نماز کے بعد کے اذکار (ہر نماز کے بعد)

فرض نمازوں میں سلام پھیرنے کے بعد کیے جانے والے اذکار۔

1 ایک بار

أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ (٣)، اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

ترجمہ اور حوالہ

ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب نماز ختم کرتے تو تین بار بخشش طلب کرتے اور اس کے بعد فرماتے : "اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ"۔ (اے اللہ تو سلامتی والا ہے اور تیری ہی جانب سے سلامتی حاصل ہوتی ہے۔ تو برکت والا ہے اے صاحب جلال و اکرام!) ولید کہتے ہیں کہ میں نے اوزاعی سے پوچھا کہ بخشش کیسے طلب کی جائے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ تم "استعفر اللہ استغفر اللہ" کہہ لیا کرو۔

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب نماز ختم کرتے، تو "أستغفر الله، أستغفر الله، أستغفر الله." کہتے۔

اس کے بعد اپنے رب کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہتے : "اللَّهمَّ أنتَ السَّلامُ، ومنْكَ السَّلامُ، تباركْتَ ذا الجَلالِ والإكرامِ۔" یعنی اللہ اپنی صفات میں سالم و کامل ہے، ہر عیب و نقص سے پاک ہے، دنیا و آخرت کی تمام برائیوں سے سلامتی اسی سے مانگی جائے گی، دونوں جہان میں اس کی بھلائیوں کی بہتات ہے اور وہ صاحب عظمت و احسان ہے۔

فوائد

  • نماز کے بعد استغفار کرنا اور اس عمل پر ہمیشگی برتنا مستحب ہے۔
  • عبادت میں رہ جانے والی کمیوں اور کوتاہیوں کے تدارک کے لیے اللہ سے بخشش طلب کرنا مستحب ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

2 ایک بار

لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ اور حوالہ

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب ورّاد کہتے ہیں : مغیرہ بن شعبہ نے مجھ سے معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام بھیجے گئے ایک خط میں لکھوایا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے : "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ۔" (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی کی بادشاہت اور اسی کی تعریف ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! تو جو کچھ دے، اسے کوئی روکنے والا نہيں ہے اور تو جو روک لے، اسے کوئی دینے والا نہیں ہے۔ کسی صاحب دولت کی دولت تیرے خلاف اس کے کچھ کام نہیں آ سکتی۔)

متفق عليه درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ". (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی کی بادشاہت اور اسی کی تعریف ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! تو جو کچھ دے، اسے کوئی روکنے والا نہيں ہے اور تو جو روک لے، اسے کوئی دینے والا نہیں ہے۔ کسی صاحب دولت کی دولت تیرے خلاف اس کے کچھ کام نہیں آ سکتی۔)

یعنی میں کلمۂ توحید لا الہ الا اللہ کا اقرار و اعتراف کرتا ہوں۔ برحق عبادت کو اللہ کے لیے ثابت کرتا ہوں اور کسی دوسرے کے لیے اس کی نفی کرتا ہوں۔ کیوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہيں ہے۔ میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ حقیقی اور مکمل بادشاہت اللہ کی ہے اور آسمان و زمین والوں کی ساری تعریف کا حق دار محض اللہ ہے۔ کیوں کہ وہی ہر بات کی قدرت رکھتا ہے۔ وہ کسی کو کچھ دے یا کسی سے کچھ روک لے، تو اس کے فیصلے کو کوئی ٹال نہيں سکتا۔ اس کے دربار میں کسی صاحب دولت کی دولت و ثروت اس کے کچھ کام نہيں آ سکتی۔ اس کے کام بس اس کی نیکیاں ہی آسکتی ہیں۔

فوائد

  • توحید اور اللہ کی حمد و ثنا پر مشتمل اس ذکر کو نمازوں کے بعد پڑھنا مستحب ہے۔
  • سنتوں کی اتباع اور ان کی نشر واشاعت کا کام بلا تاخیر کرنا چاہیے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

