نماز کی دعائیں: ثنا، رکوع، سجدہ اور تشہد

وہ دعائیں جو نبی کریم ﷺ نماز میں تکبیر تحریمہ سے سلام تک پڑھتے تھے۔

1 ایک بار

اللهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ

ترجمہ اور حوالہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: اللہ کے رسول ﷺ جب (آغاز ) نماز کے لیے تکبیر کہتے، تو قراءت کرنے سے پہلے کچھ دیر سکوت فرماتے۔ میں نےعرض کیا : اے اللہ کے رسول (ﷺ)! میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ جو تکبیر اور قراءت کے درمیان آپ کی خاموشی ہے، (اس کے دوران میں ) آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا: ’’میں کہتا ہوں: اللھم باعد بینی وبین خطایاي کما باعدت بین المشرق والمغرب۔ اللہم نقني من خطایاي کما ینقی الثوب الابیض من الدنس۔ اللھم اغسلني من خطایاي بالثلج والماء والبرَد"۔

ترجمہ: اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری ڈال دے، جس طرح تونے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے دھودے، برف کے ساتھ، پانی کےساتھ اور اولوں کے ساتھ‘‘۔

متفق عليه درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب نماز کی تکبیر کہتے، تو سورہ فاتحہ پڑھنے سے پہلے ذرا دیر رکتے۔ اس وقفے میں کچھ دعاؤں کے ذریعے نماز کا آغاز کرتے۔ ان میں سے ایک دعا یہ ہے : "اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری ڈال دے، جس طرح تونے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے دھودے، برف کے ساتھ، پانی کےساتھ اور اولوں کے ساتھ"۔ آپ اللہ عز و جل سے دعا کرتے کہ وہ آپ کو گناہوں میں ملوث ہونے سے بچانے کے لیے آپ کے اور آپ کے درمیان اتنی دوری بنا دے کہ دونوں ایک دوسرے سے مل نہ سکيں۔ جیسے کہ مشرق اور مغرب کبھی آپس میں مل نہیں سکتے۔ اور اگر اس میں ملوث ہو بھی جائيں، تو ان سے آپ کو ایسے صاف ستھرا کر دے کہ جیسے سفید کپڑے سے میل کچیل کو دھو کر صاف ستھرا کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح آپ کو پانی، برف اور اولہ جیسی ٹھنڈی چیزوں کے ذریعے گناہوں سے دھو دے اور گناہوں کی تپش اور گرمی کو ٹھنڈا کر دے۔

فوائد

  • دعائے استفتاح پست آواز میں پڑھی جائے گی خواہ نماز جہری ہی کیوں نہ ہو۔
  • صحابہ رضي الله عنهم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرکات وسکنات کو جاننے کی حرص رکھتے تھے۔
  • دعائے استفتاح کے اور بھی صیغے وارد ہوئے ہيں۔ بہتر یہ ہے کہ انسان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے وارد اور ثابت استفتاح کی دعاؤں کو یاد کرلے اور کبھی اسے پڑھے تو کبھی اسے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

2 ایک بار

سبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ المَلاَئِكَةِ وَالرُّوحِ

ترجمہ اور حوالہ

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع وسجود میں ”سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوحِ“ (نہايت ہی پاک، بڑا مقدس ہے فرشتوں اور جيريل عليہ السلام کا رب) پڑھا کرتے تھے۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے روايت ہے کہ بے شک اللہ کے رسول ﷺ اپنے رکوع اورسجدوں ميں ”سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوحِ“ پڑھا کرتے تھے يعني اے اللہ تو نہايت ہی پاک، بڑا مقدس ہے۔ یہ پاکی بیان کرنے میں مبالغہ ہے، اور یہ کہ اللہ جل وعلا بہت ہی پاکیزہ اور انتہائی مقدس ہے۔ ”فرشتوں کا رب ہے“ فرشتے اللہ کی ايسی فوج ہیں جن کا ہم مشاہدہ نہيں کرتے اور ”روح“ سے مراد جيريل عليہ السلام ہیں جو کہ فرشتوں ميں سب سے افضل ہيں۔ لھٰذا انسان کو چاہيے کہ اپنے رکوع اور سجود ميں کثرت سے ”سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوحِ“ پڑھے۔

”قُدُّوسٌ“ اللہ رب العزت کے اچھے ناموں ميں سے ايک ہے جو کہ قدَّسَ سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے: اس نے اللہ رب العالمين کی تعظيم اور بڑائی کے ساتھ اسے ہر طرح کی برائی سے پاک قرار ديا

