لوگ جو سوال پوچھتے ہیں

سبق 8 از 11

کیا اسلام بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے کی اجازت دیتا ہے؟

مختصر جواب

نہیں۔ اسلام کسی بھی بے گناہ کی جان لینے سے منع کرتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو ناحق قتل کرے "تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا"، اور جو شخص کسی ایک کی جان بچا لے "اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کر دیا"۔ جنگ میں مسلمان صرف دشمن کے لڑنے والوں سے لڑ سکتے ہیں، اور عورتوں، بچوں، بوڑھوں یا ان دوسرے لوگوں کو جو نہیں لڑتے، کبھی قتل نہیں کر سکتے۔ نبی ﷺ نے خبردار کیا کہ جو کسی ایسے غیر مسلم کو قتل کرے جسے مسلمانوں کی طرف سے امان کا وعدہ دیا گیا ہو، وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا۔

قبس کی تحریر، جسے المختصر فی تفسیر القرآن الکریم، تفسیر ابن کثیر اور HadeethEnc.com کی شروحات سے جانچا گیا ہے۔

قرآن مجید سے

مِنۡ أَجۡلِ ذَٰلِكَ كَتَبۡنَا عَلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ أَنَّهُۥ مَن قَتَلَ نَفۡسَۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ أَوۡ فَسَادٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ ٱلنَّاسَ جَمِيعٗا وَمَنۡ أَحۡيَاهَا فَكَأَنَّمَآ أَحۡيَا ٱلنَّاسَ جَمِيعٗاۚ وَلَقَدۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُنَا بِٱلۡبَيِّنَٰتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرٗا مِّنۡهُم بَعۡدَ ذَٰلِكَ فِي ٱلۡأَرۡضِ لَمُسۡرِفُونَ ﴿٣٢﴾

اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وه کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے واﻻ ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا، اور جو شخص کسی ایک کی جان بچا لے، اس نے گویا تمام لوگوں کو زنده کردیا اور ان کے پاس ہمارے بہت سے رسول ﻇاہر دلیلیں لے کر آئے لیکن پھر اس کے بعد بھی ان میں کے اکثر لوگ زمین میں ﻇلم و زیادتی اور زبردستی کرنے والے ہی رہے۔

المائدة 5:32قرآن میں پڑھیں

وَقَٰتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يُقَٰتِلُونَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ ﴿١٩٠﴾

لڑو اللہ کی راه میں ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو ، اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

البقرة 2:190قرآن میں پڑھیں

سنت نبوی سے

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "جس نے کسی معاہد کو قتل کیا، وہ جنت کی بو تک نہیں پائے گا، جب کہ اس کی بو چالیس سال کی مسافت سے مل جاتی ہے۔"

رواه البخاري صحيح HadeethEnc.com
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس شخص کو بڑی سخت وعید سنا رہے ہیں، جس نے کسى ایسے کافر کو جس کا مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ ہو قتل کیا۔ وعید یہ ہے کہ وہ جنت کی بو تک نہیں پائے گا، جب کہ اس کی بو چالیس سال کی مسافت تک جاتی ہے۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : ایک عورت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کسی غزوے میں مقتول پائی گئی، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل کی نکیر فرمائی۔

متفق عليه صحيح HadeethEnc.com
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی جنگ میں ایک مقتول عورت کی لاش دیکھی، تو عورتوں اور چھوٹے بچوں کے قتل کی نکیر فرمائی۔

تمام اسباق