3 ایک بار

لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، ‌وَلَا ‌نَعْبُدُ ‌إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ

ترجمہ اور حوالہ

ابو الزبیر کہتے ہيں : عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہر نماز کے وقت سلام پھیرنے کے بعد یہ دعا پڑھتے : ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ وَلَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ“ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قدرت صرف اللہ کی توفیق سے ملتی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں، ہر نعمت کا مالک وہی ہے اور سارا فضل اسی کی ملکیت ہے اور اسی کے لیے بہترين تعريف ہے۔ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، ہم خالص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں، اگرچہ کافر ناپسند کریں۔) وہ فرماتے: نبی ﷺ ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہا کرتے تھے۔

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر فرض نماز سے سلام پھیرنے کے بعد اس عظیم ذکر کے ذریعے اللہ کی پاکی بیان کرتے تھے، جس کے معنی ہیں:

"لا إله إلا الله" : اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ہے۔

"وحده لا شريك له" : وہ اکیلا ہے اور الوہیت، ربوبیت اور اسما و صفات میں اس کا کوئی شریک نہيں ہے۔

"له الملك" : اسی کے لیے مطلق، عام، ہمہ گیر اور وسیع بادشاہت ہے۔ آسمانوں، زمین اور ان کے بیچ کی ساری چیزوں کی بادشاہت۔

"وله الحمد" : وہ کمال مطلق کے وصف سے متصف ہے۔ اس کا کمال‘ محبت اور تعظیم کے ساتھ ہر حال میں بیان کیا جائے گا۔ خوشی میں بھی اور غمی میں بھی۔

"وهو على كل شيء قدير" : اس کی قدرت ہر اعتبار سے مکمل اور تام ہے۔ اسے کوئی بے بس نہیں کر سکتا۔ ایسا کوئی کام نہيں، جو وہ نہ کر سکے۔

"لا حول ولا قوة إلا بالله" : ایک حالت سے دوسری حالت میں جانے اور اللہ کی نافرمانی کی راہ کو چھوڑ کر اس کی فرماں برداری کی راہ اپنانے کی طاقت اللہ کی توفیق کے بغیر کسی کے پاس نہيں ہے۔ وہی اصل مددگار ہے اور اسی پر سارا بھروسہ ہے۔

"لا إله إلا الله، ولا نعبد إلا إياه" : اس بات کی تاکید کہ بس اللہ ہی عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہيں ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔

"له النعمة وله الفضل" : وہی نعمتیں پیدا کرتا ہے اور وہی نعمتوں کا مالک ہے۔ وہ اپنے جس بندے کو چاہتا ہے اپنے فضل و کرم سے نعمتیں عطا کرتا ہے۔

"وله الثناء الحسن" : اسی کی اچھی تعریف ہے ہر حال میں، اس کی ذات، صفات، افعال اور نعمتوں پر۔

"لا إله إلا الله، مخلصين له الدين" ہم خالص طور پر اسی کی عبادت کرتے ہيں۔ اللہ کی عبادت کو ریا اور شہرت طلبی کی آلائشوں سے پاک رکھتے ہيں۔

"ولو كره الكافرون": ہم اللہ کو ایک ماننے اور اس کی عبادت کرنے کی روش پر ثابت قدم رہيں گے، چاہے کافروں کو برا ہی کیوں نہ لگے۔

فوائد

  • ہر فرض نماز کے بعد اس ذکر کی پابندی کرنا مستحب ہے۔
  • ایک مسلمان اپنے دین پر فخر کرتا اور اس کے شعائر کا بر ملا اظہار کرتا ہے، چاہے کافروں کو برا ہی کیوں نہ لگے۔
  • جب حدیث کے اندر "دُبر الصلاة" (نماز کے بعد) کے الفاظ آئيں اور حدیث میں جس چیز کا ذکر ہوا ہو وہ ذکر ہو، تو اصلا اس سے مراد سلام پھیرنے کے بعد ہوگا۔ لیکن اگر وہ دعا ہو، تو مراد سلام پسے پہلے ہوگا۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