اسی طرح ”سُبُّوحٌ“ بھی اللہ کے اچھے ناموں ميں سے ہے اور اس کا معنی ہے جس کی پاکی بيان کی جائے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

3 ایک بار

سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ

ترجمہ اور حوالہ

عبداللہ بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رکوع سے پیٹھ اٹھاتے، تو یہ دعا پڑھتے : "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ۔" (اللہ نے اس کی سن لی، جس نے اس کی تعریف کی٭۔ اے اللہ! ہمارے رب! تیری ہی تعریف ہے آسمانوں کی وسعتوں کے برابر، زمین کی وسعتوں کے برابر اور اس کے بعد بھی تو جو چاہے، اس کی وسعتوں کے برابر۔)

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز میں رکوع سے سر اٹھاتے، تو فرماتے : "سمع الله لِمَن حمده"۔ یعنی جس نے اللہ کی تعریف کی، اللہ اس کی تعریف کو قبول کرتا ہے اور اسے ثواب عطا کرتا ہے۔ اس کے بعد ان الفاظ میں اللہ تعالی کی تعریف کرتے : "اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ۔" یعنی اللہ کی تعریف ہے آسمانوں کی وسعتوں کے برابر، زمین کی وسعتوں کے برابر، ان دونوں کے بیچ کی وسعتوں کے برابر اور ان تمام چیزوں کی وسعتوں کے برابر جو اللہ چاہے۔

فوائد

  • اس ذکر کا بیان جو رکوع سے سر اٹھاتے وقت کہنا مستحب ہے۔
  • رکوع سے اٹھنے کے بعد اطمینان کے ساتھ سیدھا کھڑا ہونا ضروری ہے۔ کیوں کہ اس پورے ذکر کو پڑھنا اسی وقت ممکن ہے، جب آدمی پورے اطمینان کے ساتھ کھڑا ہو۔
  • یہ ذکر ہر نماز میں مشروع ہے، خواہ فرض ہو یا نفل۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

4 ایک بار

اللَّهمَّ اغْفِرْ لي، وارْحَمْنِي، وعافِني، واهْدِني، وارزقْنِي

ترجمہ اور حوالہ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے : "اللَّهمَّ اغْفِرْ لي، وارْحَمْنِي، وعافِني، واهْدِني، وارزقْنِي"۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، مجھے عافیت دے، میری رہ نمائی فرما اور مجھے رزق عطا کر۔)

رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد درجہ: حسن بشواهده

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز کے اندر دو سجدوں کے بیچ یہ پانچ چیزیں مانگا کرتے تھے، جن کی ایک مسلمان کو بڑی ضرورت ہوتی ہے اور جن کے اندر دنیا اور آخرت دونوں جہان کی بھلائیاں سمٹ آئی ہيں۔ آپ اللہ سے گناہوں پر پردہ ڈالنے اور انھیں بخش دینے، اپنے اوپر رحمت کی چادر تان دینے، شکوک و شبہات، شہوتوں اور بیماریوں سے عافیت میں رکھنے، راہ حق پر چلانے اور اس پر مضبوطی سے قائم رکھنے اور ایمان، علم، عمل صالح اور رزق حلال عطا کرنے کی دعا کیا کرتے تھے۔

فوائد

  • دو سجدوں کے بیچ کے جلسے میں اس دعا کی مشروعیت۔
  • ان دعاؤں کی فضیلت، جو دنیا و آخرت کی بھلائیوں پر مشتمل ہیں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

5 ایک بار

اللهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ، وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ

ترجمہ اور حوالہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "رسول اللہ ﷺ سجدے میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”اے اللہ! میرے تمام چھوٹے اور بڑے، اگلے اور پچھلے، علانیہ اور پوشیدہ گناہ معاف فرما دے۔‘‘

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سجدے میں یہ دعا کرتے تھے: "اللهم اغفر لي ذنبي" یعنی اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، ان پر پردہ ڈال دے، درگزر اور چسم پوشی فرما۔ "كله" سارے گناہ۔ یعنی "دِقّه" چھوٹے اور معمولی گناہ۔ "وجِلّه" بڑے اور زیادہ گناہ۔ "وأوله" پہلا گناہ۔ "وآخره" آخری گناہ اور درمیان کے تمام گناہ۔ "علانيته وسره" علانیہ اور پوشیدہ گناہ، جنھیں تیرے سوا کوئی نہيں جانتا۔

