سونے کی دعا اور سونے سے پہلے کے اذکار

نبی کریم ﷺ بستر پر جاتے وقت جو کہتے اور پڑھتے تھے۔

1 ایک بار

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ﴿١﴾ اللَّهُ الصَّمَدُ ﴿٢﴾ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ﴿٣﴾ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ﴿٤﴾
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ﴿١﴾ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ ﴿٢﴾ وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ﴿٣﴾ وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ﴿٤﴾ وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ﴿٥﴾
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ﴿١﴾ مَلِكِ النَّاسِ ﴿٢﴾ إِلَهِ النَّاسِ ﴿٣﴾ مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ﴿٤﴾ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ﴿٥﴾ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ﴿٦﴾

ترجمہ اور حوالہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ ہر رات جب بستر پر تشریف لے جاتے، تو دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر ان میں پھونک مارتے اور ان پر ﴿قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ ﴿قُل أعوذُ بِربِ الفلقِ﴾ اور ﴿قُل أعوذُ بربِ الناسِ﴾ پڑھتے۔ پھر ان دونوں ہاتھوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے۔ پہلے سر مبارک اور چہرے اور جسم کے اگلے حصے پر ہاتھ پھیرتے۔ آپ ﷺ یہ عمل تین مرتبہ کرتے تھے۔

رواه البخاري درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جب آپ سونے کے لیے بستر پر تشریف لے جاتے، تو دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر اوپر اٹھاتے -جیسے دعا کرنے والا اٹھاتا ہے- پھر دونوں میں اپنے منہ سے معمولی تھوک کے ساتھ ہلکی پھونک مارتے اور ان تین سورتوں کی تلاوت کرتے: ﴿قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ ﴿قُل أعوذُ بِربِ الفلقِ﴾ اور ﴿قُل أعوذُ بربِ الناسِ﴾۔ پھر دونوں ہتھیلیوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے۔ پہلے سر پھر چہرے اور جسم کے اگلے حصہ پر ہاتھ پھیرتے۔ ایسا تین دفعہ کرتے۔

فوائد

  • سونے سے قبل سورۃ الاخلاص اور معوذتین کی تلاوت کرنا اور ہتھیلیوں میں پھونک مارنا اور جہاں تک ممکن ہو جسم پر ہاتھ پھیرنا مستحب ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

2 ایک بار

آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ﴿٢٨٥﴾ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ﴿٢٨٦﴾

ترجمہ اور حوالہ

ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جس نے سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں رات میں پڑھ لیں، اس کے لیے یہ دو آیتیں کافی ہو جاتی ہیں۔"

متفق عليه درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں، تو اللہ اسے برائی اور ناپسندیدہ چیزوں سے بچانے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ کچھ علماء اس حدیث کا مطلب یہ بتاتے ہيں یہ دونوں آیتیں اس کے لیے تہجد کی نماز کے بدلے میں کافی ہو جاتی ہیں۔ جب کہ کچھ علماء مطلب یہ بتاتے ہيں کہ یہ دونوں آیتیں دیگر اذکار کے بدلے میں کافی ہو جاتی ہیں۔ کچھ علماء مطلب یہ بتاتے ہیں کہ رات کی نماز میں کم سے کم ان دو آیتوں کو پڑھ لینا ہی کافی ہے۔ اس کے کچھ اور بھی مطالب بیان کیے گئے ہيں۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اوپر کہی گئی ساری باتیں صحیح ہوں حدیث کے الفاظ ان سارى باتوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہوں۔

فوائد

  • سورۂ بقرہ کی آخری آیتوں کی فضیلت۔ یہ آخری آیتیں اس طرح ہیں : {آمَنَ ٱلرَّسُولُ..} (رسول ایمان ﻻیا...) سورت کے اخیر تک۔
  • سورہ بقرہ کی آخری آیتوں کو رات میں پڑھنے سے انسان برائی اور شیطان سے محفوظ رہتا ہے۔
  • رات سورج ڈوبنے کے بعد سے شروع ہوتی ہے اور طلوع فجر تک رہتی ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

3 ایک بار

باسمك ربي وضعت جنبي، وبك أرفعه، إن أمسكت نفسي فارحمها، وإن أرسلتها، فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين

