مغفرت کی دعا (استغفار)

سید الاستغفار اور سنت سے معافی مانگنے کے دوسرے الفاظ۔

1 ایک بار

اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ

ترجمہ اور حوالہ

شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا : "سید الاستغفار یہ ہے کہ تم کہو : اے اللہ ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں اپنی طاقت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ میں اپنے کیے ہوئے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیرے حضور تیری جانب سے ملنے والی نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں۔ ایسے ہی اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں۔ لہذا میرى مغرفت فرما، کیوں کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کى مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا : ”جس شخص نے کامل یقین کے ساتھ دن کے وقت اسے پڑھا اور اسی دن شام ہونے سے پہلے اس کی موت ہوگئی، وہ جنتی ہے۔ اسی طرح جس نے رات کے وقت کامل یقین کے ساتھ اسے پڑھا اور صبح ہونے سے قبل ہی فوت ہو گیا، تو وہ بھی جنتی ہے۔“

رواه البخاري درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ استغفار کے کچھ کلمات ہیں، جن میں سب سے افضل اور عظیم ترین کلمات یہ ہیں : "اے اللہ ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں اپنی طاقت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ میں اپنے کیے ہوئے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیرے حضور تیری جانب سے ملنے والی نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں۔ ایسے ہی اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں۔ لہذا میرى مغفرت فرما، کیوں کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کى مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔" ان کلمات میں بندہ اللہ کی وحدانیت اور اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اللہ اس کا خالق اور معبود ہے۔ اس کا کوئی شریک نہيں ہے۔ وہ حتی المقدور اللہ سے کیے ہوئے ایمان اور اطاعت گزاری کے وعدے پر قائم ہے۔ کیوں کہ بندہ جتنی بھی عبادت کر لے، اللہ تعالی کے تمام اوامر کو انجام نہيں دے سکتا اور اس کی نعمتوں کا کما حقہ شکریہ ادا نہیں کر سکتا۔ وہ اللہ کی بارگاہ میں پناہ لیتا ہے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے، کیوں کہ بندے کے کیے ہوئے برے کاموں سے پناہ وہی دیتا ہے۔ وہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا بھی اقرار و اعتراف کرتا ہے اور اپنے گناہوں اور معصیتوں کا بھی اقرار و اعتراف کرتا ہے۔ اس کے بعد اپنے رب سے دعا کرتا ہے کہ اس کے گناہوں کی پردہ پوشی کرے، اسے اپنے عفو و درگزر، فضل و کرم اور رحمت کی بنا پر اس کے گناہوں کے برے نتائج سے بچائے۔ کیوں کہ گناہوں کو بخشنے کا کام اللہ عز و جل کے علاوہ کوئی نہيں کر سکتا۔ پھر آپ نے بتایا کہ یہ صبح و شام کے اذکار میں سے ہے۔ جس نے اسے یقین کے ساتھ، معانی کو سمجھتے ہوئے اور ان پر ایمان لاتے ہوئے دن کے آغاز میں یعنی طلوع آفتاب سے زوال آفتاب کے درمیان کہا اور پھر مر گیا، تو جنت میں داخل ہوگا۔ اسی طرح جس نے اسے رات میں یعنی سورج غروب ہونے کے وقت سے فجر طلوع ہونے کے وقت کے درمیان کہا اور صبح ہونے سے پہلے مر گیا، وہ بھی جنت میں داخل ہوگا۔

فوائد

  • استغفار کے کلمات الگ الگ ہیں۔ کچھ کلمات دوسرے کلمات سے افضل ۔ہیں۔
  • بندے کو چاہیے کہ اہتمام کے ساتھ اللہ سے یہ دعا کرے، کیوں کہ یہ سید الاستغفار ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

2 ایک بار

رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي كُلِّهِ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَايَايَ، وَعَمْدِي وَجَهْلِي وَهَزْلِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ المُقَدِّمُ وَأَنْتَ المُؤَخِّرُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ اور حوالہ

ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم یہ دعا کیا کرتے تھے : "اے اللہ! میرے گناہ، میری نادانی، میرے تمام کاموں میں میرے حد سے تجاوز کرنے کو اور ہر اس بات کو، جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، معاف فرما۔ اے اللہ! میرے گناہوں، مجھ سے سنجیدگی کے ساتھ ہونے والے کاموں، انجانے میں ہونے والے کاموں اور مذاق میں ہونے والے کاموں کو معاف فرما۔ ان میں سے ہر طرح کے کام مجھ سے ہوئے ہیں۔ اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے گناہ، رازداری کے ساتھ اور علانیہ ہونے والے گناہ معاف کر دے۔ تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے"۔

متفق عليه درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک جامع ترین دعا یہ ہے :

"رب اغفر لي خطيئتي" اے اللہ! میرے گناہوں کى مغفرت فرما۔ "وجهلي" انجانے میں ہونے والی کوتاہیاں کى بھی مغفرت فرما۔

"وإسرافي في أمري كله" اپنے تمام کاموں میں رہ جانے والی کوتاہیاں اور حد سے گزرنے کی کیفیتوں کى بھی مغفرت فرما۔

"وما أنت أعلم به مني" ان گناہوں کى بھی مغفرت فرما، جن کو تو جانتا ہے اور میں بھول چکا ہوں۔

"اللهم اغفر لي خطاياي وعمدي" ان گناہوں کى بھی مغفرت فرما، جن کو میں نے جان بوجھ کر کیا ہے۔

وہ گناہ بھی، جن کو میں نے سنجیدگی کے ساتھ اور مذاق مذاق میں کیا ہے۔

"وكل ذلك عندي" مجھے پتہ ہے کہ اس طرح کے سارے گناہ میں نے کیے ہیں۔

"اللهم اغفر لي ما قدمت" اے اللہ! میرے پچھلے گناہوں کى مغفرت کردے۔ "وما أخرت" آنے والے وقت میں ہونے والے گناہوں کى بھی مغفرت معاف کر دے۔

"وما أسررت" جن گناہوں کو رازداری کے ساتھ کیے ہيں، ان کى بھی مغفرت کردے۔ "وما أعلنت" جو گناہ علانیہ کیے ہيں، ان کى مغفرت کردے۔

تو اپنی جس مخلوق کو چاہتا ہے، اپنی پسندیدہ چیزوں کی توفیق دے کر اپنی رحمت کی جانب آگے بڑھا دیتا ہے اور جس مخلوق کو چاہتا ہے، اکیلا چھوڑ کر اس سے پیچھے رکھ دیتا ہے۔ جسے تو پیچھے کر دے، اسے کوئی آگے بڑھا نہيں سکتا اور جسے تو آگے بڑھا دے، اسے کوئی پیچھے کر نہیں سکتا۔

"وأنت على كل شيء قدير" تو کامل قدرت والا، مکمل ارادے والا اور جو چاہے کرنے والا ہے۔

فوائد

  • اس دعا کی فضیلت وارد ہوئی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے اس دعا کا اہتمام کرنا چاہیے۔
  • حد سے تجاوز کرنے سے منع کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ حد سے تجاوز کرنے والا سزا سے دوچار ہوسکتا ہے۔
  • اللہ تعالی انسان کے بارے میں خود اس سے بھی زیادہ جانتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردے، کیوں کہ انسان سے نادانی میں غلطی بھی ہوسکتی ہے۔
  • جس طرح انسان سے سنجیدگی سے ہونے والے گناہوں کا مؤاخذہ ہوگا، اسی طرح اس سے مذاق مذاق میں ہونے والے گناہ کا بھی محاسبہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے انسان کو ہنسی مذاق میں بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
  • ابن حجر عسقلانی کہتے ہيں : میں نے اس کے کسی بھی طریق میں اس دعا کا محل نہیں دیکھا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی روایت کے بیش تر طرق کے آخر میں آیا ہے کہ آپ اسے رات کی نماز میں پڑھا کرتے تھے۔ یہ بھی آیا ہے کہ آپ اسے نماز کے آخر میں پڑھا کرتے تھے۔ روایتوں میں اس سلسلے میں اختلاف ہے کہ آپ اسے سلام سے پہلے پڑھا کرتے تھے یا سلام کے بعد۔
  • کیا اللہ کے نبی صلی اللہ مغفرت طلب کرنے کے لیے خطا کرتے تھے؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ: یہ بات آپ نے تواضع اور خاک ساری کی بنیاد پر کہی ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ نے فوت کمال اور ترک اولی کو گناہ شمار کر لیا۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے اس سے مراد ایسى چیزوں کو لیا ہو جو بھول کى بنیاد پر ہوئى ہوں یا اس سے آپ نے نبوت سے پہلے کے سرزد گناہ کو لیا ہو۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ: مغفرت طلب کرنا ایک عبادت ہے، جسے کرنا واجب ہے۔ مغفرت طلب اس لیے نہيں کی جاتی کہ مغفرت کی ہی جائے۔ جب کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ: یہ تنبیہ کرنے اور تعلیم دینے کا ایک طریقہ ہے کہ تاکہ لوگ بے فکر ہوکر استغفار کو ترک نہ کردیں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

