سبق 5 از 8
نبی محمد ﷺ کون ہیں؟
قرآن مجید سے
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٖ مِّن رِّجَالِكُمۡ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّـۧنَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٗا ﴿٤٠﴾
(لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے، اور اللہ تعالی ہر چیز کا (بخوبی) جاننے واﻻ ہے.
وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا رَحۡمَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ ﴿١٠٧﴾
اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے.
وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا كَآفَّةٗ لِّلنَّاسِ بَشِيرٗا وَنَذِيرٗا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ﴿٢٨﴾
ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے ہاں مگر (یہ صحیح ہے) کہ لوگوں کی اکثریت بےعلم ہے.
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٖ ﴿٤﴾
اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے.
سنت نبوی سے
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "بلاشبہ مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا۔"
شرح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ تعالی نے آپ کو عمدہ اور اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا ہے۔ آپ پہلے آنے والے تمام رسولوں کے اختتام اور عرب کے اخلاق حسنہ کی تکمیل کرنے والی کی حیثیت سے بھیجے گئے تھے۔ کیوں کہ عرب خیر سے محبت اور شر سے نفرت کرتے تھے۔ وہ با مروت، دریا دل اور خود دار تھے۔ ایسے میں آپ ان کے اخلاق میں پائی جانے والی کمیوں، جیسے حسب نسب پر فخر کرنا اور تکبر کرنا اور مالی اعتبار سے کم تر لوگوں کو حقیر جاننا وغیرہ، کو دور کرکے اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لیے بھیجے گئے تھے۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ”میری تعریف میں ایسے حد سے نہ گزرو، جیسے عیسائی لوگ عیسی ابن مریم (علیہ السلام) کی تعریف میں حد سے گزر گئے۔ میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں۔ اس لیے مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو“۔
شرح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنی تعریف میں افراط کے شکار ہونے اور شرعی حد سے آگے بڑھنے، آپ کو اللہ کے اوصاف اور اس کے خاص افعال سے متصف قرار دینے، اللہ کے بارے میں غیب کو جاننے کا دعوی کرنے اور آپ کو اللہ کے ساتھ پکارنے سے منع فرمایا ہے۔ جیسا کہ نصرانیوں نے عیسی ابن مریم علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ پھر بتایا کہ آپ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہیں اور اس بات کا حکم دیا کہ ہم آپ کو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہیں۔