مریض کے لیے دعا اور عیادت کی دعا

کسی بیمار کی عیادت کرتے وقت کیا کہیں۔

1 ایک بار

لا بأس؛ طَهُور إن شاء الله

ترجمہ اور حوالہ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہ نبی ﷺ ایک اعرابی کی عیادت کرنے کے لیے گئے، اور نبیﷺ جب کسی کی عیادت کے لیے جاتے، تو آپ ﷺ کہتے ”لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ یعنی فکر کی کوئی بات نہیں، ان شاء اللہ (یہ مرض) گناہوں سے پاک کرنے والا ہو گا۔

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک اعرابی کے بیمار ہونے پر اس کی عیادت کرنے کے لیے گئے اور نبی ﷺ جب کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتے، تو کہتے ”لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ یعنی کوئی سختی اور تکلیف کی بات نہیں اور تمہارا یہ مرض تمہارے گناہوں، عیبوں کو إن شاء اللہ پاک کرنے والا ہو گا، نیز آخرت میں بلندیٔ درجات کا سبب بھی بنے گا۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

2 7 بار

أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ

ترجمہ اور حوالہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب کوئی شخص کسی ایسے مريض کی عیادت کرے، جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: (میں عظمت والے اللہ، جو عرش عظیم کا مالک ہے، سے دعا کرتا ہوں کہ تم کو شفا دے)، تو اللہ اسے اس مرض سے شفا دے دے گا۔"

رواه أبو داود والترمذي وأحمد درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب کوئی مسلمان کسی مسلمان کی زیارت ایسی بیماری کے وقت کرتا ہے، جس میں اس کی موت نہ لکھی ہو، پھر مریض کے لیے یہ دعا پڑھے: "أسأل الله العظيم" یعنی میں اللہ سے جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں عظیم ہے "رب العرش العظيم أن يشفيك" اور عرش عظیم کا رب ہے، دعا کرتا ہوں کہ تمھیں شفا عطا کرے، ساتھ ہی اس دعا کو سات بار دہرائے، تو اسے اللہ اس بیماری سے شفا عطا کرتا ہے۔

فوائد

  • اس دعا کے ذریعہ بیمار کے لیے دعا مانگنا اور اسے سات مرتبہ پڑھنا مستحب ہے۔
  • ان شاء اللہ اس شخص کو شفا حاصل ہوگی جس کے پاس یہ دعا پڑھی جائے، بشرطیکہ صدق نیتی اور اخلاص کے ساتھ دعا کی گئی ہو۔
  • یہ دعا سری اور جہری دونوں طریقے سے کرنا جائز ہے۔ لیکن مریض کو سنا کر کرنا اولی وافضل ہے۔ کیوں کہ یہ اس کے خوش ہونے کا سبب ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

3 ایک بار

أَذْهِبِ الْبَاسَ، رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا

ترجمہ اور حوالہ

عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ بعض ازواج مطہرات کی عیادت کرتے، اپنا دایاں ہاتھ پھیر کر یوں دعا کیا کرتے تھے: ”اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، أذْهِب البَأسَ، اشْفِ أنْتَ الشَّافِي لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفاؤكَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقماً“ اے اللہ انسانوں کے پروردگار! تکلیف کو دور کر دے۔ شفایابی سے نواز کہ تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفا نہیں، ایسی شفا جو کسی قسم کی بیماری نہیں چھوڑتی۔

متفق علیہ درجہ: صحیح

شرح

نبی کریم ﷺ جب اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی بیمار بیوی کی عیادت کرتے تو ان کے لیے یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ اور ان پر اپنا دایاں ہاتھ پھیر کر مریض پر یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”اے اللہ جو تمام لوگوں کا پروردگار ہے“ یہاں وہ اللہ عزوجل سے اس کی ربوبیت عامہ کے وسیلہ سے دعا کر رہے ہیں۔ پس وہ رب ہے سبحانہ وتعالی، خالق ہے، مالک ہے اور تمام کاموں کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ”تکلیف دور کردے“ یعنی اس مرض کو جو مریض کو لاحق ہے۔ ”شفا“ در اصل مرض کا ازالہ اور مریض کی خلاصی ہے۔ شافی اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ کیوں کہ وہی ہے جو مرض سے شفا دیتا ہے۔ ”اور تیری شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں“ یعنی اللہ کی شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں۔ پس اس کی شفا کسی اور کی نہیں۔ جب کہ مخلوق کی شفا محض ایک سبب ہے۔ شافی صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے شفاۓ کاملہ کا سوال کیا یعنی ایسی شفا جس کے بعد کوئی بیماری باقی نہ رہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

