یوم عاشورہ 2027
متوقع تاریخ
منگل، 15 جون، 2027
10 محرم 1449ھ
تاسوعا، 9 محرم: پیر، 14 جون، 2027
تاریخیں سعودی عرب کے ام القریٰ کیلنڈر کے مطابق ہیں۔ جہاں مہینہ مقامی طور پر نیا چاند دیکھ کر شروع ہوتا ہے، وہاں تاریخ ایک دن آگے یا پیچھے ہو سکتی ہے۔
عاشورہ 10 محرم ہے، وہ دن جب اللہ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو فرعون سے نجات دی۔ نبی کریم ﷺ نے اس دن روزہ رکھا اور مسلمانوں کو اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا، اور اس کے ساتھ 9 محرم کا روزہ رکھنا سنت ہے۔
قرآن و سنت سے
- عاشورہ کا روزہ پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ (صحیح مسلم)
- اس کے ساتھ 9 محرم (تاسوعا) کا روزہ بھی رکھیں۔ (صحیح مسلم)
- اللہ کے مہینے محرم میں کثرت سے روزے رکھیں۔ (صحیح مسلم)
حدیث
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صام يوم عاشوراء وأمر بصيامه. ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا اور (دوسروں کو بھی) اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
تشریح
علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عاشوراء کا روزہ سنت ہے، واجب نہیں ہے تاہم ابتدائے اسلام میں جب رمضان سے پہلے اس دن کا روزہ مشروع ہوا تو اس کے حکم کے سلسلے میں ان کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا وہ واجب تھا یا نہیں؟ اگر اس گروہ کی رائے کو درست مان بھی لیا جائے جن کا کہنا ہے کہ یہ واجب تھا تو پھر بھی صحیح احادیث کی وجہ سے اس کا وجوب منسوخ ہوچکاہے۔ انہی احادیث میں سے ایک اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث ہے جس میں وہ فرماتی ہیں کہ قریش دورِ جاہلیت میں عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ بعدازاں آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا تاوقتیکہ کہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو چاہے وہ اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔ (بخاری ومسلم)
عن عبدالله بن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لَئِن بَقِيتُ إلى قابلٍ لأصومنّ التاسِع». عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں اگلے سال زندہ رہا، تو (محرم کی) نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھوں گا“۔
تشریح
”لَئِنْ بَقِيتُ“ کے معنی ہیں اگر میں زندہ رہا۔ ”إِلى قَابِلٍ“ یعنی آئندہ محرم تک زندہ رہا۔ ”لأَصومَنَّ التَّاسِعَ“ تو یہود کی مخالفت کرتے ہوئے عاشورا کے ساتھ نویں دن کا بھی روزہ رکھوں گا۔ تاہم آئندہ سال کی آمد سے قبل ہی نبی ﷺ اس دار فانی سے وفات فرما گئے۔ لہٰذا نویں دن کا روزہ رکھنا بھی مسنون ہے، گرچہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو وہ دن میسر نہ آیا۔ اس لیے کہ آپ ﷺ کی جانب سے روزہ رکھنے کا پختہ عز م ہی اس کے سنت ہونے کی دلیل ہے اور دسویں دن کے ساتھ نویں دن کا روزہ رکھنے کا سبب بھی موجود ہے کہ محض دسویں کا روزہ رکھنے کی صورت میں یہود کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ عاشورا کا روزہ پانے میں احتیاط کا تقاضا یہی ہے۔ تاہم پہلا قول ہی راجح ہے؛ کیوں کہ اس سلسلے میں نص شرعی وارد ہے۔ واللہ اعلم
صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ عاشورا کے دن کا روزہ — مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ اس سے پچھلے سال کے گناہ مٹا دے گا۔
دوسرے سال
یوم عاشورہ 2026یوم عاشورہ 2028
دوسرے مواقع
اسلامی نیا سال 2027شب معراج 2027رمضان 2027شب قدر 2027عید الفطر 2027یوم عرفہ 2027عید الاضحیٰ 2027 اسلامی کیلنڈر 1449ھ
سوالات
یوم عاشورہ 2027 کب ہے؟
یوم عاشورہ 2027 متوقع طور پر منگل، 15 جون، 2027 کو ہے، جو ام القریٰ کیلنڈر میں 10 محرم 1449ھ ہے۔
کیا یوم عاشورہ کی تاریخ طے شدہ ہے؟
نیا چاند نظر آنے تک نہیں۔ بہت سے ممالک مہینے کے آغاز کا اعلان ایک شام پہلے کرتے ہیں، اس لیے تاریخ ایک دن آگے پیچھے ہو سکتی ہے۔
مسلمان یوم عاشورہ کا روزہ کیوں رکھتے ہیں؟
نبی کریم ﷺ نے مدینہ کے یہودیوں کو اس دن روزہ رکھتے پایا کیونکہ اس دن اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی تھی۔ آپ ﷺ نے روزہ رکھا، فرمایا کہ مسلمان موسیٰ کے زیادہ حق دار ہیں، اور اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