فوائد

  • ابن قیم کہتے ہيں: چھوٹے اور بڑے، معمولی اور غیر معمولی، پہلے اور بعد کے اور چھپے اور علانیہ تمام گناہوں سے، عموم اور شمول کے ساتھ مغفرت طلب اس لیے کی گئی ہے، تاکہ تمام گناہوں سے توبہ ہو جائے۔ بندہ جنھیں جانتا ہے ان سے بھی اور جنھیں نہیں جانتا ہے ان سے بھی۔
  • کسی نے کہا ہے: آپ نے 'الجِلّ' سے پہلے 'الدِّق' کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ مانگنے والا مانگتے وقت درجہ بہ درجہ آگے بڑھتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کبیرہ گناہ عام طور پر صغیرہ گناہوں پر اصرار اور ان کے بارے میں لاپرواہی کے نتیجے میں سامنے آتے ہيں۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ صغیرہ گناہ کبیرہ گناہ کے وسائل ہیں اور وسائل کا ذکر پہلے ہونا چاہیے۔
  • عاجزی وانکساری اختیار کرکے اللہ سے چھوٹے بڑے تمام گناہوں سے مغفرت طلب کرنی چاہیے۔
  • نووی کہتے ہيں: اس حدیث میں باربار دعا کرنے اور بہ کثرت دعا کے الفاظ استعمال کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، اگرچہ دعا کے بعض الفاظ بعض سے بے نیاز کرتے ہوں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

6 ایک بار

اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ

ترجمہ اور حوالہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: مجھے ایک رات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بستر پر نہيں ملے۔ ڈھونڈنا شروع کیا، تو میرے ہاتھ آپ کے پیروں کے تلووں سے جا لگے۔ آپ مسجد میں (سجدے کی حالت میں) تھے اور آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے۔ آپ فرما رہے تھے: "اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ"۔ (اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں اور تیرے عفو و کرم کے ذریعے تیری سزا سے پناہ مانگتا ہوں اور تیری ذات کے ذریعے تیرے قہر وغضب سے پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری تعریف کا شمار نہیں کر سکتا۔ تو ویسا ہی ہے، جیسا تو نے خود اپنی تعریف کى ہے۔"

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بغل میں سوئی ہوئی تھی کہ رات میں آپ بستر پر نہیں ملے۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے حجرے کی اس جگہ کو ٹٹولا، جہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نماز پڑھا کرتے تھے، تو پایا کہ آپ سجدے کی حالت میں ہیں، آپ کے دونوں قدم کھڑے ہيں اور کہہ رہے ہیں:

"اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ". یعنی اے اللہ! مجھے تیری رضا چاہیے۔ میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تو مجھ پر یا میری امت پر ناراض ہو جائے۔ "وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ"۔ میں تیرے بے پایاں عفو و درگزر کے ذریعہ تیری سزا سے پناہ مانگتا ہوں۔ "وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ". میں تیری صفات جمالی کے وسیلے سے تیری صفات جلالی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ کیوں کہ تجھ سے پناہ بس تو ہی دے سکتا ہے۔ اللہ کے دربار کے علاوہ نہ کوئی بچ کر نکلنے کی جگہ ہے اور نہ کوئی پناہ گاہ۔ "لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ"۔ میں ہزار کوشش کے باوجود تیری ان نعمتوں اور احسانات کو کما حقہ شمار نہيں کر سکتا، جن سے تونے مجھے نواز رکھا ہے۔ "أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ"۔ تو ویسا ہی ہے، جیسا تونے اپنی تعریف کرتے ہوئے اپنے بارے میں بتایا ہے۔ تونے اپنی تعریف اپنے شایان شان انداز میں کی ہے۔ تیری تعریف کا حق دوسرا کوئی ادا کر نہیں سکتا۔

