ہدایت اور دل کی ثابت قدمی کی دعا

ہدایت، تقویٰ اور ایمان پر ثابت قدم دل کے لیے دعائیں۔

1 ایک بار

اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي

ترجمہ اور حوالہ

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا: "اے اللہ! میری رہ نمائی فرما اور راہ راست پر چلا۔ "الْهُدَى" لفظ زبان پر لاتے وقت اپنے راستہ پا لینے کو یاد کر لیا کرو اور "السَّدَاد" لفظ زبان پر لاتے وقت تیر کی راستگی کو یاد کر لیا کرو۔"

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اللہ کے حضور یہ دعا کیا کریں : "اے اللہ! میری رہ نمائی فرما اور راہ راست پر چلا۔" یعنی اے اللہ! میری رہ نمائی فرما، مجھے توفیق دے اور تمام امور میں راہ راست پر چلا۔

"الهُدَى" لفظ کے معنی ہيں : حق کی تفصیلی اور اجمالی معرفت اور ظاہری و باطنی طور پر اس کے اتباع کی توفیق۔

جب کہ "السّداد" لفظ کے معنی ہيں : توفیق اور تمام کاموں میں استقامت کے ساتھ حق پر قائم رہنا۔ قول، فعل اور اعتقاد میں سیدھے راستے پر گام زن رہنا۔

چوں کہ معنوی چيز محسوس طریقے سے واضح ہوتی ہے، اس لیے یہ دعا کرتے وقت اپنے دل میں اس بات کو مستحضر رکھو کہ تم اس شخص کی طرح ہدایت مانگ رہے ہو، جو سفر پر نکلا ہوا ہو کہ وہ بھٹکنے سے بچنے اور بہ سلامت جلدی منزل تک پہنچنے کے لیے ذرا بھی دائيں بائيں منحرف نہیں ہوتا۔

اسی طرح تم تیر چلاتے وقت اس بات کا دھیان رکھتے ہو کہ وہ بہ سرعت صحیح نشانے پر جا لگے۔ جب کوئی شخص کسی چيز کو نشانہ بناکر تیر چلاتا ہے، تو تیر کو بالکل سیدھا رکھتا ہے۔ اسی طرح تم اللہ سے کہہ رہے ہو کہ وہ تم کو تیر کی طرح سیدھا رکھے۔ اس طور پر تم اپنے سوال میں ہدایت کى انتہا او راہ راست کے کمال کو مانگنے والے ہوجاؤ گے۔

اللہ سے راہ راست پر قائم رہنے کی دعا کرتے وقت اپنے دل میں اس پس منظر کو مستحضر رکھو، تاکہ راہ راست پر چلتے وقت تم درست نشانے پر چلنے والے تیر کی عملی تصویر بن سکو۔

فوائد

  • دعا کرنے والے کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ اس کا عمل پابندی سنت اور اخلاص نیت کے سانچے میں ڈھلا ہوا ہو۔
  • ان جامِع كلمات کے ذریعہ توفیق اور راہ راست پر قائم رہنے کی دعا کرنا مستحب ہے۔
  • بندے کو چاہیے کہ اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔
  • تعلیم دیتے وقت مثالوں کے ذریعے بات واضح کرنی چاہیے۔
  • ہدایت، درستگی حالت، اس پر کاربند رہنے، ایک لمحے کے لیے بھی اس سے نہ بھٹکنے اور بہتر عاقبت کی دعا۔ کیوں کہ جہاں "اهدني" میں ہدایت کے راستے پر چلنے کی دعا مانگی گئی ہے، وہیں "وسددني" میں حاصل ہونے والی ہدایت کے راستے سے نہ بھٹکنے کی بھی دعا مانگی گئی ہے۔
  • دعا کرنے والے کو پوری توجہ کے ساتھ اور دعا کے معانی کا اپنے دل میں استحضار کرتے ہوئے دعا کرنی چاہیے۔ اس سے دعا کے قبول ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

2 ایک بار

اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى، وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى

ترجمہ اور حوالہ

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگتے تھے: ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی، اور لوگوں سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں“۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

یہ دعا تمام دعاؤں کا مجموعہ اور سب سے نفع مند دعا ہے کہ جو دین و دنیا کی تمام بھلائیوں پر مشتمل ہے۔ ’ہدی‘ (ہدایت)، علم نافع کو کہتے ہیں، ’تقویٰ‘ عملِ صالح اور ان چیزوں کو چھوڑنے کا نام ہے جن سے اللہ اور اس کے رسولﷺ نے روکا ہے۔ ’عفاف‘ (پاک دامنی) مخلوق اور برے معاملات سے رک جانے کا نام ہے۔ اور غنی یعنی اللہ اور اس کے دیے ہوئے رزق کو کافی سمجھنے، جو کچھ میسر ہو اس پر قناعت کرنے اور اُس پر قناعت کرنے اور جو رزق حاصل ہو، اس پر دل کے مطمئن ہونے کو کہتے ہیں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

