کھانے سے پہلے کی دعا (بسم اللہ)

کھانے سے پہلے کیا کہیں، اور کھانے پر اللہ کا نام کیوں لیا جاتا ہے۔

1 ایک بار

بِسْمِ اللَّهِ

ترجمہ اور حوالہ

عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں بچہ تھا اور رسول اللہ ﷺ کی پرورش میں تھا۔ (کھاتے وقت) میرا ہاتھ برتن میں چاروں طرف گھوما کرتا تھا۔ اس لیے آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”بچے! بسم اللہ پڑھ لیا کرو، داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور اپنے سامنے سے کھایا کرو۔“ چنانچہ اس کے بعد میں ہمیشہ اسی ہدایت کے مطابق کھاتا رہا۔

متفق عليه درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ، جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زیر تربیت اور کفالت میں تھے، بتا رہے ہیں کہ ان کا ہاتھ کھانا کھانے کے دوران کھانا اٹھانے کے لیے برتن کے چاروں جانب گھومتا رہتا تھا، لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو کھانا کھانے کے تین آداب سکھائے :

1- کھانا کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ کہنا۔

2- دائیں ہاتھ سے کھانا کھانا۔

3- برتن میں سے اپنے سامنے والے حصے سے کھانا کھانا۔

فوائد

  • کھانے پینے کا ایک ادب یہ ہے کہ شروع میں بسم اللہ کہا جائے۔
  • بچوں کو آداب سکھانا چاہیے۔ خاص طور سے ان بچوں کو جو آپ کے زیر کفالت ہوں۔
  • بچوں کو تعلیم دینے اور ادب سکھانے کے معاملے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی نرمی اور کشادہ دلی۔
  • کھانے کا ایک ادب یہ ہے کہ انسان اپنے سامنے سے کھائے۔ ہاں! اگر پلیٹ میں کھانے کی الگ الگ طرح کی چیزیں موجود ہوں، تو اس کے لئے ان چیزوں کا (برتن کے کسى بھى حصے سے) لینا جائز ہے۔
  • صحابہ كرام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سکھائے ہوئے آداب پر پابندی سے عمل کرتے تھے۔ ایسا عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے : "چنانچہ اس کے بعد ہمیشہ میں آپ کے بتائے ہوئے اسی طریقے کے مطابق کھانا کھاتا رہا"۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

2 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے۔؟ آپ ﷺ نے فرمایا: شاید تم الگ الگ کھاتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:”اپنا کھانا اکٹھے ہو کر کھایا کرو اوراللہ کا نام لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ڈال دی جائے گی“۔

اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ درجہ: حَسَنْ

شرح

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ وہ کھاتے تو ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے۔ اس پر نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ اس کے کچھ اسباب یہ ہیں: الگ الگ ہو کر کھانا کھانا۔ کیونکہ یہ برکت اٹھ جانے کا ایک سبب ہے اس لیے کہ الگ الگ کھانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہر کسی کا خاص برتن ہو۔ اس سے کھانا بٹ جائے گا اور برکت اٹھ جائے گی۔ اس کی ایک اور وجہ کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھنا بھی ہے۔ انسان جب کھانے پر اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان اس کے ساتھ کھاتا ہے اور اس کے کھانے سے برکت کھینچ لی جاتی ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

3 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی ﷺ کے ساتھ کھانا کھاتے تھے تو ہم اپنے ہاتھوں کو (کھانے میں) اس وقت تک نہیں ڈالتے تھے جب تک کہ رسول اللہ ﷺ شروع نہ کردیتے اور اپنا ہاتھ مبارک نہ ڈال دیتے۔ ایک مرتبہ ہم آپ ﷺ سے ساتھ کھانا کھانے میں موجود تھے کہ اچانک ایک لڑکی آئی گویا کہ اسے کوئی ہانک رہا ہے وہ اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنے لگی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک دیہاتی آدمی دوڑتا ہوا آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس دیہاتی کا بھی ہاتھ پکڑ لیا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شیطان اپنے لیے ایسے کھانے کو حلال کرلیتا ہے کہ جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے چنانچہ شیطان اس لڑکی کو لایا تاکہ وہ اپنے لیے کھانا حلال کرے تو میں نے اس لڑکی کا ہاتھ پکڑ لیا پھر وہ شیطان اس دیہاتی آدمی کو لایا تاکہ وہ اس کے ذریعہ اپنا کھانا حلال کرلے تو میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا (پھر آپ ﷺ نے فرمایا) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! شیطان کا ہاتھ اس لڑکی کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا نام لیا اور کھانا کھایا۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب ہم لوگ آپ ﷺ کے ساتھ کھانے میں شریک ہوتے، تو آپ ﷺ کے کھانا شروع کرنے اور ہاتھ آگے بڑھانے سے پہلے ہم کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھاتے تھے، یہ آپ ﷺ کے احترام کی وجہ سے تھا کہ آپ ﷺ کے ہاتھ بڑھانے سے پہلے وہ ہاتھ نہیں بڑھاتے تھے۔ ایک دن اللہ کے رسول ﷺ کے پاس کھانا آیا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے ابھی شروع نہیں کیا تھا یا ان کے سامنے پیش کیا گیا، تو ایک بچی اس طرح آئی جیسے اسے دوڑایا جا رہا ہو، وہ بغیر بسم اللہ کے اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنے لگی، آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، پھر ایک بدّو آیا جیسے اسے بھی دوڑایا جارہا ہو، اس نے اپنا ہاتھ کھانے کی طرف بڑھایا تو آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ بھی روک لیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس بدّو اور بچی کو شیطان لے کر آیا تھا یعنی اس نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا تھا اور آنے پر ابھارا، تاکہ ان دونوں کے بغیر بسم اللہ کے کھانا شروع کرنے کی وجہ سے وہ اسے اپنے لیے حلال کر لے۔