ترجمہ اور حوالہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص بستر پر ليٹنے كا اراده كرے تو پہلے اپنا بستر اپنی ازار کے اندورنی کنارے سے جھاڑ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے (اس کی بے خبري میں) کیا چیز اس پر آ گئی ہے۔ پھر یہ دعا پڑھے: ”بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ“ اے میرے پالنے والے! تیرے نام سے میں نے اپنا پہلو رکھا ہے اور تیرے ہی نام سے اٹھاؤں گا۔ اگر تو نے میری جان کو روک لیا تو اس پر رحم کرنا اور اگر چھوڑ دیا (زندگی باقی رکھی) تو اس کی اس طرح حفاظت کرنا جس طرح تو صالحین کی حفاظت کرتا ہے۔

متفق علیہ درجہ: صحیح

شرح

اس حدیث میں سوتے وقت کے اذکار کا بیان ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان اپنی روح کو اپنے رب کے حوالے کر دیتا ہے جب کہ اس کے بس میں اس سلسلے میں کوئی طاقت و قوت نہیں رہتی۔ پس وہ اسے اس کے خالق کے سپرد کر دیتا ہے کہ وہی اس کی حفاظت کرے۔چنانچہ وہ پورے طور پر اسے اللہ کے حوالے کر دیتا ہے۔

علماء کہتے ہیں کہ سونے اور جاگنے کے اوقات میں ذکر اور دعا کرنے کی حکمت یہ ہے کہ انسان کے اعمال کا خاتمہ بھی اطاعت کے ساتھ ہو اور ان کا آغاز بھی اطاعت ہی کے ساتھ ہو۔

اس حدیث شریف میں نبی ﷺ اس بات کی وضاحت فرما رہے ہیں جس کا کرنا اور کہنا سوتے وقت بندے کے لیے مسنون ہے۔ نبی ﷺ نے عملی پہلو کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ ”تم میں سے جب کوئی شخص سونے کے ارادے سے اپنے بستر پر جائے تو اسے جھاڑ لے“۔ آپ ﷺ نے ایسا اس لیے فرمایا کیوں کہ عرب لوگ بستر کو اسی حالت میں بچھا ہوا چھوڑ دیا کرتے تھے۔ چنانچہ احتمال ہے کہ آدمی کے بستر کو چھوڑ جانے کے بعد اس میں موذی حشرات الارض گھس جائیں یا پھر وہ گرد و غبار وغیرہ سے آلودہ ہو جائے۔ اس لیے نبی ﷺ نے سونے سے قبل بستر کو جھاڑ لینے کا حکم دیا۔

پھر آپ ﷺ نے اس شے کی وضاحت فرمائی جس کے ساتھ جھاڑا اور صاف کیا جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اپنی ازار کے اندرونی حصے سے اپنے بستر کو جھاڑ لے“۔ ازار سے مراد وہ کپڑا ہے جو بدن کے نچلے حصے میں پہنا جاتا ہے۔ مراد یہ کہ کپڑے کی اندرونی کنارے کی جانب سے وہ صاف کر لے کیونکہ اس سے جھاڑنا آسان ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بھی حکمت ہے کہ ازار کے بیرونی حصے پر گندگی وغیرہ نہ لگے اور یہ کہ ایسا کرنے میں زیادہ ستر پوشی ہے۔ عام طور پر عرب کے پاس ان کے اپنے جسم پر موجود ازار اور چادر کے علاوہ کوئی اور کپڑا نہیں ہوا کرتا تھا، بہر حال اہم یہ ہے کہ بستر کو جھاڑ لیا جائے پھر چاہے یہ اپنے جسم پر موجود کپڑے کے ذریعہ ہو یہ پھر کسی اور کپڑے یا کسی اور چیز کے ذریعہ جس کو بستر جھاڑنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

پھر آپ ﷺ بستر کو جھاڑنے اور اُس کی صفائی کی علت بیان کر رہے ہیں کہ ”اسے نہیں معلوم کہ اس کے بعد اس بستر پر کون آیا رہا“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت جسمانی حفاظت پر بھی زور دیتی ہے کیونکہ جسمانی سلامتی ہی سے دینی امور کی تکمیل ہوتی ہے۔