3 3 بار

أَسْتَغْفِرُ الله الذي لا إله إلا هو الحَيَّ القيَّومَ وأتوب إليه

ترجمہ اور حوالہ

رسول الله ﷺ كے آزاد کردہ غلام زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:جو شخص یہ دعا پڑھے: ”أَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ“ (میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ زندہ ہے، قائم رکھنے والا ہے اور میں اسی سے توبہ کرتا ہوں) اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اگرچہ وہ میدان جہاد سے ہی فرار کیوں نہ ہوا ہو۔

اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

جو شخص یہ دعا پڑھے: ”أَسْتَغْفِرُ الله الذي لا إله إلا هو الحَيَّ القيَّومَ وأتوب إليه“ اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اگرچہ وہ کفار کے ساتھ جنگ سے فرار ہی کیوں نہ ہوا ہو۔ واضح رہے کہ معرکۂ جہاد سے بھاگنا ان سات ہلاک کر دینے والی اشیا میں سے ہے، جن کا ذکر اس حدیث میں آیا ہے: ”سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو؛ ان میں سے ایک میدان جہاد سے بھاگنا ہے“۔ اس لیے زیر بحث حدیث کا معنی اس وقت درست ہو گا، جب مفہوم یہ ہو کہ وہ تمام گناہوں سے تائب ہوجائے، جن میں سے ایک میدان جنگ سے بھاگنا ہے۔ ورنہ گناہ پر قائم رہتے ہوۓ صرف استغفار کرنا کچھ بھی سود مند نہیں ہو سکتا۔ اس کا فائدہ تو تب ہوتا ہے، جب اس کے ساتھ ساتھ گناہ سے توبہ بھی ہو۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

4 ایک بار

أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ

ترجمہ اور حوالہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! مین دن میں ستر سے زائد مرتبہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں“۔

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

نبی ﷺ جن کے اگلے پچھلے سب گناہ بخش دیے گئے ہیں، قسم کھا کر بیان کر رہے ہیں کہ آپ ﷺ دن میں ستر سے زائد مرتبہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتے ہیں۔ نبیﷺ کے استغفار کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپﷺ نے یہ استغفار ان گناہوں پر کیا ہے جو کہ آپﷺ سے سرزد ہوئے ہیں بلکہ آپﷺ کا استغفار کرنا آپﷺ کی کمالِ بندگی، اللہ سبحانہ وتعالی کے ذکر سے آپﷺ کی وابستگی، اللہ تعالی کے عظیم حق کا احساس اور بندے کا اللہ کی نعمتوں کے مقابلے میں شکر بجالانے سے عاجز ہونے خواہ وہ کتنا بھی عمل کرلے، آپنی امت کو استغفار کرنے کا حکم دینے وغیرہ جیسی حکمتوں پر دلالت کرتا ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

5 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے اپنے رب تبارک و تعالی سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: "ایک بندے نے گناہ کیا اور پھر بول اٹھا : اے اللہ! میرا گناہ معاف کر دے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا : میرے بندے نے گناہ کیا اور پھر اس کے اس یقین نے انگڑائی لی کہ اس کا ایک رب ہے، جو گناہ کو معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے۔ اس بندے نے پھر دوبارہ گناہ کیا اور بول پڑا کہ اے میرے رب! میرا گناہ معاف کر دے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا : میرے بندے نے گناہ کیا اور پھر اس کے اس یقین نے انگڑائی لی کہ اس کا ایک رب ہے، جو گناہ کو بخش بھی دیتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے۔ تم جو چاہے کرو، میں نے تم کو معاف کر دیا۔"

