نماز کیسے پڑھیں

سبق 1 از 3

میں وضو کیسے کروں؟

قرآن مجید سے

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا قُمۡتُمۡ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ فَٱغۡسِلُواْ وُجُوهَكُمۡ وَأَيۡدِيَكُمۡ إِلَى ٱلۡمَرَافِقِ وَٱمۡسَحُواْ بِرُءُوسِكُمۡ وَأَرۡجُلَكُمۡ إِلَى ٱلۡكَعۡبَيۡنِۚ وَإِن كُنتُمۡ جُنُبٗا فَٱطَّهَّرُواْۚ وَإِن كُنتُم مَّرۡضَىٰٓ أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوۡ جَآءَ أَحَدٞ مِّنكُم مِّنَ ٱلۡغَآئِطِ أَوۡ لَٰمَسۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُواْ مَآءٗ فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدٗا طَيِّبٗا فَٱمۡسَحُواْ بِوُجُوهِكُمۡ وَأَيۡدِيكُم مِّنۡهُۚ مَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيَجۡعَلَ عَلَيۡكُم مِّنۡ حَرَجٖ وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمۡ وَلِيُتِمَّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ ﴿٦﴾

اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے منھ کو، اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو، اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرلو، ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی حاجت ضروری سے فارغ ہو کر آیا ہو، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو، اسے اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر مل لو اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا اراده تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دینے کا ہے، تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو۔

المائدة 5:6قرآن میں پڑھیں

سنت نبوی سے

عثمان بن عفان کے غلام حمران سے روایت ہے کہ انھوں نے دیکھا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا، برتن کا پانی دونوں ہاتھوں پر تین بار انڈیلا، ان کو تین بار دھویا، پھر وضو کے پانی میں دائیں ہاتھ کو داخل کیا، پھر کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور ناک جھاڑا، پھر چہرے کو تین بار اور دونوں ہاتھوں کو تین بار کہنیوں سمیت دھویا، پھر سر کا مسح کیا، پھر ہر ایک پیر کو تین تین بار دھویا اور اس کے بعد فرمایا: میں نے دیکھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور اس کے بعد فرمایا: "جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر دو رکعت نماز پڑھی، جس میں اس نے اپنے جی میں کوئی بات نہ کی، اللہ تعالی اس کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔“

متفق عليه صحيح HadeethEnc.com
شرح

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے عملی طور پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ کے وضو کا طریقہ سکھایا، تاکہ بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ چنانچہ انھوں نے ایک برتن میں پانی منگوایا، پھر پانی کو دونوں ہاتھوں پر تین بار انڈیلا، بعد ازاں اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا، پانی لے کر اپنے منہ میں ڈالا، اندر گھمایا اور باہر نکال دیا، پھر سانس کے ساتھ ناک کے اندر پانی کھینچا، پھر اسے نکال کر ناک جھاڑا، پھر اپنے چہرے کو تین بار دھویا، پھر اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین بار دھویا، پھر پانی سے بھیگے ہوئے ہاتھوں کو ایک بار سر پر پھیرا، پھر اپنے پیروں کو ٹخنوں سمیت تین بار دھویا۔

جب وضو سے فارغ ہو گئے تو بتایا کہ انھوں نے دیکھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی طرح وضو کیا اور اس کے بعد یہ خوش خبری دی کہ جس نے آپ کے وضو کی طرح وضو کیا اور خشوع و خضوع اور دلجمعی کے ساتھ اپنے رب کے سامنے حاضر ہوکر دو رکعت نماز پڑھی، تو اس کے اس کامل وضو اور اس خالص نماز کے بدلے میں اللہ اس کے پچھلے گناہ معاف کر دے گا۔

آپ کے شہر میں نماز کے اوقات

تمام اسباق