فوائد

  • سجدے میں ان دعاؤں کو پڑھنا مستحب ہے۔
  • میرک کہتے ہيں: نسائی کی ایک روایت میں ہے: آپ یہ دعا اس وقت کرتے، جب نماز سے فارغ ہو جاتے اور بستر پر چلے جاتے۔
  • اللہ تعالی کی صفات کے ذریعہ اللہ کی حمد وثنا بیان کرنا اور کتاب وسنت سے ثابت شدہ اسمائے گرامی کے ذریعہ اللہ سے دعا کرنا مستحب ہے۔
  • رکوع و سجود میں خالق کی تعظیم کرنے کی مشروعیت۔
  • جس طرح اللہ پاک وبرتر کی ذات کے ذریعہ پناہ طلب کرنا جائز ہے، اسی طرح اللہ تعالی کی صفات کے ذریعہ پناہ طلب کرنا بھی جائز ہے۔
  • خطابی کہتے ہیں: اس دعا کے اندر ایک باریک نکتہ موجود ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ سے اس کی ناراضگی سے اس کی رضا کی پناہ مانگی ہے اور اس کی سزا سے اس کے عفو ودرگزر کی پناہ مانگی ہے۔ رضا اور ناراضگی دونوں ایک دوسرے کی ضد ہيں۔ اسی طرح عفو ودرگزر اور سزا بھی ایک دوسرے کی ضد ہيں۔ لیکن جب آپ نے ایسی ہستی کا ذکر کیا، جس کی کوئی ضد نہيں ہے، یعنی اللہ سبحانہ و تعالی کا ذکر کیا، تو بس اسی کی پناہ مانگی۔ کسی اور کی نہيں۔ مطلب یہ کہ اللہ کی کما حقہ عبادت اور اس کی تعریف میں ہونے والی کوتاہی سے مغفرت طلب کی گئی ہے۔ دعا کے الفاظ "لا أحصي ثناء عليك" کے معنی ہیں: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا اور یہ میرے بس کا کام نہيں ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

7 ایک بار

التحيَّات المباركات، الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لله، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وَبَرَكَاتُهُ، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وأشهد أنَّ محمَّدا رسول الله

ترجمہ اور حوالہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد یوں سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے، آپ فرمایا کرتے تھے: ”التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ“۔ بقا و بادشاہت، عظمت و اختیارات، کثرتِ خیر اور ساری بابرکت دعائیں اورساری پاکیزہ نمازیں اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔

ابن رمح کی روایت میں ہے کہ جس طرح آپ ﷺ ہمیں قرآن سکھاتے تھے۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

حدیث شریف کلماتِ تشہد کو بیان کرتی ہے اور یہ کہ نبی ﷺ صحابہ کو اسی اہتمام کے ساتھ تشہد سکھاتے تھے جس اہتمام سے آپ انہیں قرآن مجید کی آیتیں سکھاتے تھے،تشہد کے الفاظ یہ ہیں: ”التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ“، تشہد کے یہ الفاظ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی مشہور کلماتِ تشہد کے قریب تر ہیں،فرق صرف ”المبارکات“ کے لفظ کی زیادتی اور اس کے بعد دونوں کلمات میں ”واو“ کے حذف کا ہے۔ تشہد کے سلسلہ میں وارد مختلف صیغوں کو پڑھنے میں تنوع اپنانا مشروع ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

8 ایک بار

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

ترجمہ اور حوالہ

عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا کہ کیا میں تمھیں ایک تحفہ نہ دوں؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے پاس آئے تو ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم یہ تو جان گئے ہیں کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں، لیکن (یہ نہيں معلوم کہ) ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا : "تم کہو : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ"۔ (اے اللہ ! محمد (ﷺ) پر اپنی رحمت نازل کر اور آل محمد (ﷺ)پر، جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر رحمت نازل کی ہے۔ بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے۔ اے اللہ ! محمد (ﷺ) پر اور آل محمد (ﷺ) پر برکت نازل کر، جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر برکت نازل کی ہے۔ بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے۔)

متفق عليه درجہ: صحيح

شرح

صحابہ رضی اللہ عنہم کو جب پتہ ہو گیا کہ التحیات میں "السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته..." کہہ کر آپ پر سلام بھیجا جائے گا، تو آپ سے پوچھا کہ آپ پر درود کیسے بھیجا جائے؟ جواب میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو آپ پر درود بھیجنے کا طریقہ بتا دیا، جو کچھ اس طرح ہے : "اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمد" یعنی: اے اللہ! مقرب فرشتوں کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ و سلم، آپ کے دین کے پیروکاروں اور آپ کے اہل ایمان رشتے داروں کی ذکر جمیل کے ذریعے تعریف کر۔ "كما صلَّيتَ على آل إبراهيم" جس طرح آل ابراہیم یعنی ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور ان کی مومن اولاد و متبعین کو تونے یہ اعزاز بخشا ہے، اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو بھی اس اعزاز سے سرفراز فرما۔ "إنك حميد مجيد" یعنی تو اپنی ذات، صفات اور افعال میں قابل تعریف اور بے پناہ عظمتوں، بلند شان و شوکت اور بیش بہا نوازشوں والا ہے۔ "اللهم بارك على محمدٍ وعلى آل محمد كما باركتَ على آل إبراهيم" یعنی آپ کو بڑی خیر و عزت عطا فرما، اس میں اضافہ فرما اور اسے قائم و دائم رکھ۔