یہ دونوں اپنی جہالت کی وجہ سے معذور تھے، یہ لڑکی اپنی کم سنی اور یہ ایک بدّو ہونے کی وجہ سے، لیکن شیطان انھیں ہانک کر اس لیے لے آیا کہ جب یہ دونوں بغیر باسم اللہ پڑھے کھانے لگ جائیں تو وہ بھی کھانے میں شریک ہو جائے گا۔

پھر نبی ﷺ نے قسم کھا کر کہا کہ شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھ کے ساتھ نبی ﷺ کے ہاتھ میں میں موجود تھا۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

4 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چھ صحابہ کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ایسے میں ایک اعرابی آیا جس نے دو ہی لقموں میں سارا کھانا کھا لیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے بسم اللہ پڑھی ہوتی تو وہ تمہارے لیے کافی ہو جاتا“۔

اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

نبی ﷺ اپنے چھے صحابہ کرام کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ اس دوران میں ایک دیہاتی آ کر ان کے ساتھ شامل ہو گیا اور اس نے دو ہی لقموں میں کھانا ختم کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ بسم اللہ پڑھ لیتا تو یہ تمہارے لیے کافی ہو جاتا لیکن اس نے بسم اللہ نہیں پڑھی اور باقی کھانا سارے کا سارا دو لقموں میں کھا گیا اور وہ اس کے لیے کافی نہ ہوا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان جب بسم اللہ نہیں پڑھتا تو اس کے کھانے سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

5 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کہتے ہوئے سنا: "جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے، تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے: یہاں نہ تمھارے لیے رات گزارنے کی جگہ ہے اور نہ رات کے کھانے کی گنجائش۔ اور جب وہ گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہيں لیتا، تو شیطان کہتا ہے: تم نے رات گزارنے کی جگہ پا لی اور جب کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا، تو کہتا ہے : تم نے رات بتانے کی جگہ اور رات کا کھانا دونوں پا لیا۔"

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھانے سے پہلے اللہ کا نام لینے کا حکم دیا ہے۔ جب کوئی شخص گھر میں داخل ہوتے اور کھانا کھاتے وقت بسم اللہ کہتا ہے، تو شیطان اپنے معاونوں سے کہتا ہے کہ تمھارے لیے اس گھر میں رات گزارنے کی جگہ اور رات کے کھانے کی گنجائش نہیں ہے، کیوں کہ گھر کے مالک نے تم سے اللہ کی پناہ لے لی ہے۔ اس کے برخلاف جب کوئی شخص گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر میں داخل ہوتے اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا، تو شیطان اپنے معاونوں سے کہتا ہے کہ اس گھر میں ان کے رات گزارنے اور کھانے کا انتظام ہو گیا ہے۔

فوائد

  • گھر میں داخل ہوتے اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لینا مستحب ہے۔ کیوں کہ اللہ کا نام نہ لینے کی صورت میں شیطان گھر میں رات گزارتا ہے اور کھانے میں شریک ہو جاتا ہے۔
  • شیطان انسان کے ہر کام کو دھیان سے دیکھتا رہتا ہے اور جیسے ہی انسان اللہ کے نام سے غافل ہوتا ہے، اس کی مراد پوری ہو جاتی ہے۔
  • اللہ کا ذکر شیطان کو بھگانے کا کام کرتا ہے۔
  • ہر شیطان کے کچھ پیروکار اور معاونین ہوتے ہیں، جو اس کی بات سے خوش ہوتے ہیں اور اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

سوالات

اس صفحے پر کیا ہے؟

کھانے سے پہلے کی دعا: ہر ایک عربی میں، اپنے ترجمے، ماخذ حدیث، درجے اور شرح کے ساتھ۔

ترجمے کہاں سے لیے گئے ہیں؟

HadeethEnc.com سے، جو ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ہر حدیث بالکل ویسے ہی دکھائی جاتی ہے جیسے وہاں شائع ہوئی، اپنے حوالے اور درجے کے ساتھ، اور اصل کا لنک بھی دیا جاتا ہے۔

کیا مجھے روزانہ یاد دہانی مل سکتی ہے؟

جی ہاں۔ اینڈرائیڈ کے لیے مفت قبس ایپ آپ کو ہر روز صبح و شام کے اذکار یاد دلاتی ہے اور اس میں یہی کاؤنٹر موجود ہے۔