روزمرہ زندگی میں اسلام

سبق 2 از 4

اسلام والدین کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

قرآن مجید سے

۞ وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنًاۚ إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗا ﴿٢٣﴾ وَٱخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحۡمَةِ وَقُل رَّبِّ ٱرۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرٗا ﴿٢٤﴾

اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا. s اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے.

الإسراء 17:23-24قرآن میں پڑھیں

وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ حَمَلَتۡهُ أُمُّهُۥ وَهۡنًا عَلَىٰ وَهۡنٖ وَفِصَٰلُهُۥ فِي عَامَيۡنِ أَنِ ٱشۡكُرۡ لِي وَلِوَٰلِدَيۡكَ إِلَيَّ ٱلۡمَصِيرُ ﴿١٤﴾

ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے.

لقمان 31:14قرآن میں پڑھیں

سنت نبوی سے

بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیرا باپ، پھر درجہ بہ درجہ جو تمہارے قریبی لوگ ہیں۔

اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ حَسَنْ HadeethEnc.com
شرح

اس حدیث میں رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے ساتھ احسان کرنے پر ابھارا گیا ہے، اور ان سب میں سب سے زیادہ حق دار ماں کو بتایا گیا ہے پھر اس کے بعد اس کا باپ ہے پھر اس کےبعد جو زیادہ قریبی ہو پھر اس کے بعد جو زیادہ قریبی ہو، لیکن سب سے زیادہ حق دار ماں ہے اس کی وجہ اس کی اپنی اولاد کی تئیں کثرت سے پریشانی اور تکلیف اٹھانا نیز خدمت وشفقت ہے، اور اس لیے بھی کہ حمل ور ضاعت اور تربیت کی فضیلت بھی اسی کے ساتھ خاص ہے اور حمل میں تھکاوٹ ہے پھر اس کے بعد وضع حمل کی مشقت ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا﴾ ”اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور برداشت کر کے اسے جنا“۔ (سورہ احقاف: 15) اور جب ماں کا درجہ باپ سے مقدم ہے تو اس کے علاوہ دوسرے لوگوں پر بدرجہ اولی مقدم ہو گا، اور ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک میں سے یہ بھی ہے کہ ان پر خرچ کیا جائے۔

تمام اسباق