فوائد

  • سلف ایک دوسرے کو علمی مسائل کا ہدیہ پیش کیا کرتے تھے۔
  • نماز کے آخری تشہد میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنا واجب ہے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو درود وسلام بھیجنے کی تعلیم دی۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنے کے یہ کلمات کامل ترین کلمات ہیں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

9 ایک بار

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا وَالمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجَّالِ

ترجمہ اور حوالہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم دعا کرتے تھے اور کہتے تھے : "اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، جہنم کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے سے"۔ جب کہ صحیح مسلم میں ایک روایت ہے : "جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو، تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے : جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کی برائی سے۔"

متفق عليه درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز میں آخری تشہد کے بعد اور سلام سے پہلے چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے اور ہمیں بھی ان سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے۔

1- قبر کے عذاب سے۔

2- جہنم کے عذاب سے۔ یعنی قیامت کے دن۔

3- زندگى کے فتنے سے، جیسے اس کی حرام خواہشات اور گمراہ کن شبہات سے- اور موت کے فتنے سے، یعنی حالت نزع میں اسلام یا سنت سے بھٹک جانے سے یا پھر قبر کے فتنے سے، جیسے دونوں فرشتوں کے سوال سے۔

4- مسیح دجال کے فتنے سے، جو آخری زمانے میں نکلے گا اور جس کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو آزمائے گا۔ یہاں بطور خاص دجال کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کا فتنہ بڑا بھیانک فتنہ ہوگا اور وہ لوگوں کو بہت بڑے پیمانے پر گمراہ کرے گا۔

فوائد

  • یہ دعا ایک بہت ہی اہم اور جامع ترین دعا ہے، کیوں کہ یہ دنیا اور آخرت کی برائیوں سے پناہ مانگنے پر مشتمل ہے۔
  • قبر کے عذاب کا ثبوت اور اس کا حق ہونا۔
  • فتنوں کا نقصان اور اللہ کی پناہ مانگنے اور فتنوں سے نجات پانے کی دعا کی اہمیت۔
  • دجال کے ظہور اور اس کے فتنے کے بڑا ہونے کا ثبوت۔
  • آخری تشہد کے بعد اس دعا کو پڑھنا مستحب ہے۔
  • عمل صالح کے بعد دعا کرنا مستحب ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

10 ایک بار

اللهم اغفر لي ما قدَّمتُ وما أخَّرتُ، وما أسررتُ وما أعلنتُ، وما أسرفتُ، وما أنت أعلم به مني، أنت المُقَدِّم وأنت المؤَخِّر، لا إله إلا أنت

ترجمہ اور حوالہ

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب صلاۃ کے لیے کھڑے ہوتے تو (’’اللہ اکبر‘‘ کہتے پھر) یہ دعا پڑھتے: ”وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا [مُسْلِمًا] وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ؛ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ [لِي] إِلا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، [إِنَّهُ] لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ لا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ [ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ] أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ“ میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں تمام ادیان سے کٹ کر سچے دین کا تابع دار اور مسلمان ہوں، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے سا تھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ میری صلاۃ، میری قربانی ، میرا جینا ا ور مر نا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا تا بع دار ہوں۔ اے اللہ! تو باد شاہ ہے، تیرے سوا میرا کوئی اور معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، مجھے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف ہے، تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت فرما، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کرنے والا کوئی نہیں، مجھے حسن اخلا ق کی ہدایت فرما، ان اخلاق حسنہ کی جانب صرف تو ہی رہنمائی کرنے والا ہے، بری عا دتوں اور بدخلقی کو مجھ سے دور کر دے، صرف تو ہی ان بری عادتوں کو دور کرنے والا ہے۔ میں حاضر ہوں، تیرے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تیری طرف برائی کی نسبت نہیں کی جاسکتی، میں تیر ا ہوں اور میرا ٹھکانا تیری ہی طرف ہے، تو بڑی بر کت والا اور بہت بلند وبالا ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا اور تیرے حضو ر توبہ کرتا ہوں۔ اور جب آپ ﷺ رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑ ھتے: ”اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي“ اے اللہ ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا تابع دار ہوا، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ، میری ہڈی اور میرے پٹھے تیرے لیے جھک گئے، اور جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: ”سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَ[مِلْئَ] مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ“ اللہ نے اس شخص کی سن لی (قبول کرلیا) جس نے اس کی تعر یف کی، اے ہمارے رب !تیرے لیے حمد و ثنا ہے آسمانوں اور زمین کے برابر اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کے برابر اور اس کے بعد جو کچھ تو چا ہے اس کے برابر۔

