حق میں دلیل اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اس کی تلاوت کرے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرے۔"یا پھر تمہارے خلاف دلیل ہے۔" قرآن انسان کے خلاف دلیل اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اس کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اس کی تلاوت کرنے سے گریز کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ تمام لوگ جد وجہد کرتے، زمین میں پھیل جاتے اور نیند سے بیدار ہوکر اپنے مختلف مشاغل کی غرض سے گھروں سے نکل جاتے ہیں۔ چنانچہ ان میں سے کچھ لوگ اللہ کی اطاعت پر قائم رہتے ہوئے اپنی جان کو جہنم سے آزاد کر لیتے ہیں، جب کہ کچھ لوگ اس راہ سے بھٹک کر گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہيں، تو اللہ ان کو جہنم میں داخل کرکے ہلاک کردیتا ہے۔

فوائد

  • طہارت کی دو قسمیں ہیں: ظاہری طہارت جو وضو اور غسل سے حاصل ہوتی ہے اور باطنی طہارت جو توحید و ایمان اور عمل صالح سے حاصل ہوتی ہے۔
  • پابندی کے ساتھ نماز پڑھنے کی اہمیت، کیوں کہ نماز بندے کے لیے دنیا میں بھی نور ہے اور قیامت کے دن بھی نور رہے گی۔
  • صدقہ ایمان کی صداقت کی دلیل ہے۔
  • قرآن پر عمل کرنے اور اس کی تصدیق کرنے کی اہمیت، تاکہ قرآن آپ کے حق میں حجت ہو نا کہ آپ کے خلاف۔
  • اگر آپ اپنے نفس کو اطاعت میں مشغول نہیں رکھیں گے تو وہ آپ کو گناہ میں مشغول کر دے گا۔
  • ہر انسان لا محالہ کچھ نہ کچھ عمل کرتا ہے۔ یا تو وہ اطاعت کے ذریعہ اپنے نفس کو آزاد کر لیتا ہے یا گناہ کے ذریعہ اسے ہلاک کر لیتا ہے۔
  • صبر کے لیے تحمل اور احتساب اجر ضروری ہے، جو کہ مشقت آمیز امر ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

12

ترجمہ اور حوالہ

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، اس رات میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا، ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد! اپنی امت کو میری جانب سے سلام کہہ دینا اور انہیں بتا دینا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی (زرخیز) ہے اور اس کا پانی بہت میٹھا ہے۔ جنت ایک چٹیل میدان ہے اور اس میں شجرکاری ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ“ سے ہوتی ہے“۔

رواه الترمذي درجہ: حسن بشواهده

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ اسرا و معراج کی رات آپ کی ملاقات ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے ہوئی، تو انھوں نے آپ سے کہا : اے محمد! اپنی امت کو میرا سلام پہنچا دینا اور ان کو بتا دینا کہ اس کی مٹی بہت اچھی ہے اور اس کا پانی بہت میٹھا ہے۔ اس میں کھارے پن کا شائبہ تک نہیں ہے۔ جنت ایک ہموار، پیڑ پودوں سے خالی اور وسیع و عریض زمین ہے۔ اس کے اندر درخت لگانے کا کام پاکیزہ کلمات کے ذریعے عمل میں آتا ہے۔ یہ پاکیزہ کلمات باقیات صالحات بھی کہلاتے ہیں۔ یہ کلمات ہیں : سُبْحَانَ اللهِ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ، وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ۔ جب جب کوئی مسلمان ان کلمات کا ورد کرتا ہے، تو اس کے لیے جنت میں ایک ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔

فوائد

  • جنت میں کثرت سے پودا لگانے کے لیے ہمیشہ ذکر کرنے کی ترغیب۔
  • امت اسلامیہ کی فضیلت کہ ابراہیم علیہ السلام نے اسے سلام پہنچایا ہے۔
  • ابراہیم علیہ السلام کا امّت محمدیہ ﷺ کو کثرت سے ذکر الہی کرنے کی ترغیب دینا۔
  • طیبی کہتے ہیں : جنت ایک چٹیل میدان ہے۔ اس میں اللہ نے اپنے فضل و کرم سے بندوں کے اعمال کے مطابق درخت اور محل بنا دیے ہيں۔ ہر بندے کو دونوں چيزیں اس کے عمل کے مطابق ملیں گی۔ پھر اللہ ہر بندے کو ان اعمال کی توفیق دیتا ہے، جن کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے، تاکہ وہ ان کا ثواب حاصل کر سکے۔ جیسے اس نے سچ مچ درخت لگائے ہوں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

