کھانے کے بعد کی دعا

کھانا ختم ہونے پر اللہ کی حمد۔

1 ایک بار

الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلاَ قُوَّةٍ

ترجمہ اور حوالہ

سہل بن معاذ بن انس اپنے والد سے روایت کرتے ہيں، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جس نے کھانا کھانے کے بعد یہ دعا پڑھی : "الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلاَ قُوَّةٍ" (ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور اس کى روزی دی, جب کہ اس میں میری طاقت اور قوت کا کوئی دخل نہيں ہے۔ "غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِا" تو اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"

رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد درجہ: حسن

شرح

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کھانا کھانے والے کو اللہ کی تعریف کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ کیوں کہ اللہ کی توفیق اور مدد کے بغیر انسان کے پاس نہ غذا حاصل کرنے کی طاقت ہے اور نہ کھانے کی۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس دعا کا اہتمام کرنے والے کو خوش خبری دی ہے کہ اللہ اس کے پچھلے صغیرہ گناہوں کو بخش دے گا۔

فوائد

  • کھانے کے آخر میں اللہ کی تعریف کرنا مستحب ہے۔
  • اللہ کے بے پایاں فضل و کرم کا بیان کہ اس نے بندوں کو روزی دی، روزی کے اسباب مہیا کیے اور اس میں گناہوں کی بخشش کا سامان بھی پیدا کر دیا۔
  • بندوں کے سارے امور کی باگ ڈور اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ان کی طاقت و قوت کے بل پر کچھ نہیں ہوتا۔ بندے کو اسباب اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

2 ایک بار

الحَمْدُ للهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا

ترجمہ اور حوالہ

ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جب اپنا دستر خوان اٹھاتے تو فرماتے: الحَمْدُ للهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا۔ ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے، ایسی تعریف جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور با برکت ہے اس حال میں کہ اس کی ذات کسی کی محتاج نہیں اور نہ ہی اس کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ اس سے بے نیازی برتی جاسکتی ہے، اے ہمارے رب!“۔

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

حدیث کا مفہوم: نبی ﷺ اپنے صحابہ کو اقوال و افعال کے ذریعے سنت کی تعلیم دیتے۔ آپ ﷺ سے جو اذکار مذکور ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد جب آپ ﷺ اپنے سامنے موجود کھانے کے برتن اٹھاتے تو فرماتے: ”الحَمْدُ للهِ“ اس کا معنی یہ ہے کہ ہر قسم کی تعریف اور شکر در حقیقت صرف اور صرف اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور اس کا سزاوار نہیں۔

”حَمْداً كثِيراً“ یعنی بکثرت تعریف جو اس کی عظمت اور جمال و کمال کے شایان شان ہے اور ایسا شکر جو اس کی ان گنت نعمتوں اور ناقابلِ احاطہ احسان کے مقابل ہے۔ ﴿وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا﴾ ”اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہ کر سکو گے“۔

”طَيِّبًا“ یعنی جو ریا اور جذبۂ ناموری سے پاک ہو۔

”مُبَارَكًا“ یعنی جس میں قبولیت ہو جسے رد نہ کیا جائے۔ کیونکہ برکت کا معنی ہے خیر۔ اور جو عمل مقبول نہیں ہوتا اس میں کچھ خیر نہیں ہوتی۔

”غير مَكْفِي“ یعنی ہم اللہ عزّ وجلّ کی تعریف کرتے ہیں اس حال میں کہ وہی اپنے بندوں کی کفایت کرنے والا ہے، اس کی مخلوق میں سے کوئی اس کی کفایت کرنے والا نہیں کیونکہ اسے کسی کی ضرورت نہیں۔

”وَلَا مُوَدَّعٍ“ یعنی ہم اللہ سبحانہ و تعالی کی حمد بیان کرتے ہیں اس حال میں کہ اسے چھوڑا نہیں جا سکتا اور نہ ہی ہم میں سے کوئی اسے چھوڑتا ہے کیونکہ ہم سب اس کے محتاج ہیں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

3 ایک بار

الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا، وكفانا وآوانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لا كَافِيَ له وَلاَ مُؤْوِيَ

ترجمہ اور حوالہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكَفَانَا، وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لاَ كَافِيَ لَهُ وَلاَ مُؤْوِيَ“ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، ہماری کفایت کی اور ہمیں ٹھکانہ دیا، کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کی نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ کوئی انہیں ٹھکانہ دینے والا ہے۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

نبی ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو فرماتے: ”الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكَفَانَا، وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لاَ كَافِيَ لَهُ وَلاَ مُؤْوِيَ“، آپ ﷺ اللہ عز و جل کی حمد بیان کرتے جس نے آپ کو کھلایا اور پلایا بایں طور کہ اگر اللہ عز و جل آپ کو نہ کھلاتا اور نہ پلاتا تو نہ آپ کچھ کھا سکتے اور نہ پی سکتے۔ چنانچہ آپ اس اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں جس نے آپ کو کھلایا اور پلایا۔ یعنی تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، جو ہمارے لیے کافی ہو گیا اور جس نے ہمیں ٹھکانہ دیا۔ یعنی جس نے تمام امور کو ہمارے لیے آسان کردیا اور ان کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لے لی اور ہمارے لیے ٹھکانہ بنایا جس میں ہم رہتے ہیں۔ کتنے ہی انسان ایسے ہیں جن کی نہ کوئی کفایت کرتا ہے اور نہ کوئی ان کا ٹھکانہ ہوتا ہے یا جنہیں کوئی بھی ٹھکانہ مہیا نہیں کرتا چنانچہ آپ کو چاہیے کہ جب آپ اپنے بستر پر آئیں تو یہ ذکر (دعا) پڑھیں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

4 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”اللہ تعالی بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ وہ کھانا کھائے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے یا پانی پیے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے“۔

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ بندے کا اللہ کے فضل و کرم اور اس کی نعمتوں پر اللہ کی تعریف کرنا ایک ایسی چیز ہے، جس سے اللہ کی خوش نودی حاصل ہوتی ہے۔ اس تعریف کی ایک شکل یہ ہے کہ بندہ کھانا کھائے اور الحمد للہ کہے، اسی طرح پانی پیے اور الحمد للہ کہے۔

فوائد

  • بندوں پر اللہ کا لطف و کرم ہے کہ وہ روزی بھی دیتا ہے اور تعریف سے خوش بھی ہوتا ہے۔
  • اللہ کی خوش نودی چھوٹے چھوٹے کاموں سے بھی حاصل ہوتى ہے۔ جیسے کھانے اور پینے کے بعد اللہ کی تعریف کرنا۔
  • کھانے اور پینے کا ایک ادب یہ ہے کہ کھانے پینے کے بعد اللہ کی تعریف کی جائے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

سوالات

اس صفحے پر کیا ہے؟

کھانے کے بعد کی دعا: ہر ایک عربی میں، اپنے ترجمے، ماخذ حدیث، درجے اور شرح کے ساتھ۔

ترجمے کہاں سے لیے گئے ہیں؟

HadeethEnc.com سے، جو ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ہر حدیث بالکل ویسے ہی دکھائی جاتی ہے جیسے وہاں شائع ہوئی، اپنے حوالے اور درجے کے ساتھ، اور اصل کا لنک بھی دیا جاتا ہے۔

کیا مجھے روزانہ یاد دہانی مل سکتی ہے؟

جی ہاں۔ اینڈرائیڈ کے لیے مفت قبس ایپ آپ کو ہر روز صبح و شام کے اذکار یاد دلاتی ہے اور اس میں یہی کاؤنٹر موجود ہے۔