4 ایک بار

اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ البَأسِ، اشْفِ أنْتَ الشَّافِي، لاَ شَافِيَ إِلاَّ أنْتَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقماً

ترجمہ اور حوالہ

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے ثابت رحمہ اللہ سے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کا بتلایا ہوا دم نہ کروں؟ انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے یہ دعا پڑھی: ”اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ البَأسِ، اشْفِ أنْتَ الشَّافِي، لاَ شَافِيَ إِلاَّ أنْتَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقماً“ اے اللہ، اے لوگوں کے پروردگار، اے پریشانی کو دورکرنے والے! تو شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے، ایسی شفا جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ثابت البنانی رحمہ اللہ کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ کیا میں تمہیں وہ دم نہ کروں جو نبی ﷺ کیا کرتے تھے؟۔ آپ ﷺاپنے رب سے مریض کے لیے یہ دعا کیا کرتے تھے کہ وہ اس سے مرض کی شدت، اس کی سختی اور تکلیف کو دور کردے اور ایسی شفا دے دے جس کے بعد پھر سے مرض لوٹ کر نہ آئے۔

علماء کا دَم (رقیہ) کے جائز ہونے پر اتفاق ہے بشرطیکہ تین شرائط پائی جائیں:

1۔ یہ کلام اللہ یا اس کے اسماء و صفات کے ساتھ ہونا چاہئے۔

2۔ یہ عربی زبان میں ہو اور اس کا معنی سمجھ میں آنے والا ہو۔مستحب یہ ہے کہ یہ ان الفاظ کے ساتھ ہو جو احادیث میں آئے ہیں۔

3۔ اس بات کا عقیدہ رکھنا کہ دَم (رقیہ) میں بذات خود کوئی تاثیر نہیں بلکہ اس میں تاثیر اللہ کی طرف سے آتی ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

5 ایک بار

اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْداً، اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْداً، اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْداً

ترجمہ اور حوالہ

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ ! سعد کو شفا دے، اے اللہ ! سعد کو شفا دے ۔ اے اللہ ! سعد کو شفا دے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ درجہ: صحیح

شرح

سعد بن ابی وقاص کی حدیث یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سعد رضی اللہ عنہ جب بیمار تھے تو ان کی عیادت کی اور دعا فرمائی کہ ”اے اللہ ! تو سعد کو شفا دے، اے اللہ ! تو سعد کو شفا دے، اے اللہ ! تو سعد کو شفا دے“ ایسا آپ ﷺ نے تین دفعہ کہا۔ اس حدیث میں دلیل ہے کہ آدمی کا کسی مسلمان مریض کی عیادت کے لیے جانا سنت ہے۔اس حدیث میں آپ ﷺ کے اپنے صحابہ کے ساتھ حسنِ سلوک اور انداز معاملت کی بھی وضاحت ہے۔ آپ ﷺ اپنے صحابہ میں سے جو مریض ہوتے ان کی عیادت کے لیے جاتے اور ان کے لیے دعا کیا کرتے تھے ۔ اس حدیث میں اس طرح کی دعا مانگنے کے استحباب کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ”اے اللہ ! فلاں شخص کو شفا عطا فرما “، تین دفعہ نام لے کر ایسا کہیں گے ۔ مریض کے شفایاب ہونے کے اسباب میں سے یہ بھی ایک سبب ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

سوالات

اس صفحے پر کیا ہے؟

مریض کے لیے دعا: ہر ایک عربی میں، اپنے ترجمے، ماخذ حدیث، درجے اور شرح کے ساتھ۔

ترجمے کہاں سے لیے گئے ہیں؟

HadeethEnc.com سے، جو ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ہر حدیث بالکل ویسے ہی دکھائی جاتی ہے جیسے وہاں شائع ہوئی، اپنے حوالے اور درجے کے ساتھ، اور اصل کا لنک بھی دیا جاتا ہے۔

کاؤنٹر کیسے کام کرتا ہے؟

کسی ذکر کے نیچے کاؤنٹر پر ٹیپ کریں، وہ صفر تک الٹی گنتی کرتا ہے۔ یہ صرف اسی صفحے پر ہے اور کچھ محفوظ نہیں ہوتا۔

کیا مجھے روزانہ یاد دہانی مل سکتی ہے؟

جی ہاں۔ اینڈرائیڈ کے لیے مفت قبس ایپ آپ کو ہر روز صبح و شام کے اذکار یاد دلاتی ہے اور اس میں یہی کاؤنٹر موجود ہے۔