3 ایک بار

اللهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي، وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ

ترجمہ اور حوالہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے: "اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست کردے، جو میرے حالات کے تحفظ کا ضامن ہے اور میری دنیا کو درست کردے، جس میں میری گزر بسر ہے اور میری آخرت کو درست کردے، جہاں لوٹ کر مجھے جانا ہے اور میری زندگی کو ہر خیر میں اضافے کا سبب بنادے اور موت کو میرے لیے ہر شر سے راحت کا ذریعہ بنادے۔"

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ایسی دعا فرمائی، جس میں تمام بنیادی مکارم اخلاق کو جمع کر دیا، جن کے اتمام کے لیے آپ کو مبعوث کیا گيا تھا۔ یہ مکارم اخلاق ہیں؛ دین، دنیا اور آخرت کی درستگی۔ آپ نے مختصر الفاظ میں تینوں چیزوں کی درستگی کی دعا مانگنے کا طریقہ سکھا دیا۔ اس میں بھی آغاز دین کی درستگی سے کیا، کیوں کہ اسی سے دونوں جہانوں کی درستگی اور فلاح وابستہ ہے۔ فرمایا :

"اللهم أصلح لي ديني"۔ یعنی اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست کر دے، بایں طور کہ اس کے آداب کو پورے طور پر بجا لانے کی توفیق دے۔

"الذي هو عصمة أمري"۔ جس سے میرے تمام امور کی حفاظت وابستہ ہے۔ میرا دین بگڑ گیا، تو میرے سارے امور بگڑ جائيں گے اور میری نیا ڈوب جائے گی۔ ساتھ ہی یہ کہ مطلوبہ طور پر دین کی درستگی بھی دنیا کی درستگی کے بغیر انجام پذیر نہیں ہو سکتی، اس لیے آپ نے فرمایا:

"وأصلح لي دنياي۔" میرے لیے میری دنیا کو درست کر دے، بایں طور کہ مجھے صحت و تندرستی، امن، روزی، نیک بیوی، صالح اولاد اور ضرورت کی چیزیں عطا کر۔ یہ ساری چیزیں حلال ہوں اور ان سے تیری عبادت میں مدد ملے۔ پھر دنیا کی درستگی کی دعا مانگنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا :

"التي فيها معاشي۔" جس میں مجھے جینا ہے اور زندگی گزارنی ہے۔

"وأصلح لي آخرتي التي فيها معادي"۔ میرے لیے میری آخرت کو درست کر دے، جہاں لوٹ کر مجھے جانا ہے اور تجھ سے ملنا ہے۔ لیکن یہ اسی وقت ہو پائے گا، جب اعمال اچھے ہوں اور اللہ کی جانب سے بندے کو عبادت، اخلاص اور حسن خاتمہ کی توفیق ملے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے آخرت کے بعد دنیا کا ذکر اس لیے کیا کہ دنیا کی درستگی آخرت کی درستگی کا زینہ ہے۔ جس نے دنیا کی زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق گزار لی، اس کی آخرت سنور گئی۔

"واجعل الحياة زيادة لي في كل خير"۔ دنیا کی زندگی کو میرے لیے ہر خیر میں اضافے کا باعث بنا کہ میں اس میں زیادہ سے زیادہ نیکی کے کام کر سکوں۔ "واجعل الموت راحة لي من كل شرٍّ"۔ موت اور اس میں جلدی کو میرے لیے ہر برائی یعنی فتنہ، آزمائش، معصیت اور غفلت سے راحت، حصول آرام اور دنیا اور اس کی الجھنوں سے چھٹکارے کا سبب بنا۔

فوائد

  • دین سب سے اہم چيز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی سے دعا کا آغاز کیا۔
  • دین انسان کے تحفظ کا ضامن ہے۔ اسے ہر برائی سے روکتا ہے۔
  • دین اور آخرت کی درستگی کے لیے دنیوی چیزوں کی دعا کی جا سکتی ہے۔
  • دین کے فتنے کے ڈر سے موت کی تمنا کرنا یا اللہ سے شہادت کی موت مانگنا ناپسندیدہ امر نہيں ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

4 ایک بار

يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ

ترجمہ اور حوالہ

انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : "اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ"۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر اور آپ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لے آئے ہيں۔ پھر بھی کیا آپ کو ہمارے بارے میں ڈر ہے؟ آپ نے کہا : "ہاں! بے شک دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے بیچ میں ہیں۔ اللہ جیسے چاہتا ہے، ان کو پلٹتا ہے۔"

