اذان کے بعد کی دعا

اذان کے دوران کیا کہیں، اور اذان ختم ہونے کے بعد کی دعا۔

1 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مؤذّن کو (اذان دیتے ہوئے) سنو، تو ویسے ہی کہو، جیسے وہ کہتا ہے“۔

متفق عليه درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اذان سنتے وقت مؤذن کا جواب دینے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ جواب میں ہمیں جملہ در جملہ وہی کچھ کہنا چاہیے، جو مؤذن کہتا ہو۔ جب وہ تکبیر کہے، تو ہم اس کے بعد تکبیر کہیں گے اور جب وہ دونوں گواہیاں پیش کرے، تو ہم اس کے بعد دونوں گواہیاں پیش کريں گے۔ لیکن "حی علی الصلاۃ" اور "حی علی الفلاح" کے الفاظ اس سے مستثنی ہیں۔ ان دونوں جملوں کے بعد "لا حول ولا قوۃ الا باللہ" کہا جائے گا۔

فوائد

  • ایک مؤذن کی اذان ختم ہونے کے بعد دوسرے مؤذن کے کلمات کا بھی جواب دیا جائے گا۔ اگرچہ مؤذن متعدد ہوں، تب بھی۔ کیوں کہ حدیث عام ہے۔
  • انسان اگر بیت الخلا میں نہ ہو یا قضائے حاجت میں مشغول نہ ہو، تو دیگر تمام حالتوں میں وہ مؤذن کا جواب دے گا۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

2 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جب مؤذن نے "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا اور تم میں سے کسی نے "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا، پھر مؤذن نے "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا اور اس نے بھی "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا، پھر مؤذن نے "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ" کہا اور اس نے بھی "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ" کہا، پھر مؤذن نے "حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ" کہا اور اس نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، پھر مؤذن نے "حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ" کہا اور اس نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، پھر مؤذن نے "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا اور اس نے بھی "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا، پھر مؤذن نے "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا اور اس نے بھی سچے دل سے "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا، تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔"

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اذان لوگوں کے لیے نماز کا وقت داخل ہونے کا اعلان ہے اور اذان کے کلمات عقیدۂ توحید پر مشتمل بڑے ہی جامع کلمات ہیں۔

اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ اذان سننے والے کو کیا کرنا چاہیے۔ دراصل اذان سننے والے کو اسی طرح کے کلمات کہنے چاہیے، جو مؤذن کہتا ہے۔ مثلا جب مؤذن "اللہ اکبر" کہے، تو سننے والا بھی "اللہ اکبر" کہے اور اسی طرح باقی الفاظ کو بھی اس کے ساتھ دہرائے۔ البتہ جب مؤذن "حی علی الصلاۃ" اور "حی علی الفلاح" کہے، تو سننے والا "لا حول ولا قوة إلا بالله" کہے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے آگے بتایا ہے کہ جس نے مؤذن کے ساتھ اس کے ذریعے کہے گئے الفاظ کو سچے دل سے دہرایا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔

اذان کے کلمات کے معانی : "الله أكبر" یعنی اللہ پاک ہر چیز سے عظیم، اونچے مرتبہ والا اور بڑا ہے۔

"أشهد أن لا إله إلا الله" یعنی اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے۔

"أشهد أن محمّدًا رسول الله" یعنی میں اپنی زبان اور دل سے اس بات کا اقرار کرتا اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور آپ کی اطاعت واجب ہے۔

"حيَّ على الصَّلاة" یعنی نماز کی طرف آؤ۔ جب کہ سننے والے کے قول "لا حول ولا قوَّة إلّا بالله" کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی توفیق کی بغیر انسان کے پاس نہ اطاعت کے موانع سے گلو خلاصی کا کوئی راستہ ہے، نہ عبادت کرنے کی طاقت ہے اور نہ کسی دوسری چیز کی قوت ہے۔

"حيَّ على الفلاح" یعنی کام یابی کے سبب کی جانب آؤ۔ دراصل کامیابی سے مراد جنت کا حصول اور جہنم سے نجات ہے۔

فوائد

  • مؤذن کا جواب دینے کی فضیلت۔ یاد رہے کہ "حی علی الصلاۃ" اور "حی علی الفلاح" کے علاوہ ديگر کلمات کے جواب میں انہی کلمات کو دہرایا جائے گا۔ البتہ اوپر مذکور دونوں کلمات کے جواب میں " لا حول ولا قوة إلا بالله". کہا جائے گا۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

3 ایک بار

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا

ترجمہ اور حوالہ

سعد بن ابي وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : "جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا : ’’اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے‘ اس کا کوئی شریک نہیں اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میں راضی ہوگیا اللہ کے رب ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر۔‘‘ تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہيں۔"

