لوگ جو سوال پوچھتے ہیں

سبق 9 از 11

کیا مسلمان کعبہ کی عبادت کرتے ہیں؟

مختصر جواب

نہیں۔ مسلمان صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جو قرآن کے الفاظ میں "اسی گھر کا رب" ہے۔ مکہ میں کعبہ اس کی عبادت کے لیے بنایا گیا گھر ہے، جس کی بنیادیں ابراہیم اور ان کے بیٹے اسماعیل نے اٹھائیں، اور اللہ نے اسے وہ سمت (قبلہ) بنایا جس کی طرف تمام مسلمان نماز میں رخ کرتے ہیں، تاکہ ہر جگہ کے مومن ایک ہو کر نماز پڑھیں۔ جب عمر نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا تو کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ صرف ایک پتھر ہے جو نہ نقصان دے سکتا ہے نہ فائدہ، اور انہوں نے اسے صرف اس لیے چوما کہ انہوں نے نبی ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا تھا۔

قبس کی تحریر، جسے المختصر فی تفسیر القرآن الکریم، تفسیر ابن کثیر اور HadeethEnc.com کی شروحات سے جانچا گیا ہے۔

قرآن مجید سے

فَلۡيَعۡبُدُواْ رَبَّ هَٰذَا ٱلۡبَيۡتِ ﴿٣﴾ ٱلَّذِيٓ أَطۡعَمَهُم مِّن جُوعٖ وَءَامَنَهُم مِّنۡ خَوۡفِۭ ﴿٤﴾

پس انہیں چاہئے کہ اسی گھر کے رب کی عبادت کرتے رہیں. جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور ڈر (اور خوف) میں امن (وامان) دیا.

قريش 106:3-4قرآن میں پڑھیں

وَإِذۡ يَرۡفَعُ إِبۡرَٰهِـۧمُ ٱلۡقَوَاعِدَ مِنَ ٱلۡبَيۡتِ وَإِسۡمَٰعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّآۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ﴿١٢٧﴾

ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جارہے تھے کہ ہمارے پروردگار! تو ہم سے قبول فرما، تو ہی سننے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے۔

البقرة 2:127قرآن میں پڑھیں

قَدۡ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجۡهِكَ فِي ٱلسَّمَآءِۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبۡلَةٗ تَرۡضَىٰهَاۚ فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۚ وَحَيۡثُ مَا كُنتُمۡ فَوَلُّواْ وُجُوهَكُمۡ شَطۡرَهُۥۗ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ لَيَعۡلَمُونَ أَنَّهُ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّهِمۡۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُونَ ﴿١٤٤﴾

ہم آپ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب متوجہ کریں گے جس سے آپ خوش ہوجائیں، آپ اپنا منھ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منھ اسی طرف پھیرا کریں۔ اہل کتاب کو اس بات کے اللہ کی طرف سے برحق ہونے کا قطعی علم ہے اور اللہ تعالیٰ ان اعمال سے غافل نہیں جو یہ کرتے ہیں۔

البقرة 2:144قرآن میں پڑھیں

وَلِلَّهِ ٱلۡمَشۡرِقُ وَٱلۡمَغۡرِبُۚ فَأَيۡنَمَا تُوَلُّواْ فَثَمَّ وَجۡهُ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ وَٰسِعٌ عَلِيمٞ ﴿١١٥﴾

اور مشرق اور مغرب کا مالک اللہ ہی ہے۔ تم جدھر بھی منھ کرو ادھر ہی اللہ کا منھ ہے ، اللہ تعالیٰ کشادگی اور وسعت واﻻ اور بڑے علم واﻻ ہے۔

البقرة 2:115قرآن میں پڑھیں

سنت نبوی سے

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ حجرِ اسود کے پاس آئے اور اس کا بوسہ لینے کے بعد کہنے لگے: مجھے اچھی طرح سے علم ہے کہ تو ایک پتھر ہے ۔ تو نہ کچھ نقصان دے سکتا ہے اور نہ کوئی نفع۔ اگر میں نے نبی ﷺ کو تمہارا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تمہارا بوسہ نہ لیتا۔

متفق علیہ صحیح HadeethEnc.com
شرح

اوقات، مقامات اور دیگر اشیاء بذات خود اس قدر مقدس و معظم نہیں ہوتے بایں طور کہ یہ ذاتی طور پر عبادت کی تعظیم کے حقدار ہوں، بلکہ ان کی تعظیم شریعت کی بنا پر ہوتی ہے۔ اسی لیے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حجرِ اسود کے پاس آئے اور حاجیوں کے سامنے اس کا بوسہ لیا جنھیں بتوں کی پوجا اور ان کے احترام کو چھوڑے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا اور وضاحت فرمائی کہ اس پتھر کو چومنا اور اس کی تعظیم کرنا ان کی اپنی اپچ نہیں اور نہ ہی اس وجہ سے ہے کہ اس سے کوئی نفع یا نقصان ہوتا ہے بلکہ یہ تو ایک عبادت ہے جسے انھوں نے شارع علیہ السلام سے لیا ہے۔ انھوں نے نبی ﷺ کو ا س کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ کی اقتداء میں انھوں نے بھی اس کا بوسہ لیا نہ کی اپنی ذاتی رائے کی بنا پر یا خود ساختہ طور پر ایسا کیا۔

تمام اسباق