لوگ جو سوال پوچھتے ہیں

سبق 11 از 11

مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کے لوگوں سے کیسا سلوک کرنا چاہیے؟

مختصر جواب

انصاف اور مہربانی کے ساتھ۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ مسلمانوں کو ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے بارے میں ان سے لڑائی نہیں کی اور نہ انہیں ان کے گھروں سے نکالا، اور ان لوگوں کے ساتھ بھی انصاف کا حکم دیتا ہے جنہیں انسان ناپسند کرتا ہو۔ مسلمانوں کو حکم ہے کہ دوسروں کو حکمت اور اچھی بات کے ساتھ اسلام کی دعوت دیں، کبھی زبردستی نہیں۔ نبی ﷺ نے بت پرستوں کی عبادت میں شریک ہونے سے انکار کیا اور ان سے کہا: "تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے"۔ آپ ﷺ نے ایک یہودی سے کھانا بھی خریدا اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھی۔

قبس کی تحریر، جسے المختصر فی تفسیر القرآن الکریم، تفسیر ابن کثیر اور HadeethEnc.com کی شروحات سے جانچا گیا ہے۔

قرآن مجید سے

لَّا يَنۡهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ لَمۡ يُقَٰتِلُوكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوكُم مِّن دِيَٰرِكُمۡ أَن تَبَرُّوهُمۡ وَتُقۡسِطُوٓاْ إِلَيۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُقۡسِطِينَ ﴿٨﴾

جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے.

الممتحنة 60:8قرآن میں پڑھیں

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّٰمِينَ لِلَّهِ شُهَدَآءَ بِٱلۡقِسۡطِۖ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعۡدِلُواْۚ ٱعۡدِلُواْ هُوَ أَقۡرَبُ لِلتَّقۡوَىٰۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ ﴿٨﴾

اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ، راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ ، کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آماده نہ کردے، عدل کیا کرو جو پرہیز گاری کے زیاده قریب ہے، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔

المائدة 5:8قرآن میں پڑھیں

ٱدۡعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلۡحِكۡمَةِ وَٱلۡمَوۡعِظَةِ ٱلۡحَسَنَةِۖ وَجَٰدِلۡهُم بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ ﴿١٢٥﴾

اپنے رب کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے ، یقیناً آپ کا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وه راه یافتہ لوگوں سے بھی پورا واقف ہے.

النحل 16:125قرآن میں پڑھیں

لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ ﴿٦﴾

تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے.

الكافرون 109:6قرآن میں پڑھیں

سنت نبوی سے

عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے کچھ غلہ خریدا اور اس کے پاس لوہے کی ایک زرہ گروی رکھی۔

متفق علیہ صحیح HadeethEnc.com
شرح

نبی ﷺ نے ایک یہودی سے کچھ جو خریدے اور اس کے پاس وہ شے بطور رہن رکھوا دی جس کی آپ ﷺ کو جہاد فی سبیل اللہ اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے ضرورت ہوتی تھی یعنی آپ ﷺ کی زرہ جسے آپ ﷺ جنگوں میں پہنا کرتے تھے تا کہ وہ اللہ تعالی کی ذات کے بعد آپ ﷺ کو دشمن کے اسلحہ اور ان کی چال سے بچائے۔

تمام اسباق