13

ترجمہ اور حوالہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’لوگ جب کسی ایسی محفل میں بیٹھیں، جس میں نہ اللہ کو یاد کریں اور نہ اپنے نبی پر درود بھیجیں، تو وہ (محفل) ان کے لیے باعثِ نقصان ہوگی۔ پھر اگر (اللہ تعالی) چاہے تو انھیں عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف کردے۔‘‘

رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے ذکر سے غفلت برتنے سے خبردار کیا ہے اور بتایا ہے کہ جب لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں سے اللہ کا ذکر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجے بغیر اٹھ گئے، تو وہ مجلس قیامت کے دن ان کے حق میں حسرت، ندامت، خسارہ اور نقصان کا سامان ہوگی۔ ایسے میں اگر اللہ چاہے گا، تو ان کو ان کے سابقہ گناہوں اور بعد میں سرزد ہونے والی کوتاہیوں کے پیش نظر عذاب دے گا اور اگر چاہے گا تو اپنے فضل و کرم کی بنا پر معاف کر دے گا۔

فوائد

  • ذکر کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان۔
  • ایسی مجلسوں کی فضیلت جن میں اللہ کا ذکر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر کیا جائے۔ جو مجلسیں ان دونوں باتوں سے خالی ہوں، وہ قیامت کے دن وہاں بیٹھنے والوں کے لیے باعث نقصان ہوں گی۔
  • ذکرِ الٰہی سے غافل ہونے کی تنبیہ صرف مجالس تک محدود نہیں ہے، بلکہ دیگر جگہوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جو شخص کسی جگہ بیٹھ جائے اس کے لیے اس جگہ کو اللہ کا ذکر کرنے سے پہلے چھوڑنا ناپسندیدہ ہے۔
  • قیامت کے دن حسرت وندامت یا تو وقت کا استعمال اللہ کی بندگی میں نہ کرنے کی وجہ سے اجر و ثواب سے محرومی کے سبب ہوگی یا پھر اللہ کی نافرمانی کے کاموں میں وقت گزارنے کی بنا پر گناہ و سزا کو سامنے دیکھ کر۔
  • جب جائز کاموں میں مشغول ہوکر اللہ کے ذکر سے غافل ہونے والے کے لیے یہ تنبیہ ہے، تو ان حرام مجلسوں کا کیا حال ہوگا، جن میں غیبت اور چغل خوری وغیرہ ہوتی ہو۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

سوالات

اس صفحے پر کیا ہے؟

سب سے افضل ذکر: ہر ایک عربی میں، اپنے ترجمے، ماخذ حدیث، درجے اور شرح کے ساتھ۔

ترجمے کہاں سے لیے گئے ہیں؟

HadeethEnc.com سے، جو ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ہر حدیث بالکل ویسے ہی دکھائی جاتی ہے جیسے وہاں شائع ہوئی، اپنے حوالے اور درجے کے ساتھ، اور اصل کا لنک بھی دیا جاتا ہے۔

کاؤنٹر کیسے کام کرتا ہے؟

کسی ذکر کے نیچے کاؤنٹر پر ٹیپ کریں، وہ صفر تک الٹی گنتی کرتا ہے۔ یہ صرف اسی صفحے پر ہے اور کچھ محفوظ نہیں ہوتا۔

کیا مجھے روزانہ یاد دہانی مل سکتی ہے؟

جی ہاں۔ اینڈرائیڈ کے لیے مفت قبس ایپ آپ کو ہر روز صبح و شام کے اذکار یاد دلاتی ہے اور اس میں یہی کاؤنٹر موجود ہے۔