اور جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو کہتے : ”اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، وَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ“ اے اللہ!میں نے تیرے لیے سجدہ کیا ، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا فرماں بر دار و تابع دار ہوا، میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کا جس نے اسے پیدا کیا اور پھر اس کی صورت بنائی تو اچھی صورت بنائی ، اس کے کان اور آنکھ بنائے۔ اللہ کی ذات بڑی با بر کت ہے وہ بہترین تخلیق فرما نے والا ہے۔

اور جب آپ ﷺ سلام پھیرتے تو کہتے: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ“ اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے گناہوں کی مغفرت فرما اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے در گزر فرما جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

نبی ﷺ جب صلاۃ (نماز) کے لیے کھڑے ہوتے تو پڑھتے: ”وَجَّهتُ وجهي للذي فطر السماوات والأرض“ یعنی اپنی عبادت کے ساتھ میں متوجہ ہوتا ہوں۔ معنیٰ یہ ہے کہ میں اپنی عبادت کو خالصتاً اللہ کے لیے کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو بغیر کسی سابقہ نمونے کے پیدا کیا اور اس کے علاوہ تمام اشیاء سے میں منہ موڑتا ہوں۔جس نے اس طرح کی مخلوقات پیدا کی ہیں جو انوکھے پن اور اتقان میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہیں وہ اس لائق ہے کہ چہروں کا رخ اسی کی طرف ہو اور تمام احوال میں دل اسی پر تکیہ کریں اور اس کے سوا کسی اور کی طرف متوجہ نہ ہوں اور اس کی رضا و خیر کے دوام کے سوا ان کی کوئی اور آرزو نہ ہو۔ ”حنيفًا وما أنا من المشركين“ یعنی میں ہر باطل دین سے ہٹ کر دین حق کی طرف آنے والا اور اس پر ثابت قدم رہنے والا رہوں۔ عربوں کے ہاں اس لفظ کا استعمال اس شخص کے لیے عام ہو گیا تھا جو ابراہیم علیہ السلام کے دین پر قائم ہوتا۔

پھر آپ ﷺ فرماتے: ”إنَّ صلاتي، ونُسُكي، ومَحياي، ومماتي لله رب العالمين، لا شريك له، وبذلك أُمِرتُ وأنا من المسلمين“ یعنی میری نماز، میری عبادت اور میری نیکی سب کچھ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہے۔ اس میں میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ اسی طرح میری زندگی اور موت اللہ کے لیے ہے۔ وہی ان کا خالق اور ان کا مقدر کرنے والا ہے۔ اس کے سوا کسی کو ان میں تصرف کا اختیار حاصل نہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں پاک ہے۔ میرے رب نے مجھے اس توحید و اخلاص کا حکم دیا ہے اور میں اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے والے فرماں بردار اور اطاعت گزار بندوں میں سے ہوں۔

پھر آپ ﷺ فرماتے: ”اللهمَّ أنت المَلِك لا إله إلَّا أنت، أنت ربي، وأنا عبدك، ظلمتُ نفسي، واعترفتُ بذنبي، فاغفر لي ذنوبي جميعًا، إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت“ یعنی اے اللہ! تو بادشاہ ہے۔ تیرے سوا کوئی بادشاہ نہیں۔ بادشاہت درحقیقت تیرے سوا کسی کی نہیں۔ الوہیت میں تو یکتا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ تیرے ذکر سے غافل ہو کر اور معاصی و گناہوں کا ارتکاب کر کے میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے۔ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔ تو ہی غفار و غٖفور ہے۔

پھر آپ ﷺ فرماتے: ”واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت، واصرف عني سيئَها لا يصرف عني سيئها إلا أنت“ کہ بہترین اخلاق کی طرف میری رہنمائی فرما، مجھے انہیں اپنانے اور ان پر ثابت قدم رہنے کی توفیق مرحمت فرما۔ اپنی عبادت اور دیگر معاملات میں مجھے ظاہری و باطنی بہترین اور پاکیزہ اخلاق تک رسائی عطا فرما۔ان کی طرف رہنمائی کرنے والا تو ہی تو ہے۔ تیرے سوا کوئی راہنما نہیں۔ برے اخلاق سے مجھے دور رکھ اور ان سے میری حفاظت فرما۔ان سے دور رکھنے والا اور ان سے حفاظت کرنے والا تیرے سوا کوئی نہیں۔ پھر آپ ﷺ فرماتے: ”لبَّيْك وسَعْدَيْك“ یعنی تیری اطاعت پر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قائم ہوں اور اس اطاعت پر قائم رہنے اور تیری پکار کا جواب دینے کی مجھے خوشی در خوشی ہے۔

