اسلام کے پانچ ارکان

سبق 3 از 5

زکوٰۃ کیا ہے؟

قرآن مجید سے

خُذۡ مِنۡ أَمۡوَٰلِهِمۡ صَدَقَةٗ تُطَهِّرُهُمۡ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيۡهِمۡۖ إِنَّ صَلَوٰتَكَ سَكَنٞ لَّهُمۡۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿١٠٣﴾

آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں اور ان کے لیے دعا کیجئے ، بلاشبہ آپ کی دعا ان کے لیے موجب اطمینان ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سنتا ہے خوب جانتا ہے۔

التوبة 9:103قرآن میں پڑھیں

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ لَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ﴿٢٧٧﴾

بے شک جو لوگ ایمان کے ساتھ ﴿سنت کے مطابق﴾ نیک کام کرتے ہیں، نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب تعالیٰ کے پاس ہے، ان پر نہ تو کوئی خوف ہے، نہ اداسی اور غم۔

البقرة 2:277قرآن میں پڑھیں

۞ إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱلۡعَٰمِلِينَ عَلَيۡهَا وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ وَفِي ٱلرِّقَابِ وَٱلۡغَٰرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۖ فَرِيضَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ ﴿٦٠﴾

صدقے صرف فقیروں کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لئے، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم وحکمت واﻻ ہے۔

التوبة 9:60قرآن میں پڑھیں

سنت نبوی سے

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”صدقہ مال کو گھٹاتا نہيں ہے، بندہ کے عفو و درگزر سے کام لینے سے اللہ اس کی عزت کو مزید بڑھاتا ہے اور جو آدمی اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ تعالی اسے بلندیوں سے نوازتا ہے“۔

رواه مسلم صحيح HadeethEnc.com
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ صدقہ مال کو گھٹاتا نہيں ہے، بلکہ اسے بلا و مصیبت سے محفوظ رکھتا ہے اور بدلے میں صدقہ کرنے والے کو بڑی بھلائی عطا کرتا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو مال میں اضافہ ہوا، کمی نہیں۔

انتقام لینے اور گرفت کرنے کی طاقت ہونے کے باوجود عفو و درگزر سے کام لینے سے انسان کے طاقت و عزت میں اضافہ ہوتا ہے۔

جب کوئی اللہ کی رضا جوئی کے لیے تواضع اور انکساری کا رویہ اختیار کرتا ہے، اس میں کسی کا خوف، کسی کو خوش کرنے اور کسی سے کسی منفعت کا حصول جیسی باتیں پیش نظر نہيں ہوتیں، تو بدلے میں اللہ تعالی اسے بلندی اور عزت عطا کرتا ہے۔

تمام اسباق