متفق عليه درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے رب سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہيں کہ بندہ جب کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے اور اس کے بعد کہتا ہے کہ اے الهي! مجھے بخش دے، تو اللہ کہتا ہے: میرے بندے نے گناہ کیا اور وہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہے، جو گناہ معاف کرتا ہے اور اس سے درگزر کرتا ہے یا اس پر سزا دیتا ہے، لہذا میں نے اسے بخش دیا۔ پھر جب بندہ دوبارہ گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اے الهي! مجھے بخش دے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے گناہ کیا اور اس کا یقین ہے کہ اس کا ایک رب ہے، جو گناہ معاف کرتا اور اس سے درگزر کرتا ہے یا اس پر سزا دیتا ہے، لہذا میں نے اسے بخش دیا۔ جب بندہ پھر گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اے الهي! مجھے بخش دے، تو اللہ کہتا ہے کہ میرے بندے نے گناہ کیا اور وہ یہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے، جو گناہ معاف کرتا اور اس سے درگزر کرتا ہے یا اس پر سزا دیتا ہے، لہذا میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ اب وہ جو چاہے، کرے، جب تک حالت یہ ہو کہ ہر بار گناہ کرنے کے بعد وہ فورا گناہ کرنا چھوڑ دے، شرمندہ ہو اور دوبارہ گناہ نہ کرنے کا ارادہ کر لے، لیکن نفس کے بہکاوے میں آکر پھر گناہ کر بیٹھے۔ جب تک یہ حالت بنی رہے، یعنی گناہ کرے اور توبہ کر لے، تو میں اسے معاف کرتا رہوں گا۔ کیوں کہ توبہ پہلے کیے ہوئے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے۔

فوائد

  • بندوں پر اللہ کی وسیع رحمت کہ انسان جو بھی غلطی کرے اور جو بھی کام کرے، جب اللہ کی جانب لوٹتا ہے اور اس کے سامنے توبہ کرتا ہے، تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔
  • اللہ پر ایمان رکھنے والا شخص اس کی بخشش کی امید رکھتا ہے اور اس کی سزا سے ڈرتا ہے، اس لیے وہ فورا توبہ کرتا ہے اور گناہ میں لت پت نہیں رہتا۔
  • صحیح توبہ کی شرطیں : جو گناہ کر رہا تھا اسے چھوڑ دینا، اس پر شرمندہ ہونا اور دوبارہ اسے نہ کرنے کا پکا ارادہ کر لینا۔ اگر توبہ کا تعلق بندے کے کسی حق، مثلا مال، عزت و آبرو اور جان سے ہو، تو ایک چوتھی شرط بڑھ جاتی ہے۔ وہ شرط ہے، حق والے کو اس کا حق دے دینا یا اس سے معافی تلافی کر لینا۔
  • اللہ کا علم رکھنے کی اہمیت، جو بندے کو دینی مسائل سے آگاہی عطا کرتا ہے اور جس کے نتیجے میں بندہ ہر بار غلطی کرنے کے بعد توبہ کر لیتا ہے۔ وہ نہ تو اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتا ہے اور نہ گناہ میں آگے بڑھتا جاتا ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

6 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا : "اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا : اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تیرے گناہوں کو بخشتا رہوں گا، چاہے وہ جتنے بھی ہوں، میں اس کی پرواہ نہيں کروں گا۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کے بلندی کے برابر ہو جائيں، پھر تو مجھ سے بخشش طلب کرے، تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہيں ہے۔ اے ابن آدم! اگر تو میرے پاس زمین کے برابر گناہ لے کر اس حال میں آئے کہ تونے کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں تیرے پاس زمین کے برابر بخشش لے کر آؤں گا۔"