پھر آپ ﷺ فرماتے: ”والخيرُ كله في يديك“ خیر سب کی سب تیرے تصرف میں ہے۔ تو ہی اس کا مالک ہے اور اس میں تیری منشا کے مطابق بس تیرا ہی اختیار چلتا ہے۔

”والشر ليس إليك“ یعنی شر تیرے مفعولات اور مخلوقات میں ہوتا ہے نہ کہ فعل میں۔ شر کی نسبت کسی بھی صورت میں اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف نہیں کی جاسکتی، نہ اس کی ذات کی طرف اور نہ ہی صفات کی طرف اور نہ ہی اس کے افعال و اسماء کی طرف۔ اللہ کی ذات کو ہر طرح سے کمال مطلق حاصل ہے اور اس کی تمام صفات کامل صفات ہیں جن پر اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔ اللہ کے تمام افعال خیر و رحمت اور عدل و حکمت سے مرکب ہیں۔ ان میں کسی بھی طور پر شر نہیں ہوتا۔ اس کے تمام اسماء حُسن وخوبی سے متصف ہیں۔ چنانچہ اس کی طرف شر کی نسبت کیسے کی جا سکتی ہے؟ بلکہ شر اس کے مفعولات و مخلوقات میں ہوتا ہے جو اس کی ذات سے الگ ہے۔ کیونکہ اس کا فعل، مفعول نہیں ہے۔ اس کا فعل تو سب کا سب خیر ہے۔ جب کہ مخلوق جو فعل کا نتیجہ ہوتی ہے اس میں خیر بھی ہوتی ہے اور شر بھی۔ جب شر ایک ایسی شے ہے جو الگ سے ایک مخلوق ہے اور رب تعالی شانہ کے ساتھ اس کا وجود قائم نہیں تو اس کی نسبت بھی اس کی طرف نہیں کی جائے گی۔ اس میں معتزلہ کی حجت نہیں جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے شر کو پیدا نہیں کیا۔ اللہ خیر و شر اور ہر شے کا خالق ہے۔

”أنا بك وإليك“ یعنی میں تجھ ہی سے پناہ مانگتا ہوں، تجھ ہی پر تکیہ کرتا ہوں، تیری حفاظت میں آتا ہوں اور تیرے سہارے ہی قائم ہوں۔ میرا رخ تیری طرف ہے اور میں تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں۔یا پھر یہ معنی ہے کہ میں تجھ ہی سے مربوط ہوں اور میرے معاملے کی انتہا تو ہی ہے۔ تو ہی مبدأ ہے اور تو ہی منتہا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا ایک معنی یہ بھی ہے: میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں۔

”تباركتَ وتعاليتَ“ یعنی تو عظیم و بزرگ ذات ہے اور تیری بھلائیاں بہت زیادہ ہیں۔ تو ان تمام باتوں سے بالا تر ہے جنہیں اوہام اور عقلیں تصور کرتی ہیں اور تو ہر نقص اور عیب سے پاک ہے۔ ”أستغفرك وأتوب إليك“ میں تجھ سے گزشتہ گناہوں پر مغفرت طلب کرتا ہوں اور باقی زندگی میں، مَیْں گناہ سے منہ موڑتا ہوں اور تاوقتِ مرگ توفیق و ثابت قدمی سے تیری طرف متوجہ رہنے کا عزم کرتا ہوں۔

جب آپ ﷺ رکوع فرماتے تو کہتے: ”اللهمَّ لك ركعتُ، وبك آمنتُ، ولك أسلمتُ، خشع لك سمعي، وبصري، ومُخِّي، وعظمي، وعَصَبي“ یعنی میرا رکوع خالصتاً صرف تیرے لیے ہے، میں تجھ پر ایمان لایا اور تیرا مطیع ہوا۔ میرے تمام اعضاء یعنی کان، آنکھ، مغز، ہڈی اور اعصاب سب کے سب تیرے حکم کے سامنے ہیچ اور اس کے پابند ہیں۔