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا : "أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له" یعنی میں اس بات کا اقرار و اعتراف کرتا ہوں اور خبر بھی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہيں ہے اور اس کے علاوہ ہر معبود باطل ہے۔ "وأن محمدًا عبده ورسوله" یعنی ممحد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بندے ہیں، لہذا ان کی عبادت نہيں ہو سکتی اور رسول ہیں، لہذا جھوٹ نہيں بول سکتے۔ "رضيت بالله ربًّا" یعنی میں اللہ کی ربوبیت، الوہیت اور اسما و صفات سے پورے طور پر راضی ہوں۔ "وبمحمد رسولًا" یعنی جن تعلیمات کے ساتھ آپ بھیجے گئے اور جنھیں آپ نے ہم تک پہنچایا، ہم ان سے بھی راضی ہیں۔ "و بالإسلام" یعنی اوامر و نواہی کی شکل میں موجود اسلام کے تمام احکام سے راضی ہیں۔ "دينًا" یعنی اعتقاد اور انقیاد کے طور پر۔ "غفر له ذنبه" یعنی اس کے صغیرہ گناہ معاف کر دیے جائيں گے۔

فوائد

  • اذان کی آواز سنتے وقت اس دعا کو دہرانا گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

4 ایک بار

اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلاَةِ القَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ

ترجمہ اور حوالہ

جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جس نے اذان سنتے وقت یہ دعا پڑھی: "اللَّهُم ربِّ هذه الدَّعْوَة التَّامة، والصَّلاة القَائمة، آتِ محمدا الوَسِيلَة والفَضِيلة، وابْعَثْه مَقَامًا محمودًا الَّذي وعَدْتَه" (اے اللہ! اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمدﷺ کو قرب اور فضیلت عطا فرما اور انہیں مقام محمود پر کھڑا کر جس کا تو نے وعدہ کیا ہے)۔ اس کے لیے قیامت کے دن میری شفاعت واجب ہو جائے گی۔"

رواه البخاري درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بیان فرما رہےہیں کہ جس نے مؤذن کی اذان سننے کے بعد یہ دعا پڑھی:

(اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ) یعنی اذان کے یہ کامل الفاظ، جن کے ذریعے اللہ کی عبادت اور نماز کی جانب بلایا جاتا ہے اور کھڑی ہونے والی نماز، جو ہمیشہ پڑھی جاتی رہے گی، کے رب! "آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ" محمدﷺ کو جنت کا وہ اونچا مقام عطا فرما، جو آپ کے علاوہ اور کسی کو زیب نہیں دیتا اور ديگر مخلوقات کے مراتب سے اعلى مرتبہ عطا فرما۔ "وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ" اور انہیں مقام محمود عطا کر، جس کا تو نے ان سے یہ فرما کر وعدہ کیا ہے: "عسى أن يبعثك ربك مقامًا محمودًا" (عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا)۔

جس نے یہ دعا پڑھی، وہ قیامت کے دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی شفاعت کا حق دار ہو گا اور اس کے لیے آپ کی شفاعت واجب ہو جائے گی۔

فوائد

  • مؤذن کا جواب دینے کے بعد اس دعا کی مشروعیت۔ جس نے اذان نہیں سنی، وہ یہ دعا نہیں پڑھے گا۔
  • تمام مخلوقات میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضلیت کہ آپ کو وسیلہ، فضیلت، مقام محمود اور شفاعت عظمی حاصل ہوگی۔
  • رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا ثبوت۔ کیوں کہ آپ کے الفاظ ہيں : "قیامت کے دن میری شفاعت اس کے لیے واجب ہوجائے گی"۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سفارش آپ کی امت کے اہل کبائر کے لیے ہوگی کہ ان کو جہنم میں داخل نہ کیا جائے، جو جہنم میں داخل ہو چکے ہوں گے ان کو وہاں سے نکال دیا جائے، بلا حساب وکتاب جنت میں داخل کر دیا جائے یا جنت میں داخل ہونے والے لوگوں کے درجات بلند کر دیے جائيں۔
  • طیبی کہتے ہیں: اذان کے کلمات شروع سے "محمدًا رسول الله" تک "الدعوة التامة" ہیں، "حی علی الصلاۃ" اور "حی علی الفلاح" "الصلاۃ القائمة" ہیں۔ یہاں ایک احتمال اس بات کا ہے کہ "الصلاۃ" سے مراد دعا ہو اور "القائمۃ" سے مراد دائمی۔ "قام على الشيء" کے معنی ہيں کسی چیز کی پابندی کرنا۔ اس طرح "الصلاة القائمة" دعوت تامہ کا بیان (وضاحت) ہے۔ جب کہ دوسرا احتمال اس بات کا ہے کہ "الصلاة" س مراد نماز ہو، جس کی دعوت اس وقت دی جا رہی ہے۔ یہی زیادہ ظاہر بھی ہے۔
  • مہلب کہتے ہیں: اس حدیث میں نمازوں کے اوقات میں دعا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ کیوں کہ ان اوقات میں دعا قبول ہونے کی امید رہتی ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

5 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے۔ پھر مجھ پر درود بھیجو، کیوں کہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں فرشتوں کے سامنے دس بار اس کی تعریف کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو، کیوں کہ وہ جنت میں ایک مقام ہے، جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا۔ چناں چہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی۔‘‘

