مسنون رقیہ: درد اور شفا کی دعائیں

شفا کے وہ الفاظ جو نبی کریم ﷺ نے استعمال کیے اور سکھائے۔

1 ایک بار

بِاسْمِ اللهِ (٣)
أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ (٧)

ترجمہ اور حوالہ

عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے اپنے جسم کے اندر اسلام قبول کرنے کے وقت سے ہی محسوس ہونے والی ایک تکلیف کی شکایت کی، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’جسم کے جس حصے میں تکلیف ہو اس پر اپنا ہاتھ رکھو اور تین دفعہ کہو : "بسم اللہ" ’یعنی اللہ کے نام سے۔ اور سات دفعہ کہو : " أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ"۔ یعنی میں اللہ تعالی کى پناہ مانگتا ہوں اور اس کى قدرت کے ذریعہ پناہ طلب کرتا ہوں، اس چیز کے شر سے، جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس کا مجھے اندیشہ ہے۔

رواه مسلم درجہ: صحيح

شرح

عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کو ایک تکلیف تھی، جس سے وہ بے حال تھے۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور ایک دعا سکھائی، جس سے اللہ ان کی تکلیف دور کر دے۔ آپ نے انھیں بتایا کہ تکلیف کی جگہ پر اپنی انگلی رکھیں، پھر تین بار بسم اللہ کہیں اور اس کے بعد سات بار یہ دعا پڑھیں : "أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ"۔ یعنی میں اللہ تعالی کى پناہ کا طلب گار ہوں اور اس کی قدرت کے ذریعہ (اس کى) پناہ چاہتا ہوں، اس چیز کے شر سے، جو میں اس وقت محسوس کرتا ہوں اور جس کا غم یا خوف آنے والے وقت میں دامن گیر ہونے کا اندیشہ ہے۔ یا پھر اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ یہ بیماری آنے والے وقت میں دائمی طور پر رہ جائے اور اس کی تکلیف پورے بدن میں پھیل جائے۔

فوائد

  • انسان كا خود پر دم کرنا مستحب ہے، جیسا کہ حدیث ميں آیا ہے۔
  • جزع فزع یا اعتراض کے بغیر شکایت کرنا توکل اور صبر کے خلاف نہیں ہے۔
  • دعا بھی اسباب اپنانے میں داخل ہے، اسی لیے اس کے الفاظ اور عدد کی پابندی کرنا ضروری ہے۔
  • یہ دعا جسم کی کسی بھی تکلیف کے علاج کے لیے پڑھی جا سکتی ہے۔
  • اس دعا کے ذریعے علاج کرتے وقت ہاتھ کو تکلیف والی جگہ پر رکھنا چاہیے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

2 ایک بار

بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ، اللهُ يَشْفِيكَ بِاسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ

ترجمہ اور حوالہ

ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے کہ: اے محمدﷺ! کیا آپ کو مرض کی شکایت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ”بِسْمِ الله أرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ، اللهُ يَشْفِيكَ، بِسمِ اللهِ أُرقِيكَ“ اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے، ہر جاندار اور حسد کرنے والی نگاہ کے شر سے (حفاظت کے لئے)۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس تشریف لائے اور پوچھنے لگےکہ کیا آپ کو شکایت ہے یعنی کیا آپ مریض ہیں؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ: ہاں میں مریض ہوں۔ اس پر انھوں نےکہا: اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے، ہر جاندار اور حسد کرنے والی نگاہ کے شر سے حفاظت کے لئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں۔

یہ اشرف الملائکہ جبرائیل علیہ السلام کی طرف سے نبی ﷺ کے لئے دعا ہے جو اشرف الرسل ہیں۔

جبرائیل علیہ السلام کے اس قول میں کہ: ”کیا آپ کو مرض کی شکایت ہے؟“ اور آپ ﷺ کے جواب میں کہ: ”ہاں میں مریض ہوں“ اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ جب مریض سے پوچھیں تو اس کے اس طرح کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ میں مریض ہوں۔ اور یہ کہ ایسا کہنا شکوہ شکایت میں نہیں آتا۔ شکوہ تو یہ ہوتا ہے کہ آپ انسانوں کے سامنے اللہ تعالی کی اس انداز میں شکایت کریں کہ مجھے اللہ نے فلاں فلاں بیماری میں مبتلا کر دیا ہے۔ آپ کا مخلوق کے سامنے رب کی شکایت کرنا جائز نہیں ہے۔ اسی لئے یعقوب علیہ السلام نے کہا تھا: ﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّـهِ﴾ ”کہ میں تو اپنی پریشانیوں اور رنج کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں“۔ (یوسف : 86)

