لوگ جو سوال پوچھتے ہیں

سبق 2 از 11

اسلام عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ مریم کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

مختصر جواب

عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ مریم اسلام میں سب سے زیادہ عزت والی خواتین میں سے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے انہیں برگزیدہ کیا، پاک کیا اور سارے جہان کی عورتوں پر چن لیا، جس کی وضاحت بہت سے علماء یوں کرتے ہیں کہ اس سے مراد ان کے زمانے کی عورتیں ہیں، اور قرآن کی ایک پوری سورت ان کے نام پر ہے۔ انہوں نے اللہ کے معجزے سے کنواری ہوتے ہوئے عیسیٰ کو جنم دیا۔ نبی ﷺ نے انہیں ان چند عورتوں میں شمار کیا جو کمال کو پہنچیں۔

قبس کی تحریر، جسے المختصر فی تفسیر القرآن الکریم، تفسیر ابن کثیر اور HadeethEnc.com کی شروحات سے جانچا گیا ہے۔

قرآن مجید سے

وَإِذۡ قَالَتِ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ يَٰمَرۡيَمُ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰكِ وَطَهَّرَكِ وَٱصۡطَفَىٰكِ عَلَىٰ نِسَآءِ ٱلۡعَٰلَمِينَ ﴿٤٢﴾ يَٰمَرۡيَمُ ٱقۡنُتِي لِرَبِّكِ وَٱسۡجُدِي وَٱرۡكَعِي مَعَ ٱلرَّٰكِعِينَ ﴿٤٣﴾

اور جب فرشتوں نے کہا، اے مریم! اللہ تعالیٰ نے تجھے برگزیده کر لیا اور تجھے پاک کر دیا اور سارے جہان کی عورتوں میں سے تیرا انتخاب کر لیا۔ اے مریم! تو اپنے رب کی اطاعت کر اور سجده کر اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔

آل عمران 3:42-43قرآن میں پڑھیں

وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ مَرۡيَمَ إِذِ ٱنتَبَذَتۡ مِنۡ أَهۡلِهَا مَكَانٗا شَرۡقِيّٗا ﴿١٦﴾ فَٱتَّخَذَتۡ مِن دُونِهِمۡ حِجَابٗا فَأَرۡسَلۡنَآ إِلَيۡهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرٗا سَوِيّٗا ﴿١٧﴾ قَالَتۡ إِنِّيٓ أَعُوذُ بِٱلرَّحۡمَٰنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيّٗا ﴿١٨﴾ قَالَ إِنَّمَآ أَنَا۠ رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَٰمٗا زَكِيّٗا ﴿١٩﴾ قَالَتۡ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَٰمٞ وَلَمۡ يَمۡسَسۡنِي بَشَرٞ وَلَمۡ أَكُ بَغِيّٗا ﴿٢٠﴾ قَالَ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٞۖ وَلِنَجۡعَلَهُۥٓ ءَايَةٗ لِّلنَّاسِ وَرَحۡمَةٗ مِّنَّاۚ وَكَانَ أَمۡرٗا مَّقۡضِيّٗا ﴿٢١﴾

اس کتاب میں مریم کا بھی واقعہ بیان کر۔ جبکہ وه اپنے گھر کے لوگوں سے علیحده ہو کر مشرقی جانب آئیں. اور ان لوگوں کی طرف سے پرده کر لیا ، پھر ہم نے اس کے پاس اپنی روح (جبرائیل علیہ السلام) کو بھیجا پس وه اس کے سامنے پورا آدمی بن کر ﻇاہر ہوا. یہ کہنے لگیں میں تجھ سے رحمٰن کی پناه مانگتی ہوں اگر تو کچھ بھی اللہ سے ڈرنے واﻻ ہے. اس نے جواب دیا کہ میں تو اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، تجھے ایک پاکیزه لڑکا دینے آیا ہوں. کہنے لگیں بھلا میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مجھے تو کسی انسان کا ہاتھ تک نہیں لگا اور نہ میں بدکار ہوں. اس نے کہا بات تو یہی ہے ۔ لیکن تیرے پروردگار کا ارشاد ہے کہ وه مجھ پر بہت ہی آسان ہے ہم تو اسے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں گے اور اپنی خاص رحمت، یہ تو ایک طے شده بات ہے.