4 ایک بار

سُبْحَانَ اللَّهِ (٣٣)، الْحَمْدُ لِلَّهِ (٣٣)، اللَّهُ أَكْبَرُ (٣٣)، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ اور حوالہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور تینتیس مرتبہ اللہ اکبر کہے، تو یہ کل ننانوے مرتبہ ہوا اور سو کی عدد پورا کرتے ہوئے ‘‘لا إله إلا الله وحْدَه لا شريك له له المُلك وله الحَمد وهو على كلِّ شيء قَدِير’’ (اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہيں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) کہے، تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کی طرح ہوں"۔

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے فرض نماز سے فارغ ہونے کے بعد ان اوراد کا اہتمام کیا :

تینتیس بار سبحان اللہ۔ اس کے ذریعے تمام نقائص سے اللہ کے پاک ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے۔

تینتیس بار "الحمد لله"۔ اس کے ذریعے اللہ تعالی کو اس کی محبت اور تعظیم کے ساتھ اوصاف کمال سے متصف کیا جاتا ہے۔

تینتیس بار اللہ اکبر۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تمام چيزوں سے عظیم اورسب سے بڑھ کر شان والا ہے۔

اور سو کی گنتی پوری کرنے کے لیے کہا جائے گا : "لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شيء قدير"۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہيں، بس وہی اکیلے مکمل بادشاہت رکھتا ہے اور تمام تعریفات کا وہی مستحق ہے، وہ قادر مطلق ہے، اسے کوئی چیز عاجز و بے بس نہيں کر سکتی۔

جس نے اس ذکر کا اہتمام کیا، اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہيں اور مٹادیے جاتے ہیں، چاہے وہ سمندر میں موجوں اور لہروں کے وقت ظاہر ہونے والے سفید جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔

فوائد

  • فرض نمازوں کے بعد اس ذکر کو پڑھنا مستحب ہے۔
  • یہ ذکر گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے۔
  • اللہ کا عظیم فضل و کرم اور رحمت و مغفرت۔
  • یہ ذکر گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے۔ یاد رہے کہ اس سے صغیرہ گناہ ہی معاف ہوتے ہيں۔ کبیرہ گناہ کے لیے توبہ ضروری ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

5 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

كعب بن عجرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کے بعد کی کچھ ایسی دعائیں ہیں کہ انھیں ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے والا یا انہیں بجا لانے والا (ثواب سے یا بلند درجوں سے) محروم نہیں ہوتا۔ (اور وہ یہ ہیں) تینتیس بار سبحان اللہ اور تینتیس بار الحمدللہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہنا۔“

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ اذکار کے بارے میں بات کی ہے، جنھیں پڑھنے والا گھاٹے میں نہيں رہتا اور شرمندہ نہيں ہوتا۔ بلکہ اسے ان کا ثواب ضرور ملتا ہے۔ یہ ایسے کلمات ہيں، جو ایک دوسرے کے بعد آتے اور فرض نمازوں کے بعد پڑھے جاتے ہيں۔ یہ کلمات کچھ اس طرح ہیں :

"سبحان الله" تینتیس مرتبہ۔ اس کے معنی یہ ہيں کہ اللہ تعالی ہر نقص اور کمی سے پاک ہے۔

"الحمد لله" تینتیس مرتبہ۔ یعنی اللہ کو ہر قسم کے کمال سے متصف کرنا اور ساتھ میں اس سے محبت بھی رکھنا اور اس کی تعظیم بھی کرنا۔

"الله أكبر" چونتیس مرتبہ۔ یعنی اللہ ہر چيز سے بڑا، عظیم اور م‏عزز ہے۔

فوائد

  • تسبیح، تحمید اور تکبیر کی فضیلت۔ انھیں باقی رہنے والے نیک اعمال کہا گیا ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