رواه الترمذي درجہ: حسن

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے حدیث قدسی میں فرمایا: اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا، میری رحمت کی امید لگائے رہے گا اور نا امید نہیں ہوگا، میں بے پرواہ ہوکر تیرے گناہ پر پردہ ڈالتا رہوں گا اور اسے مٹاتا رہوں گا۔ خواہ یہ گناہ کبیرہ گناہوں کے زمرے میں ہی کیوں نہ آتا ہو۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ اتنے زیادہ بھی ہو جائيں کہ آسمان اور زمین کے درمیان کے خلا کو بھر دیں اور اس کے بعد بھی تم مجھ سے بخشش طلب کرو، تو گناہوں کی کثرت کی کوئی پرواہ کیے بغیر میں تجھ کو بخش دوں گا۔

اے ابن آدم! اگر تو موت کے بعد میرے پاس اس حال میں آئے کہ تیرے گناہوں اور نافرمانیوں سے روئے زمین بھری ہوئی ہو اور تو موحد بن کر فوت ہوا ہو اور کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں ان گناہوں اور نافرمانیوں کے مقابلے میں روئے زمین بھر مغفرت سے کام لوں گا۔ کیوں کہ میری بخشش کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔ میں شرک کے علاوہ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہوں۔

فوائد

  • اللہ کی بے پایاں رحمت، بخشش اور فضل و کرم۔
  • توحید کی فضیلت اور یہ کہ اللہ توحید کی راہ پر چلنے والوں کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔
  • شرک کی خطرناکی اور یہ کہ اللہ شرک کرنے والوں کو معاف نہيں کرے گا۔
  • ابن رجب کہتے ہيں: اس حدیث میں گناہوں کی مغفرت کے تین اسباب بیان ہوئے ہيں: 1- امید کے ساتھ دعا۔ 2۔ بخشش مانگنا اور توبہ کرنا۔ 3- توحید پر کاربند رہ کر مرنا۔
  • یہ حدیث ان حدیثوں میں سے ہے، جن کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب سے روایت کیا ہے۔ اس طرح کی حدیث کو حدیث قدسی یا حدیث الہی کہا جاتا ہے۔ یعنی ایسی حدیث جس کے الفاظ اور معنی دونوں اللہ کی جانب سے ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے اندر قرآن کے وہ خصائص نہيں پائے جاتے، جن کی بنیاد پر اسے ایک الگ امتیاز حاصل ہے۔ مثلا اس کی تلاوت کے ذریعہ اللہ کى عبادت کرنا، اس کى تلاوت کے لیے طہارت حاصل کرنا، اس کا معجزہ ہونا اور اس جیسا کلام پیش کرنے کا چیلنج پیش کیا جانا وغیرہ۔
  • گناہوں کی تین قسمیں ہیں: 1- اللہ کا شریک ٹھہرانا۔ اسے اللہ معاف نہيں کرے گا۔ اللہ عز و جل نے فرمایا: (یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی ہے۔) 2- بندہ کوئی ایسا گناہ کرے، جس کا تعلق اس سے اور اس کے رب سے ہو۔ اللہ چاہے تو اس طرح کے گناہوں کو معاف کر سکتا ہے۔ 3- ایسے گناہ، جن میں اللہ کچھ نہيں چھوڑتا۔ یعنی بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا۔ یہاں قصاص ضروری ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

سوالات

اس صفحے پر کیا ہے؟

استغفار کی دعا: ہر ایک عربی میں، اپنے ترجمے، ماخذ حدیث، درجے اور شرح کے ساتھ۔

ترجمے کہاں سے لیے گئے ہیں؟

HadeethEnc.com سے، جو ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ہر حدیث بالکل ویسے ہی دکھائی جاتی ہے جیسے وہاں شائع ہوئی، اپنے حوالے اور درجے کے ساتھ، اور اصل کا لنک بھی دیا جاتا ہے۔

کاؤنٹر کیسے کام کرتا ہے؟

کسی ذکر کے نیچے کاؤنٹر پر ٹیپ کریں، وہ صفر تک الٹی گنتی کرتا ہے۔ یہ صرف اسی صفحے پر ہے اور کچھ محفوظ نہیں ہوتا۔

کیا مجھے روزانہ یاد دہانی مل سکتی ہے؟

جی ہاں۔ اینڈرائیڈ کے لیے مفت قبس ایپ آپ کو ہر روز صبح و شام کے اذکار یاد دلاتی ہے اور اس میں یہی کاؤنٹر موجود ہے۔