مريم 19:16-21قرآن میں پڑھیں

وَمَرۡيَمَ ٱبۡنَتَ عِمۡرَٰنَ ٱلَّتِيٓ أَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتۡ بِكَلِمَٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِۦ وَكَانَتۡ مِنَ ٱلۡقَٰنِتِينَ ﴿١٢﴾

اور (مثال بیان فرمائی) مریم بنت عمران کی جس نے اپنے ناموس کی حفاﻇت کی پھر ہم نے اپنی طرف سے اس میں جان پھونک دی اور (مریم) اس نے اپنے رب کی باتوں اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور عبادت گزاروں میں سے تھی.

التحريم 66:12قرآن میں پڑھیں

سنت نبوی سے

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مردوں میں سے بہت سے لوگ مرتبۂ کمال تک پہنچے، لیکن عورتوں میں سے صرف فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران ہی مرتبۂ کمال تک پہنچیں اور عائشہ کو عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے، جو فضیلت ثرید کو سارے کھانوں پر حاصل ہے"۔

متفق علیہ صحیح HadeethEnc.com
شرح

ایسے مرد جو دینی اور اخلاقی فضیلتوں میں مرتبۂ کمال کو پہنچے، بہت ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ تو عام مرتبۂ کمال کو پہنچے، جیسے علما، صالحین اور اولیا۔ جب کہ کچھ لوگ کمال کے سب سے اونچے مرتبے پر فائز ہوئے، جیسے انبیاے کرام۔ لیکن اس کے بالمقابل ایسی عورتیں جو مرتبۂ کمال کو پہنچیں، بہت کم ہیں۔ جن میں سر فہرست دو عورتیں ہیں: ایک فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم، جن کے کامل ایمان کی مثال اللہ نے دی ہے۔ ارشاد ہے : {وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ} (اور اللہ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال دی ہے۔) در اصل جب موسی علیہ السلام فرعون کے جادوگروں پر غالب آگئے، تو وہ ان پر ایمان لے آئیں اور جب فرعون کو ان کے ایمان کی خبر ہوئی، تو اس نے ان کو اتنی اذیتیں دیں کہ وہ دنیا سے سدھار گئیں۔ لیکن ہاں! ایمان کی دولت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ جب کہ دوسری عورت مریم بنت عمران ہیں، جن کی پاک بازی اور کمال عبادت کی اللہ نے مثال دی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آگے فرمایا : "عائشہ کو عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے، جو فضیلت ثرید کو سارے کھانوں پر حاصل ہے"۔ ثرید جو روٹی اور گوشت سے بنتا ہے، عربوں کا سب سے پسندیدہ پکوان ہے اور تمام عورتوں میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت بھی کچھ اسی طرح ہے, جیسے کہ سب سے زیادہ پسندیدہ کھانے ثرید کو تمام کھانوں فضیلت حاصل ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: "بنی آدم میں سے جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے، شیطان اس کی ولادت کے وقت اسے کچوکے لگاتا ہے اور وہ شیطان کے کچوکے سے چیخ کر رو دیتا ہے۔ البتہ مریم اور ان کا بیٹا دونوں اس سے مستثنی ہیں"۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھتے تھے: {وإنِّي أُعِيذُها بك وذُرِّيَّتَها من الشَّيطان الرَّجِيمِ} یعنی میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔

متفق علیہ صحیح HadeethEnc.com
شرح

جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے، شیطان اس کے پہلو میں کچوکے لگاتا ہے اور بچہ چیخ کر رو دیتا ہے۔ ولادت کے ٹھیک بعد بچے کے رونے کا سبب شیطان کا یہی کچوکا ہے جو وہ اسے لگاتا ہے۔لیکن مریم اور ان کے بیٹے عیسی علیہما السلام اس سے مستثنی ہیں۔ اللہ نے دونوں کو ولادت کے وقت شیطان کے کچوکے سے محفوظ رکھا۔ کیونکہ مریم کی ماں نے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی تھی: {وإنِّي أُعِيذُها بك وذُرِّيَّتَها من الشَّيطان الرَّجِيمِ} (میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔) چنانچہ اللہ نے ان کی دعا کو شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے, رحمت الہی سے دور کئے ہوئے شیطان کے کچوکے سے, مریم اور ان کے بیٹے عیسی علیہما السلام کو, محفوظ رکھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شیطان کا یہ چھونا یا کچوکا لگانا حقیقی معنی پر محمول ہے۔ اس کے معنی شیطان کے انسان کو گمراہ کرنے کى لالچ کرنا نہیں ہے، جیسا کہ بعض معتزلہ کا دعوی ہے۔ صاف ستھری بات یہ ہے کہ اس پر اس کے حقیقی معنوں کے مطابق ہی ایمان رکھنا ضروی ہے۔ یہی اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔

تمام اسباق