”ہر جاندار اور حسد کرنے والی نگاہ کے شر سے (حفاظت کے لئے)۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دے“ یعنی تمام بشری و جناتی اور دیگر نفوس کے شر سے اورحسد بھری نظر کے شر سے جسے بعض لوگ صرف نظر کا نام دیتے ہیں کیوں کہ حاسد شخص (العیاذ باللہ) یعنی وہ آدمی جو اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو اپنی نعمتوں سے نوازے اس کا نفس خبیث اور شرانگیز ہوتا ہے اور اس خبیث و شر انگیز نفس سے بعض اوقات ایسی شے کا خروج ہوتا ہے جس کا اثر اس شخص تک پہنچتا ہے جس سے حسد کیا جائے۔ اسی لئے کہا کہ: ”اور ہر حسد کرنے والی نگاہ کے شر سے (حفاظت کے لئے)۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دے“ یعنی اللہ اسے ٹھیک کرے اور اس کی وجہ سے پیدا شدہ بیماری کو دور کرے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ: "بسم الله أرقيك"۔ (اس سے پتہ چلتا ہے کہ) انھوں نے دعاء کا آغاز اور اختتام بسم اللہ سے کیا۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

3 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ جب کسی شخص کے بدن کے کسی حصے میں بیماری لاحق ہوتی یا اس میں کوئی پھوڑا یا زخم وغیرہ ہوتا، تو نبی ﷺ اپنی انگلی سے ایسے کرتے (راوی حدیث سفیان بن عیینہ نے عملی طور پر دکھانے کے لیے اپنی انگشت شہادت کو زمین پر رکھا، پھر اسے اٹھا لیا) اور فرماتے: ”بِسمِ اللهِ، تُرْبَةُ أرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى بِهِ سَقِيمُنَا، بإذْنِ رَبِّنَا“ اللہ کے نام کے سے، یہ ہمارے زمین کی مٹی ہے، اس کے ساتھ ہم میں سے کسی کا لعاب لگا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ہمارے رب کی اجازت سے ہمارا مریض شفایاب ہوگا۔

متفق علیہ درجہ: صحیح

شرح

جب کوئی شخص بیمار ہو جاتا، اسے کوئی زخم لگ جاتا یا کچھ اور ہوتا، تو نبی ﷺ اپنی شہادت کی انگلی پر اپنا کچھ لعاب مبارک لگاتے اور انگلی کو مٹی پر رکھ دیتے۔ یوں اس کے ساتھ کچھ مٹی لگ جاتی۔ پھر آپ ﷺ اسے اس جگہ پھیر دیتے، جہاں زخم یا بیماری ہوتی اور کہتے: ”بِاسْمِ اللهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى بِهِ سَقِيمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا“ اللہ کے نام کے سے، یہ ہمارے زمین کی مٹی ہے، اس کے ساتھ ہم میں سے کسی کا لعاب لگا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ہمارے رب کی اجازت سے ہمارا مریض شفایاب ہوگا۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

4 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ، جنوں اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، یہاں تک کہ معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) نازل ہوئیں۔ جب یہ سورتیں نازل ہو گئیں، تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو اختیار کر لیا اور ان کے علاوہ دوسری چیزوں کے ذریعہ سے پناہ مانگنا چھوڑ دیا۔

اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ دعاؤں اور ذکر و اذکار کا اہتمام کرتے ہوئے جنات کی شرانگیزیوں اور انسانوں کی حاسدانہ نظروں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب فرماتے تھے اور یوں فرمایا کرتے تھے کہ: میں جنات اور انسانوں کی نظر بد سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں، تا آں کہ معوذتین کا نزول ہوگیا۔ جب یہ نازل ہو گئیں، تو آپ ﷺ پناہ طلب کرنے میں بیش تر انھیں کو اختیار فرما لیا اور ان کے علاوہ دیگر تمام تعاویذ اور جھاڑ پھونک کے طور پر پڑھی جانے والی دعاؤں اور اذکار کو چھوڑ دیا؛ کیوں کہ ان سورتوں میں ان تمام دعاؤں اور اذکار کو شامل کردیا گیاہے، جن کے ذریعے پناہ طلب کی جاسکتی ہے اور جن سے پناہ طلب کرنا ہوتا ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

سوالات

اس صفحے پر کیا ہے؟

مسنون رقیہ: ہر ایک عربی میں، اپنے ترجمے، ماخذ حدیث، درجے اور شرح کے ساتھ۔

ترجمے کہاں سے لیے گئے ہیں؟

HadeethEnc.com سے، جو ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ہر حدیث بالکل ویسے ہی دکھائی جاتی ہے جیسے وہاں شائع ہوئی، اپنے حوالے اور درجے کے ساتھ، اور اصل کا لنک بھی دیا جاتا ہے۔

کیا مجھے روزانہ یاد دہانی مل سکتی ہے؟

جی ہاں۔ اینڈرائیڈ کے لیے مفت قبس ایپ آپ کو ہر روز صبح و شام کے اذکار یاد دلاتی ہے اور اس میں یہی کاؤنٹر موجود ہے۔