یہاں تک تو عملی سنت اور اس کی علت کا بیان تھا۔

ثانیا: قولی سنت:

پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر وہ سونے والا کہے ”بِاسْمِكَ رَبِّي“ یعنی اللہ کے نام کے ساتھ جو بلند و برتر اور عظیم ہے، میں یہ ناتواں جسم بستر پر رکھتا ہوں۔ اس میں اس بات کے استحباب کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کو ہر وقت ہمیشہ اللہ کے ذکر میں مشغول رہنا چاہئے۔پھر کہے:" وضعت جنبي وبك أرفعه"۔ یعنی میں تیرے ذکر کے ساتھ اس جسم کو رکھتا اور اٹھاتا ہوں۔

پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ (یوں کہے) ”إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا“ اس سے یہاں کنایۃً موت مراد ہے۔

اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان کہ ”وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا“ سے کنایۃً زندگی مراد ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا ”فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ“ یعنی میری جان و روح کی ویسے ہی حفاظت کرنا جیسے تو اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اس سے تمام گناہوں، ہلاکت میں ڈالنے والی اور تمام بری اشیاء سے عمومی طور پر حفاظت مراد ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اللہ (کے اوامر و نواہی) کی حفاظت کرتے رہو وہ تمہاری حفاظت کرے گا۔

یہ عمومی حفاظت ہے۔ اسی لیے اسے نیکو کار لوگوں کے ساتھ خاص کیا۔ اللہ تعالی کی حفاظت نیکی ہی کے ساتھ حاصل ہوا کرتی ہے۔ اس شخص کو اللہ تعالی کی اپنے اولیاء کو دی جانے والی خصوصی حفاظت میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا جو اللہ تعالی کے حقوق میں تفریط سے کام لیتا ہے اور انہیں ضائع کرتا ہے۔ تاہم عمومی حفاظت اسے بھی حاصل رہتی ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

4 ایک بار

اللهم ربَّ السماواتِ وربَّ الأرض وربَّ العرش العظيم، ربَّنا وربِّ كلِّ شيء، فالقَ الحَبِّ والنَّوى، ومُنْزِلَ التوراة والإنجيل والفُرقان، أعوذ بك من شرِّ كل شيء أنت آخذٌ بناصيتِه، اللهم أنت الأولُ فليس قبلك شيء، وأنت الآخرُ فليس بعدك شيء، وأنت الظاهرُ فليس فوقك شيء، وأنت الباطن فليس دونك شيء، اقضِ عنَّا الدِّينَ، وأغنِنا من الفقر

ترجمہ اور حوالہ

سہیل کہتے ہیں کہ ابوصالح ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص سونے کا ارادہ کرے تو بستر پر دائیں کروٹ لیٹے، پھر یہ دعا پڑھے:”اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَيْئٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَی وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ شَيْئٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَکَ شَيْئٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَکَ شَيْئٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَکَ شَيْئٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَکَ شَيْئٌ اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنْ الْفَقْرِ“ اے اللہ ! اے آسمانوں کے رب اور زمین کے رب اور عرش عظیم کے رب، اے ہمارے رب اور ہر چیز کے رب، دانے اور گٹھلیوں کو چیر (کر پودے اور درخت اگا) دینے والے ! تورات، انجیل اور فرقان کو نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے، اے اللہ ! تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کوئی شے نہیں، اے اللہ ! تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کوئی شے نہیں ہے، تو ہی ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی شے نہیں ہے، تو ہی باطن ہے، تجھ سے پیچھے کوئی شے نہیں ہے، ہماری طرف سے (ہمارا) قرض ادا کر اور ہمیں فقر سے بے نیازی عطا فرما۔ وہ اس حدیث کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ (آگے) اسے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے تھے۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

نبی ﷺ اپنے صحابہ کو حکم دیا کرتے تھے کہ جب ان میں سے کوئی سونے کا ارادہ کرے تو اپنی دائیں کروٹ پر سوئے اور پھر یہ دعا کہے ”اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَيْئٍ“ یعنی اے آسمانوں اور زمین کے رب، ان کو پیدا کرنے والے اور ان کے مالک اور اس میں رہنے والوں کو پالنے والے اور اے بہت بڑے عرش کے رب، اس کے خالق اور مالک، تمام لوگوں کے خالق، مالک اور ان کے پالنہار اور ہر چیز کے رب۔

”فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَی“ یعنی دانے اور گھٹلی کو پھاڑ کر ان سے کھیتی اور کھجور نکالنے والی ذات۔ دانے اور گھٹلی کو خصوصیت کے ساتھ یا تو ان کی فضیلت کی وجہ سے خاص کیا ہوگا یا عرب ممالک میں اس کے زیادہ پائے جانے کی وجہ سے کیا۔

”وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ“ یعنی اے وہ ذات جس نے تورات موسیٰ علیہ السلام پر، انجیل عیسیٰ علیہ السلام پر اور قرآنِ کریم محمد ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔

”أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ شَيْئٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ“ یعنی مخلوقات میں سے ہر چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اس لیے کہ یہ سب تیری بادشاہت، قبضے اور تصرف میں ہے۔

”اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَکَ شَيْئٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَکَ شَيْئٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَکَ شَيْئٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَکَ شَيْئٌ“ آپ ﷺ نے ان چار اسماء کی تفسیر وضاحت کے ساتھ کی ہے۔

”الأول“: یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ کے سوا ہر چیز حادث اور عدم سے وجود میں آئی ہے، انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ دینی اور دنیوی ہر طرح کی نعمت میں اپنے رب کے فضل کو تسلیم کرے، اس لیے کہ سبب اور مسبب دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔

”الآخر“: یہ اسم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ باقی اور اس کے علاوہ ہر چیز فانی ہے۔ اور یہ کہ وہ بے نیاز ہے اس کی طرف تمام مخلوقات اپنی عبادت، رغبت، رہبت اور تمام مطالبات لے کر متوجہ ہوتی ہیں۔

”الظاهر“: یہ اسم اللہ تعالیٰ کی صفات کی عظمت اور اس کی ذات و صفات کی عظمت کے سامنے ہر چیز کے ختم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔اسی طرح یہ نام تمام مخلوقات پر اللہ تعالیٰ کی حقیقی بلندی پر دلالت کرتی ہے۔

”الباطن“: یہ اسم تمام رازوں، پوشیدہ و مخفی چیزوں اور اشیاء کی باریکیوں پر اللہ تعالیٰ کے مطّلع ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اسی طرح یہ اللہ تعالیٰ کے قُرب اور نزدیکی پر بھی دلالت کرتا ہے، یہ ظاہر اور باطن کے منافی نہیں۔ اس لیے کہ تمام صفات میں اللہ تعالیٰ کا کوئی مثل نہیں، وہ اپنے قُرب میں بلند اور اپنی بلندی میں قریب ہے۔

”اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنْ الْفَقْرِ“ اس کے بعد آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے اپنے قرض کی ادائیگی اور فقر سے بے نیازی کا سوال کیا۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

5 ایک بار

اللهم فاطِرَ السماوات والأرض عالم الغيبِ والشهادة، ربَّ كُلِّ شَيءٍ ومَلِيكَه، أَشْهد أن لا إله إلا أنت، أعوذ بك من شرِّ نفسي وشرِّ الشيطان وشِرْكِهِ وأن أقترف على نفسي سوءًا أو أجرُّه إلى مسلم

ترجمہ اور حوالہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کچھ ایسے کلمات بتائیں جنھیں میں صبح شام پڑھوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو: ((اللهم فاطِرَ السماوات والأرض عالمَ الغيبِ والشهادة؛ ربَّ كُلِّ شَيءٍ ومَلِيكَه، أَشْهدُ أن لا إله إلا أنت، أعوذ بك من شرِّ نفسي وشرِّ الشيطان وشِرْكِهِ)) ترجمہ: ”اے اللہ،اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، اے غیب و حاضر کو جاننے والے،اے وہ ذات جو ہر شے کی رب اور مالک ہے! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ میں اپنے نفس کے شر نیز شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب صبح کرو تب یہ (دعا) پڑھو، جب شام کرو تب بھی پڑھو اور جب اپنے بستر پر جاؤ اس وقت بھی پڑھو“۔

اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

یہ ذکر ان اذکار میں سے ہے جنہیں صبح و شام کیا جاتا ہے اور جس کی تعلیم نبی ﷺ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دی جب انھوں نے عرض کیا کہ: "مجھے سکھائیں"۔ چنانچہ نبی ﷺ نے انھیں صبح و شام کیا جانے والا ذکر اور دعا سکھائی اور ان سے کہا کہ وہ یوں کہا کریں: " اللهم فاطرَ السماواتِ والأرضِ"۔ یعنی اے اللہ، اے آسمانوں اور زمین دونوں کے پیدا کرنے والے!۔ "فاطر" کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے انھیں بغیر کسی سابقہ نمونے کے پیدا کیا اور بنا کسی پیشگی مثال کے انھیں عدم سے وجود بخشا۔

"عالم الغيب و الشهادة"۔ یعنی ان اشیاء کو بھی جانتا ہے جو مخلوق کی نگاہوں سے اوجھل ہیں اور ان کو بھی جانتا ہے جنھیں وہ دیکھتے ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ حال، مستقبل اور ماضی سب سے واقف ہے۔

"رب كل شئ و مليكه"۔ یعنی اے ہر چیز کے رب اور ہر چیز کے مالک!۔ اللہ تعالی ہر چیز کے رب اور مالک ہیں۔

"أشهد أن لا إله إلا أنت"۔ میں اپنی زبان اور دل سے اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ اللہ کے علاوہ جس کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے اور عبودیت میں اس کا کوئی حق نہیں۔ عبودیت کے حق دار صرف اور صرف اللہ عز و جل ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا: "أعوذ بك من شر نفسي"۔ کیوں کہ نفس کی شر انگیزیاں ہوتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’وما أبرئ نفسي إن النفس لأمارة بالسوء إلا ما رحم ربي‘‘ (یوسف: 53)۔ ترجمہ: "اور میں اپنے نفس کو پاک نہیں کہتا، بے شک نفس تو برائی سکھاتا ہے اِلاّ یہ کہ جس پر میرا رب مہربانی کرے"۔ جب اللہ آپ کو آپ کے نفس کی شر انگیزیوں سے نہ بچائے تو وہ آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور برائی پر اکساتا ہے۔ لیکن اگر اللہ آپ کو اس کے شر سے محفوظ کر دے تو آپ کو ہر نیکی کی توفیق دیتا ہے۔

نبی ﷺ نے اپنی دعا کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ فرمایا: " ومن شر الشيطان وشِرْكه"۔ ایک اور روایت میں " و شَرَكه" کے الفاظ ہیں۔ یعنی آپ اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ وہ آپ کو شیطان کے شر اور اس شرک سے پناہ دے جس پر وہ اکساتا ہے یا اس کے جال سے بچائے۔ "الشَرَک" اس چیز کو کہا جاتا ہے جس سے مچھلیاں اور پرندے وغیرہ شکار کیے جاتے ہیں۔ کیونکہ شہوات و شبہات وغیرہ شیطان کے جال ہیں جن سے وہ انسانوں کا شکار کرتا ہے۔

" وأن اَقترفُ على نفسي سوءا"۔ یعنی خود اپنے آپ کے ساتھ کچھ برا کروں یا پھر کسی مسلمان کو برائی پہنچاؤں۔ نبی ﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اس ذکر کو صبح و شام اور اس وقت کیا کریں جب اپنے بستر پر لیٹ جائیں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

6 3 بار

اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ

ترجمہ اور حوالہ

حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال مبارک کے نیچے رکھتے اور پھر کہتے: ”اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ اے اللہ! مجھے اس دن اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ ایسا تین دفعہ کہا کرتے تھے۔

اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

اس حدیث میں نبی ﷺ کی سنتوں میں سے ایک فعلی اور قولی سنت کا بیان ہے اور دونوں سنتیں نیند سے متعلق سنتوں میں سے ہیں۔فعلی سنت: اس سے مراد وہ ہیئت ہے جس پر نبی ﷺ سویا کرتے تھے۔حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی ﷺ کے سونے کے انداز کے بارے میں بتایا کہ آپ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار مبارک کے نیچے رکھ لیا کرتے تھے۔ اس میں آپ ﷺ کے دائیں پہلو پر سونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ جب اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار تلے رکھتے تھے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ لامحالہ اپنے دائیں پہلو پر سوتے تھے اور دیگر روایات بھی اس پر دلالت کرتی ہیں(کہ آپ ﷺ دائیں پہلو پر سویا کرتے تھے)۔ تاہم اس حدیث میں ایک بات زائد ہے کہ آپ ﷺ رخسار تلے اپنا ہاتھ رکھا کرتے تھے۔چنانچہ جو شخص ایسا کرسکتا ہو وہ آپ ﷺ کی پیروی میں ایسا کرے اور جو شخص دائیں پہلو کے بل لیٹنے پر اکتفاء کر لے تو یہ بھی اس کے لیے کافی ہو گا کیونکہ بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ ﷺ اپنے دائیں پہلو پر سویا کرتے تھے اور ان میں رخسار کے نیچے ہاتھ رکھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ شاید نبی ﷺ ایسا بعض اوقات کیا کرتے تھے۔ اس کی طرف اشارہ اس بات سے ہوتا ہے کہ کچھ صحابہ نے اسے ذکر کیا ہے اور بعض نے اسے ذکر نہیں کیا۔ تاہم تمام روایات کا دائیں پہلو کے بل سونے پر اتفاق ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی عین سنت ہے۔

”پھر آپ ﷺ فرماتے“ یہاں ثم کا لفظ ترتیب اور تراخی پر دلالت کرتا ہے اور یہ اس شخص کی حالت سے مناسبت رکھتا ہے جس کا سونے کا ارادہ ہو۔ ایسا شخص پہلے اپنے داہنے پہلو پر لیٹے گا اور اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں گال کے نیچے رکھے گا پھر اس کے بعد دعا پڑھے گا۔ یہ شرط نہیں ہے کہ انسان لیٹنے کے فورا بعد یہ دعا کرے کیونکہ ”ثم“ کا لفظ تاخیر پر دلالت کرتا ہے۔ چنانچہ اگر انسان اپنی بیوی کے ساتھ بات چیت کرتا رہے اور پھر اس کے بعد دعا پڑھے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ”اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ یعنی قیامت کے دن مجھے عذاب سے محفوظ رکھنا۔ لفظ ”قنی“ میں اللہ کے فضل و احسان کی بدولت حفاظت کا معنی ہے یا یہ لفظ بندے کو ایسے فعل کی توفیق دینے پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے اور عذاب سے نجات مل جاتی ہے۔ کیونکہ اصل عموم ہی ہوتا ہے اور تخصیص کی طرف صرف اسی وقت جایا جاتا ہے جب کوئی دلیل ہو اور جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں یہ لفظ دونوں ہی معانی کا احاطہ کرتا ہے۔ " عذابك "۔ یہ عذاب کی تمام اقسام کو شامل ہے۔ اس میں جہنم کا عذاب بدرجہ اول داخل ہے۔ تاہم اس دن کو اللہ نے القارعة، الصاخة، الطامة اور القیامۃ جیسے ناموں سے موسوم کیا ہے۔ اور یہ بات اس کی ہولناکی اور سختی پر دلالت کرتی ہے چنانچہ مناسب یہ ہے کہ اللہ سے اس دن کے عذاب سے نجات کی دعا کی جائے۔

”عذابك“ اس میں نبی ﷺ نے عذاب کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کی تاکہ اس سے اس کی ہولناکی، شدت او عظمت کی نشاندہی ہو سکے۔ اسی طرح اس میں سپردگی کا معنی بھی ہے کیونکہ بندوں میں صرف اللہ ہی کا اختیارِ تصرف چلتا ہے اور اس عذاب پر اس غالب و مالک کا تصرف ہے۔ لفظ دونوں ہی معانی (عذاب کی سختی اورسپردگی) کو شامل ہے۔