جب آپ ﷺ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو کہتے: ”اللهم ربنا لك الحمد مِلءَ السماوات، ومِلءَ الأرض، ومِلءَ ما بينهما، ومِلءَ ما شئتَ من شيء بعد“ یعنی میں تیری ایسی حمد کرتا ہوں کہ اگر اس کا جسم ہوتا تو یہ آسمانوں اور زمین اور آسمانوں اور زمین کے بعد ہر اس شے کو بھر دیتی جسے تو چاہتا۔

جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو کہتے: ”اللهم لك سجدتُ،وبك آمنتُ، ولك أسلمتُ، سجد وجهي للذي خلقه، وصوَّره، وشقَّ سمعَه وبصرَه، تبارك الله أحسنُ الخالقين“ یعنی میرا سجدہ خالصتاً صرف تیرے لیے ہے۔میں تجھ پر ایمان لایا اور تیرا مطیع ہوا۔ میرے تمام اعضاء جنہیں تو نے پیدا کیا ہے اور انہیں شکل دی ہے وہ سب تیرے حکم کے پابند ہیں۔

”تبارک اللہ احسن الخالقین“بابرکت ہے وہ ذات باری تعالیٰ جو سب سے بہتر پیدا کرنے والی ہے۔

تشہد اور سلام کے مابین آخر میں آپ ﷺ یہ کہتے: ”اللهم اغفر لي ما قدَّمتُ وما أخَّرتُ، وما أسررتُ وما أعلنتُ، وما أسرفتُ، وما أنت أعلم به مني، أنت المُقَدِّم وأنت المؤَخِّر، لا إله إلا أنت“ یعنی اے اللہ! میرے گزشتہ اور آئندہ گناہ معاف فرما۔ گویا کہ آپ ﷺ یہ کہتے کہ میرے پرانے اور نئے سب گناہ معاف فرما۔ ”وما أسررتُ وما أعلنتُ“ یعنی میرے پوشیدہ اور ظاہری گناہ معاف فرما یا وہ گناہ معاف فرما جن کا خیال میرے دل میں آیا اور وہ بھی جو میری زبان تک آ گئے۔ ”وما أسرفت“ یعنی میرے اُن گناہوں اور معصیتوں کو معاف فرما جن میں میں نے حد سے تجاوز کیا۔ ”وما أنت أعلم به مني“ یعنی میرے وہ گناہ بھی معاف فرما جن کو میں نہیں جانتا۔ ”أنت المقدِّم وأنت المؤخِّر“ معنی یہ کہ اپنی حکمت کے تقاضے کے تحت اپنی طاعت وغیرہ کی بدولت تو جسے چاہتا ہے آگے کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے پیچھے کر دیتا ہے۔ تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے ذلیل کر دیتا ہے۔ ”لا إله إلا أنت“ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

11 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت ميں ہوتا ہے، لہٰذا تم (سجدے میں) خوب دعا کیا کرو“۔

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ نزدیک اس وقت ہوتا ہے، جب وہ سجدے میں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سجدے کی حالت میں بندہ اپنے جسم کے سب سے اعلی و اشرف عضو کو زمین پر رکھ کر اللہ کے سامنے خشوع وخضوع اور عاجزی وانکساری کا اظہار کرتا ہے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سجدے کی حالت میں زیادہ سے زیادہ دعا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس طرح یہاں قول و فعل دونوں کے ذریعے اللہ کے آگے اپنی بے مائگی کا اظہار ہوتا ہے۔

فوائد

  • نیک کام اللہ سے بندے کی قربت کو بڑھاتا ہے۔
  • سجدے کی حالت میں زیادہ سے زیادہ دعا کرنا مستحب ہے۔ کیوں کہ سجدہ دعا قبول ہونے کی جگہوں میں سے ایک جگہ ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

سوالات

اس صفحے پر کیا ہے؟

نماز کی دعائیں: ہر ایک عربی میں، اپنے ترجمے، ماخذ حدیث، درجے اور شرح کے ساتھ۔

ترجمے کہاں سے لیے گئے ہیں؟

HadeethEnc.com سے، جو ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ہر حدیث بالکل ویسے ہی دکھائی جاتی ہے جیسے وہاں شائع ہوئی، اپنے حوالے اور درجے کے ساتھ، اور اصل کا لنک بھی دیا جاتا ہے۔

کیا مجھے روزانہ یاد دہانی مل سکتی ہے؟

جی ہاں۔ اینڈرائیڈ کے لیے مفت قبس ایپ آپ کو ہر روز صبح و شام کے اذکار یاد دلاتی ہے اور اس میں یہی کاؤنٹر موجود ہے۔