رواه الترمذي وأحمد درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اکثر اس بات کی دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ آپ کو دین و طاعت گزاری پر ثابت قدم اور گمراہی و کج روی سے دور رکھے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم یہ دعا اتنی زیادہ کیوں کرتے ہيں؟ لہذا آپ نے ان کو بتا دیا کہ انسان کے دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے بیچ میں ہیں۔ وہ ان کو جیسے چاہتا ہے، پلٹتا رہتا ہے۔ قلب ایمان اور کفر کا بسیرا ہے۔ قلب کو قلب اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بہت زیادہ الٹ پھیر کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ قلب ہانڈی میں موجود اس پانی سے بھی زیادہ الٹ پھیر کا شکار رہتاہے، جو تیز آنچ کی وجہ سے جوش مار رہا ہو۔ ایسے ميں اللہ جس شخص کے دل کو چاہتا ہے، ہدایت پر قائم اور دین پر ثابت رکھتا ہے۔ اس کے برخلاف جس کے دل کو چاہتا ہے، گمراہی کی طرف پھیر دیتا ہے۔

فوائد

  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے رب کے سامنے جھکتے، اپنی ساری مرادیں اسی سے مانگتے اور امت کو بھی اس کی تعلیم دیتے تھے۔
  • دین پر مضبوطی سے قائم رہنے کی اہمیت اور یہ کہ اصل اعتبار خاتمہ کا ہوتا ہے۔
  • اسلام پر ثابت قدم رہنے کے معاملے میں انسان ایک لمحے کے لیے بھی اللہ کے فضل و کرم سے بے نیاز نہيں ہو سکتا۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انسان کو کثرت سے یہ دعا پڑھنی چاہیے۔
  • اسلام پر استقامت سب سے بڑی نعمت ہے، جس کے لیے بندے کو کوشش کرنی چاہیے اور اس پر اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

5 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: "بنی آدم کے تمام دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ایسے ہیں، جیسے وہ سب ایک ہی دل ہوں۔ وہ جیسے چاہتا ہے ان کو پلٹتا رہتا ہے"۔ پھر آپ ﷺ نے یہ دعا کی: (اے اللہ! اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیرے رکھ"۔

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ تمام بنی آدم کے دل رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں۔ انھیں وہ جیسے چاہتا ہے پھیرتا ہے۔ اگر چاہے تو حق پر قائم رکھے اور چاہے تو حق سے پھیر دے۔ اس کے لیے تمام دلوں میں تصرف کرنا بس ایک ہی دل میں تصرف کرنے کی طرح ہے۔ ایسا نہيں کہ ایک میں تصرف کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا فرماتے ہوئے کہا: اے اللہ! دلوں کو کبھی نیکی کی طرف، کبھی بدی کی طرف اور کبھی غفلت کی طرف پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔

فوائد

  • تقدیر کا اثبات۔ دراصل اللہ بندوں کے دلوں کو ان کے حق میں لکھی ہوئی تقدیر کے مطابق مختلف رخ دیتا رہتا ہے۔
  • ایک مسلمان کو ہمیشہ اپنے رب سے حق اور ہدایت پر قائم رہنے کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔
  • صرف ایک اللہ سے ڈرنا چاہیے اور اسی سے تعلق قائم رکھنا چاہیے۔
  • آجری کہتے ہيں: اہل حق اللہ عز و جل کے وہی اوصاف بیان کرتے ہیں جو خود اللہ تبارک و تعالی اپنے لیے یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کے لیے بیان کیے ہیں۔ یہی اتباع سنت کے علم بردار اور بدعت سے گریزاں رہنے والے علما کا مسلک ہے۔ اہل سنت اللہ تبارک و تعالی کے انھیں اسما وصفات کو ثابت کرتے ہیں جنھیں خود اللہ نے اپنے لیے ثابت کیا ہے، بغير كسی تحریف، تعطلیل، تکییف اور تمثیل کے۔ اللہ کی ذات سے ان اسما وصفات کی نفی کرتے ہیں، جن کی نفی اس نے خود کی ہے اور جن اسما وصفات کے بارے میں نفی واثبات وارد نہ ہوا ہو، ان کے بارے میں خاموش رہتے ہيں۔ اللہ تعالی نے کہا: "اس کے جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے"۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

سوالات

اس صفحے پر کیا ہے؟

ہدایت کی دعا: ہر ایک عربی میں، اپنے ترجمے، ماخذ حدیث، درجے اور شرح کے ساتھ۔

ترجمے کہاں سے لیے گئے ہیں؟

HadeethEnc.com سے، جو ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ہر حدیث بالکل ویسے ہی دکھائی جاتی ہے جیسے وہاں شائع ہوئی، اپنے حوالے اور درجے کے ساتھ، اور اصل کا لنک بھی دیا جاتا ہے۔

کیا مجھے روزانہ یاد دہانی مل سکتی ہے؟

جی ہاں۔ اینڈرائیڈ کے لیے مفت قبس ایپ آپ کو ہر روز صبح و شام کے اذکار یاد دلاتی ہے اور اس میں یہی کاؤنٹر موجود ہے۔