اس لطیف مناسبت پر غور کریں جو نیند جو کہ موت کی بہن یا چھوٹی موت ہے اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے مابین ہے۔ حدیث میں شے (موت) اور اس کے تابع (بعث بعد الموت) کے مابین بہت ہی لطیف اور باریک قسم کی مناسبت کا بیان ہے اور یہ بات نبی ﷺ کے الفاظ کی عظمت و جمال کی دلیل ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

7 ایک بار

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكَفَانَا، وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ

ترجمہ اور حوالہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكَفَانَا، وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لاَ كَافِيَ لَهُ وَلاَ مُؤْوِيَ“ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، ہماری کفایت کی اور ہمیں ٹھکانہ دیا، کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کی نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ کوئی انہیں ٹھکانہ دینے والا ہے۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

نبی ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو فرماتے: ”الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكَفَانَا، وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لاَ كَافِيَ لَهُ وَلاَ مُؤْوِيَ“، آپ ﷺ اللہ عز و جل کی حمد بیان کرتے جس نے آپ کو کھلایا اور پلایا بایں طور کہ اگر اللہ عز و جل آپ کو نہ کھلاتا اور نہ پلاتا تو نہ آپ کچھ کھا سکتے اور نہ پی سکتے۔ چنانچہ آپ اس اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں جس نے آپ کو کھلایا اور پلایا۔ یعنی تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، جو ہمارے لیے کافی ہو گیا اور جس نے ہمیں ٹھکانہ دیا۔ یعنی جس نے تمام امور کو ہمارے لیے آسان کردیا اور ان کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لے لی اور ہمارے لیے ٹھکانہ بنایا جس میں ہم رہتے ہیں۔ کتنے ہی انسان ایسے ہیں جن کی نہ کوئی کفایت کرتا ہے اور نہ کوئی ان کا ٹھکانہ ہوتا ہے یا جنہیں کوئی بھی ٹھکانہ مہیا نہیں کرتا چنانچہ آپ کو چاہیے کہ جب آپ اپنے بستر پر آئیں تو یہ ذکر (دعا) پڑھیں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

8 ایک بار

سُبْحَانَ اللَّهِ (٣٣)، الْحَمْدُ لِلَّهِ (٣٣)، اللَّهُ أَكْبَرُ (٣٤)

ترجمہ اور حوالہ

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: فاطمہ رضی اللہ عنہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس چکی پیسنے کی وجہ سے اپنے ہاتھ میں پڑے ہوئے چھالے دکھانے کے لیے آئيں۔ دراصل ان کو اطلاع ملی تھی کہ آپ کے پاس کچھ غلام آئے ہوئے ہیں۔ آپ نہیں ملے، تو انھوں نے اس کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کر دیا۔ آپ جب تشریف لائے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو بتایا۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ آپ ہمارے یہاں تشریف لے آئے۔ ہم بستر پر جا چکے تھے۔ کھڑے ہونے لگے، تو فرمایا : "جہاں ہو، وہیں رہو۔" پھر آپ آکر میرے اور فاطمہ کے درمیان بیٹھ گئے۔ آپ ہمارے اتنے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے آپ کے دونوں قدموں کی ٹھنڈک اپنے پیٹ میں محسوس کی۔ آپ نے کہا : "کیا میں تمھیں جو کچھ تم نے مانگا ہے، اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ جب تم دونوں اپنے بستر پر جاؤ، یا فرمایا کہ جب تم سونے کے لیے جاؤ، تو تینتیس مرتبہ (33) سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ (33) الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ (34) اللہ اکبر پڑھ لینا۔ یہ تمھارے لیے خادم سے بہتر ہے۔"