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز کی اذان سننے والے کو حکم دیا ہے کہ وہ مؤذن کے ذریعے کہے جانے والے الفاظ کو اس کے پیچھے پیچھے دہرائے اور جیسا جیسا مؤذن کہتا جائے، ویسا ویسا وہ بھی کہتا جائے۔ بس "حی علی الصلاۃ" اور "حی علی الفلاح" کو چھوڑ کر۔ ان دونوں جملوں کے بعد "لا حول ولا قوۃ الا باللہ" کہے۔ پھر اذان ختم ہونے کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجے۔ کیوں کہ جو شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر ایک بار درود بھیجے گا، اللہ تعالی اس کے بدلے میں فرشتوں کے سامنے دس بار اس کی تعریف کرے گا۔

بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ اللہ سے آپ کے لیے وسیلہ مانگا جائے۔ دراصل وسیلہ جنت کا ایک مقام ہے، جو اس کا سب سے اونچا مقام ہے اور وہ مقام اللہ کے تمام بندوں میں سے صرف ایک بندے کو میسر ہوگا اور آپ نے بتایا کہ مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی رہوں گا۔ دراصل آپ نے یہ بات بطور تواضع کہی ہے، کیوں کہ جب وہ اونچا مقام اللہ کے بس ایک ہی بندے کو میسر ہوگا، تو اللہ کا وہ ایک ہی بندہ آپ ہی ہوں گے۔ کیوں کہ آپ خیر الخلائق ہیں۔

اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے اللہ سے وسیلہ مانگا، اسے آپ کی شفاعت نصیب ہوگی۔

فوائد

  • مؤذن کا جواب دینے کی ترغیب۔
  • مؤذن کا جواب دینے کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنے کی فضیلت۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنے کے بعد آپ کے لیے اللہ سے وسیلہ مانگنے کی ترغیب۔
  • وسیلہ کے معنی اور اس کی اس اہمیت کا بیان کہ وہ اللہ کے بس ایک ہی بندے کو نصیب ہوگا۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان کہ یہ بلند مقام صرف آپ کے لیے خاص ہے۔
  • جو شخص اللہ تعالی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وسیلہ مانگے گا، وہ آپ کی شفاعت کا حق دار بن جائے گا۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تواضع کا بیان کہ آپ نے اپنی امت سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ آپ کے لیے اس مقام کی دعا کیا کریں، باوجود اس کے کہ یہ مقام آپ ہی کو حاصل ہوگا۔
  • اللہ کا بے پایاں فضل و کرم کہ وہ نیکی کا بدلہ دس گنا دیتا ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

6 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہيں ہوتی۔"

رواه أبو داود والترمذي والنسائي درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہاں اذان اور اقامت کے درمیان دعا کرنے کی فضیلت بتائی ہے۔ فضیلت یہ ہے کہ اس وقت کی جانے والی دعا رد نہيں ہوتی اور قبول کی جاتی ہے۔ اس لیے اس درمیان اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔

فوائد

  • اس وقت دعا کرنے کی فضیلت۔
  • دعا کرنے والا جب آداب دعا کا اہتمام کرے، دعا قبول ہونے کی جگہوں اور اوقات کا لحاظ کرتے ہوئے دعا کرے، اللہ کی نافرمانی سے دور رہے، شک و شبہ کی جگہوں پر قدم رکھنے سے اجتناب کرے اور اللہ سے حسن ظن رکھے، تو اس بات کی توقع ہے کہ اللہ کی اجازت سے اس کی دعا قبول ہو۔
  • مناوی دعا قبول ہونے کے بارے میں کہتے ہیں : دعا قبول اس وقت ہوتی ہے، جب اس کی شرطوں، ارکان اور آداب كا کیا خیال رکھا جائے۔ اگر ان میں سے کسی چيز کا خیال نہ رکھا گیا، تو دعا قبول نہ ہونے کا ذمے دار انسان خود ہے۔
  • دعا قبول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو انسان کو اس کی مانگی ہوئی چيز دے دی جائے یا اس سے اس کے بہ قدر برائی دور کر دی جائے یا اسے اس کی آخرت کے لیے جمع کر کے رکھ دیا جائے۔ ان سب باتوں کا انحصار اللہ کی حکمت اور اس کی رحمت پر ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

سوالات

اس صفحے پر کیا ہے؟

اذان کے بعد کی دعا: ہر ایک عربی میں، اپنے ترجمے، ماخذ حدیث، درجے اور شرح کے ساتھ۔

ترجمے کہاں سے لیے گئے ہیں؟

HadeethEnc.com سے، جو ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ہر حدیث بالکل ویسے ہی دکھائی جاتی ہے جیسے وہاں شائع ہوئی، اپنے حوالے اور درجے کے ساتھ، اور اصل کا لنک بھی دیا جاتا ہے۔

کیا مجھے روزانہ یاد دہانی مل سکتی ہے؟

جی ہاں۔ اینڈرائیڈ کے لیے مفت قبس ایپ آپ کو ہر روز صبح و شام کے اذکار یاد دلاتی ہے اور اس میں یہی کاؤنٹر موجود ہے۔