روزمرہ زندگی میں اسلام

سبق 1 از 4

اسلام اچھے اخلاق کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟

قرآن مجید سے

وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٖ ﴿٤﴾

اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے.

القلم 68:4قرآن میں پڑھیں

۞ إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَٱلۡإِحۡسَٰنِ وَإِيتَآيِٕ ذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَيَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِ وَٱلۡبَغۡيِۚ يَعِظُكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ ﴿٩٠﴾

اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ﻇلم وزیادتی سے روکتا ہے ، وه خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو.

النحل 16:90قرآن میں پڑھیں

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقۡنَٰكُم مِّن ذَكَرٖ وَأُنثَىٰ وَجَعَلۡنَٰكُمۡ شُعُوبٗا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓاْۚ إِنَّ أَكۡرَمَكُمۡ عِندَ ٱللَّهِ أَتۡقَىٰكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٞ ﴿١٣﴾

اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیئے ہیں، اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے.

الحجرات 49:13قرآن میں پڑھیں

سنت نبوی سے

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "سب سے کامل ایمان والا مؤمن وہ ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تمھارے اندر سب سے اچھا انسان وہ ہے، جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے اچھا ہو۔"

رواه أبو داود والترمذي وأحمد حسن HadeethEnc.com
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ سب سے کامل ایمان والا مؤمن وہ ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ دراصل حسن اخلاق کا مظاہرہ مسکرا کر ملنے، دوسروں کا بھلا کرنے، خوش کلامی کرنے اور کسی کو تکلیف نہ دینے سے ہوتا ہے۔

اسی طرح سب سے بہتر مؤمن وہ ہے جو اپنی عورتوں، مثلا بیوی، بیٹیوں، بہنوں اور دیگر رشتے دار عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو۔ کیوں کہ یہ عورتیں حسن اخلاق کی سب سے زیادہ حق دار ہیں۔

اللہ کے رسول ﷺ کے خادم، ابو حمزہ انس بن مالک رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے، جو اپنے لیے کرتا ہے“۔

متفق عليه صحيح HadeethEnc.com
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ کسی شخص کو ایمان کامل کی دولت اس وقت تک نصیب نہیں ہو سکتی، جب تک اپنے بھائی کے لیے بھی دین اور دنیا کی وہی چیزیں پسند نہ کرے، جو اپنے لیے کرتا ہو اور اس کے لیے انھیں چيزوں کو ناپسند نہ کرے، جنھیں اپنے لیے ناپسند کرتا ہو۔ اگر اپنے بھائی کے اندر دین کی کوئی کمی دیکھے، تو اس کی اصلاح کی کوشش کرے اور اچھائی دیکھے تو اسے اور جلا دے اور اس میں مدد کرے۔ دین اور دنیا سے متعلق تمام امور میں اس کی خیرخواہی کرے۔

تمام اسباق