6 ایک بار

اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ

ترجمہ اور حوالہ

ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اس کو جنت میں داخل ہونے سے موت کے سوا اور کوئی چیز روک نہيں سکتی۔"

رواه النسائي في الكبرى درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خبر دی ہے کہ جس نے فرض نماز ادا کرنے کے بعد آیۃ الکرسی پڑھی، اسے موت کے علاوہ کوئی چيز جنت میں جانے سے روک نہیں سکتی۔ آیۃ الکرسی سے مراد سورۂ بقرہ کی یہ آیت ہے : "اللہ تعالیٰ ہی وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے؟ وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے۔ اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے۔ وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔" [سورۂ بقرہ : 255]

فوائد

  • اس عظیم آیت کی فضیلت، جو اللہ کے اچھے اچھے ناموں اور بلند صفات پر مشتمل ہے۔
  • اس عظیم آیت کو ہر فرض نماز کے بعد پڑھنا مستحب ہے۔
  • اچھے اعمال دخول جنت کا سبب ہيں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

7 ایک بار

اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ

ترجمہ اور حوالہ

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : "اے معاذ! اللہ کی قسم، میں تم سے محبت رکھتا ہوں"۔ آگے فرمایا : "اے معاذ! میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ہرگز نہ چھوڑنا : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔ (اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہتر انداز میں اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔)

رواه أبو داود والنسائي وأحمد درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ان سے فرمایا : اے معاذ! میں تم سے محبت رکھتا ہوں اور وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ہرگز نہ چھوڑنا : (اللهم أَعِنّي على ذكرك) یعنی اے اللہ! طاعت گزاری سے قریب کرنے والے ہر قول و عمل میں تیرا ذکر کرنے، (وشُكْرِك) نعمتیں حاصل ہونے اور نقمتیں زائل ہونے پر تیرا شکر ادا کرنے، (وحُسْن عبادتك) اور اخلاص و اتباع نبوی کے مطابق بہتر انداز میں اللہ کی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔

فوائد

  • کسی انسان کو یہ بتانا مشروع ہے کہ وہ اس سے اللہ کی خاطر محبت رکھتا ہے۔
  • ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پابندی سے پڑھنا مستحب ہے۔
  • ان چند الفاظ میں جو دعا سکھائی گئی ہے، اس میں دنیا و آخرت کے تمام مطالب سمٹ آئے ہیں۔
  • محبت جب اللہ کی خاطر ہو، تو انسان ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرتا ہے، ایک دوسرے کی خیرخواہی کرتا ہے اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے۔
  • طیبی کہتے ہیں : اللہ کا ذکر انشراح صدر کا پیش خیمہ ہے اور اس کا شکر مزید نعمتوں کے حصول کا سبب ہے۔ جب کہ حسن عبادت سے مطلوب ایسی تمام چیزوں سے دست کش ہو جانا ہے، جو انسان کو اللہ کے ذکر سے غافل کر دیں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

سوالات

اس صفحے پر کیا ہے؟

نماز کے بعد کے اذکار: ہر ایک عربی میں، اپنے ترجمے، ماخذ حدیث، درجے اور شرح کے ساتھ۔

ترجمے کہاں سے لیے گئے ہیں؟

HadeethEnc.com سے، جو ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ہر حدیث بالکل ویسے ہی دکھائی جاتی ہے جیسے وہاں شائع ہوئی، اپنے حوالے اور درجے کے ساتھ، اور اصل کا لنک بھی دیا جاتا ہے۔

کیا مجھے روزانہ یاد دہانی مل سکتی ہے؟

جی ہاں۔ اینڈرائیڈ کے لیے مفت قبس ایپ آپ کو ہر روز صبح و شام کے اذکار یاد دلاتی ہے اور اس میں یہی کاؤنٹر موجود ہے۔