متفق عليه درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد بزرگوار کو چکی پیسنے کی وجہ سے اپنے ہاتھ میں پڑے ہوئے چھالے کی شکایت کی۔ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کچھ قیدی آئے، تو ان میں ایک قیدی مانگنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہو گئيں، تاکہ گھر کے کام کاج میں آسانی ہو۔ گھر میں آپ نہيں تھے، اس لیے جو کہنا تھا، عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہہ کر واپس آ گ‏ئیں۔ آپ تشریف لائے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک خادم کی گزارش کے ساتھ حاضر ہوئی تھیں۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم فاطمہ اور علی رضی اللہ عنہما کے گھر پہنچ گئے۔ اس وقت دونوں بستر میں تھے اور سونے کی تیاری کر رہے تھے۔ آپ دونوں کے درمیان اس طرح بیٹھ گئے کہ علی رضی اللہ عنہ نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے پیٹ میں محسوس کی۔ بعد ازاں فرمایا: تم دونوں نے مجھ سے خادم دینے کا جو مطالبہ کیا ہے، کیا میں تم دونوں کو اس سے بہتر چیز نہ بتا دوں؟ دونوں نے عرض کیا : ضرور بتائيں۔ تب آپ نے فرمایا: جب تم دونوں رات میں سونے کے لیے بستر پر چلے جاؤ، تو 34 بار اللہ اکبر کہو۔ 33 بار سبحان اللہ کہو۔ 33 بار الحمد للہ کہو۔ یہ ذکر تم دونوں کے لیے خادم سے بہتر ہے۔

فوائد

  • اس مبارک ذکر کا پابندی سے اہتمام کرنا مستحب ہے۔ کیوں کہ علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اس وصیت کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ صفین جنگ کی رات کو بھی نہيں۔
  • اس ذکر کو رات کو سوتے وقت ہی پڑھا جائے گا۔ کیوں کہ صحیح مسلم میں معاذ عن شعبہ کی روایت کے الفاظ ہیں : "جب تم رات کو بستر پر چلے جاؤ۔"
  • جب کوئی مسلمان اس ذکر کو رات کے پہلے حصے میں بولنا بھول جائے اور آخری حصے میں اسے یاد آ جائے، تو اس وقت کہہ لینے میں کوئی حرج نہيں ہے۔ کیوں کہ اس حدیث کے راوی علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ صفین کی رات اسےاول شب کہنا بھول گئے، تو یاد آنے پر صبح سے پہلے کہہ لیا۔
  • مہلب کہتے ہیں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ایک انسان خود اپنی زندگی میں آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے کے طرز عمل پر کاربند رہتا ہو، اسی طرح اپنے اہل خانہ کو بھی اس کی تحریک دے، اگر ان کے اندر اس کی قدرت ہو۔
  • ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں: اس ذکر کا اہتمام کر لینے کے بعد انسان کے لیے زیادہ کام کرنا مشکل نہيں رہ جاتا اور اسے اس کا نقصان بھی نہیں ہوتا۔ تھکاوٹ ہو تب بھی۔
  • عینی کہتے ہیں: اس ذکر کے اہتمام کے خادم سے بہتر ہونے کا ایک پہلو یہ ہو سکتا ہے کہ ذکر کا تعلق آخرت سے ہے اور غلام کا تعلق دنیا سے۔ ظاہر سی بات ہے کہ آخرت دنیا سے زيادہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہو سکتا ہے کہ ان اذکار کے نتیجے میں ان کے اندر کام کرنے کی ایسی طاقت پیدا ہو جائے کہ وہ خادم سے زیادہ کام کر سکیں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

سوالات

اس صفحے پر کیا ہے؟

سونے کی دعا: ہر ایک عربی میں، اپنے ترجمے، ماخذ حدیث، درجے اور شرح کے ساتھ۔

ترجمے کہاں سے لیے گئے ہیں؟

HadeethEnc.com سے، جو ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ہر حدیث بالکل ویسے ہی دکھائی جاتی ہے جیسے وہاں شائع ہوئی، اپنے حوالے اور درجے کے ساتھ، اور اصل کا لنک بھی دیا جاتا ہے۔

کاؤنٹر کیسے کام کرتا ہے؟

کسی ذکر کے نیچے کاؤنٹر پر ٹیپ کریں، وہ صفر تک الٹی گنتی کرتا ہے۔ یہ صرف اسی صفحے پر ہے اور کچھ محفوظ نہیں ہوتا۔

کیا مجھے روزانہ یاد دہانی مل سکتی ہے؟

جی ہاں۔ اینڈرائیڈ کے لیے مفت قبس ایپ آپ کو ہر روز صبح و شام کے اذکار یاد دلاتی ہے اور اس میں یہی کاؤنٹر موجود ہے۔