فَتَرَى ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ يُسَٰرِعُونَ فِيهِمۡ يَقُولُونَ نَخۡشَىٰٓ أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٞۚ فَعَسَى ٱللَّهُ أَن يَأۡتِيَ بِٱلۡفَتۡحِ أَوۡ أَمۡرٖ مِّنۡ عِندِهِۦ فَيُصۡبِحُواْ عَلَىٰ مَآ أَسَرُّواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ نَٰدِمِينَ ٥٢
آپ دیکھیں گے کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے1 وه دوڑ دوڑ کر ان میں گھس رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں خطره ہے، ایسا نہ ہو کہ کوئی حادﺛہ ہم پر پڑ جائے2 بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ فتح دے دے3۔ یا اپنے پاس سے کوئی اور چیز ﻻئے4 پھر تو یہ اپنے دلوں میں چھپائی ہوئی باتوں پر (بے طرح) نادم ہونے لگیں گے۔
حواشی
1 اس سے مراد نفاق ہے، یعنی منافقین یہودیوں سے محبت اور دوستی میں جلدی کر رہے ہیں۔
2 یعنی مسلمانوں کو شکست ہوجائے اور اس کی وجہ سے ہمیں بھی کچھ نقصان اٹھانا پڑے۔ یہودیوں سے دوستی ہوگی تو ایسے موقعے پر ہمارے بڑے کام آئے گی۔
3 یعنی مسلمانوں کو۔
4 یہود ونصاریٰ پر جزیہ عائد کردے یہ اشارہ ہے بنوقریظہ کے قتل اور ان کی اولاد کے قیدی بنانے اور بنونضیر کی جلاوطنی وغیرہ کی طرف، جس کا وقوع مستقبل قریب میں ہی ہوا۔