قرض کی ادائیگی کی دعا

قرض سے نجات اور حلال رزق کے لیے دعائیں۔

1 ایک بار

اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ

ترجمہ اور حوالہ

علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مکاتب غلام ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ: میں اپنا ’مالِ کتابت‘ دینے سے عاجز آ گیا ہوں، میری کچھ مدد کریں۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:" کیا میں تمہیں کچھ ایسے کلمات نہ سکھا دوں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے سکھائے تھے۔ اگر تمہارے اوپر پہاڑ برابر بھی قرض ہوگا تو اللہ تمہاری طرف سے اس کی ادائیگی کے اسباب مہیا کر دے گا؟ یوں کہا کرو: ”اللَّهُمَّ اكْفِني بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِواكَ“ اے اللہ! جن اشیاء کو تو نے حرام کیا ان سے بچاتے ہوئے اپنی حلال کردہ اشیاء کو میرے لیے کافی کر دے اور اپنے فضل سے مجھے اپنے سوا ہر کسی سے بے نیاز کردے۔

اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ درجہ: حَسَنْ

شرح

اس حدیث میں ایک مکاتب غلام کا ذکر ہے۔ مکاتب وہ شخص ہوتا ہے جس نے اپنے آقا سے کچھ قسط وار ادا کیے جانے والے مال کے عوض اپنی آزادی خریدنے کا معاہدہ کر لیا ہو۔ لیکن اس غلام کے پاس اپنے آقا کو قرض ادا کرنے کے لیے مال نہیں تھا چنانچہ اس نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ قرض کی ادائیگی میں اس کی مدد کریں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک ربانی علاج کی طرف رہنمائی فرمائی جو ایک دعا تھی جسے نبی ﷺ نے انہیں سکھایا تھا کہ اگر وہ پورے اخلاص سے یہ دعا مانگے تو اس کی طرف سے اللہ اس کا قرض ادا کر دے گا اگرچہ وہ پہاڑ برابر ہی کیوں نہ ہو۔ علی رضی اللہ عنہ نے اس غلام سے فرمایا کہ یوں کہا کرو: ”اللَّهُمَّ اكْفِني بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِواكَ“ اے اللہ! جن اشیاء کو تو نے حرام کیا ان سے بچاتے ہوئے اپنی حلال کردہ اشیاء کو میرے لیے کافی کر دے اور اپنے فضل سے مجھے اپنے سوا ہر کسی سے بے نیاز کردے۔ یعنی اے اللہ میرے لیے حلال روزی میں کفایت شعاری عطا فرما، جو مجھے حرام کی ضرورت سے بے نیاز کردے، اور میرے لیے اپنے فضل وکرم سے رزق مہیا فرما جو مجھے لوگوں سے مانگنے سے بے نیاز کردے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

2 ایک بار

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ

ترجمہ اور حوالہ

عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم یہ دعائيں کیا کرتے تھے: "اے اللہ! میں قرض کے غلبے، دشمن کے غلبے اور مصیبت میں دشمنوں کی خوشی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔"

رواه النسائي وأحمد درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے درج ذیل چیزوں سے پناہ مانگی ہے:

1- "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ"۔ اے اللہ! میں صرف اور صرف تیری پناہ مانگتا ہوں قرض کے دباؤ، بوجھ، غم اور بے چینی سے۔ میں تیری مدد مانگتا ہوں اس بات پر کہ اسے ادا کر سکوں۔

2- "وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ"۔ دشمن کے قہر و تسلط سے۔ دعا ہے کہ تو اس کے ظلم و ستم کو روک لے اور مجھے اس پر فتح یاب کر۔

3- "وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ"۔ مسلمانوں کے اوپر آنے والی بلا و مصیبت پر دشمنوں کے خوش ہونے سے۔

فوائد

  • ان تمام چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے کی ترغیب، جو انسان کے پاس نیکی کے کاموں کے لیے موقع نہیں چھوڑتیں اور غم و اندوہ کا باعث بنتی ہیں۔ جیسے قرض وغیرہ۔
  • مطلق قرض میں کوئی حرج نہيں ہے۔ حرج اس وقت ہے، جب انسان کے پاس قرض چکانے کی طاقت نہ ہو۔ اسی قرض کا ذکر اس حدیث میں ہے۔
  • انسان کو ایسی چيزوں سے دور رہنا چاہیے، جن سے اس کی جگ ہنسائی ہو اور اس پر انگلی اٹھے۔
  • اہل ایمان سے کافروں کی عداوت اور ان پر مصیبت آنے پر ان کے خوش ہونے کا بیان۔
  • مصیبت کے وقت دشمنوں کے ہنسنے سے مصیبت دو چند ہو جاتی ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

سوالات

اس صفحے پر کیا ہے؟

قرض کی دعا: ہر ایک عربی میں، اپنے ترجمے، ماخذ حدیث، درجے اور شرح کے ساتھ۔

ترجمے کہاں سے لیے گئے ہیں؟

HadeethEnc.com سے، جو ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ہر حدیث بالکل ویسے ہی دکھائی جاتی ہے جیسے وہاں شائع ہوئی، اپنے حوالے اور درجے کے ساتھ، اور اصل کا لنک بھی دیا جاتا ہے۔

کیا مجھے روزانہ یاد دہانی مل سکتی ہے؟

جی ہاں۔ اینڈرائیڈ کے لیے مفت قبس ایپ آپ کو ہر روز صبح و شام کے اذکار یاد دلاتی ہے اور اس میں یہی کاؤنٹر موجود ہے۔