لوگ جو سوال پوچھتے ہیں

سبق 10 از 11

اللہ مشکلات اور تکلیفیں کیوں آنے دیتا ہے؟

مختصر جواب

یہ زندگی ایک امتحان ہے۔ اللہ لوگوں کو مشکل اور آسانی دونوں سے آزماتا ہے تاکہ ظاہر ہو کہ کون صبر کرتا ہے اور کون نیک عمل کرتا ہے۔ مومن کی کوئی تکلیف ضائع نہیں جاتی: کانٹا چبھنے سے بھی اس کے کچھ گناہ مٹ جاتے ہیں، اور اللہ صبر کرنے والوں اور اس کی طرف رجوع کرنے والوں سے بڑے اجر اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے۔ قرآن یہ وعدہ بھی کرتا ہے کہ "مشکل کے ساتھ آسانی ہے"، اور آخرت میں کامل انصاف منتظر ہے۔

قبس کی تحریر، جسے المختصر فی تفسیر القرآن الکریم، تفسیر ابن کثیر اور HadeethEnc.com کی شروحات سے جانچا گیا ہے۔

قرآن مجید سے

وَلَنَبۡلُوَنَّكُم بِشَيۡءٖ مِّنَ ٱلۡخَوۡفِ وَٱلۡجُوعِ وَنَقۡصٖ مِّنَ ٱلۡأَمۡوَٰلِ وَٱلۡأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَٰتِۗ وَبَشِّرِ ٱلصَّٰبِرِينَ ﴿١٥٥﴾ ٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَٰبَتۡهُم مُّصِيبَةٞ قَالُوٓاْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيۡهِ رَٰجِعُونَ ﴿١٥٦﴾ أُوْلَٰٓئِكَ عَلَيۡهِمۡ صَلَوَٰتٞ مِّن رَّبِّهِمۡ وَرَحۡمَةٞۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُهۡتَدُونَ ﴿١٥٧﴾

اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیئے۔ جنہیں، جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔

البقرة 2:155-157قرآن میں پڑھیں

أَحَسِبَ ٱلنَّاسُ أَن يُتۡرَكُوٓاْ أَن يَقُولُوٓاْ ءَامَنَّا وَهُمۡ لَا يُفۡتَنُونَ ﴿٢﴾ وَلَقَدۡ فَتَنَّا ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۖ فَلَيَعۡلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْ وَلَيَعۡلَمَنَّ ٱلۡكَٰذِبِينَ ﴿٣﴾

کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان ﻻئے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے؟. ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کرلے گا جو جھوٹے ہیں.

العنكبوت 29:2-3قرآن میں پڑھیں

فَإِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرًا ﴿٥﴾ إِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرٗا ﴿٦﴾

پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے. بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے.

الشرح 94:5-6قرآن میں پڑھیں

سنت نبوی سے

ابو سعید خدری اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ایک مسلمان کو جو بھی تکان، مرض، پريشانی، صدمہ، تکلیف یا غم پہنچتا ہے، حتی کہ اگر كوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، تو اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس کے گناہ معاف کردیتے ہیں۔"

متفق عليه صحيح HadeethEnc.com
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ مسلمان کو جو بھی بیماریاں، غم، تکلیفیں، پریشانیاں، مصیبتیں، دشواریاں، خوف اور فاقے لاحق ہوتے ہيں، یہاں تک کہ اسے ایک کانٹا بھی چبھتا ہے، جو اس کے لیے باعث تکلیف ہوتا ہے، تو یہ ساری چیزیں اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔

تمام اسباق