سبق 4 از 4
کیا اللہ مجھے معاف کر دے گا؟
قرآن مجید سے
۞ قُلۡ يَٰعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ أَسۡرَفُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُواْ مِن رَّحۡمَةِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَغۡفِرُ ٱلذُّنُوبَ جَمِيعًاۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ﴿٥٣﴾
(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت واﻻ ہے.
۞ وَٱكۡتُبۡ لَنَا فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗ وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ إِنَّا هُدۡنَآ إِلَيۡكَۚ قَالَ عَذَابِيٓ أُصِيبُ بِهِۦ مَنۡ أَشَآءُۖ وَرَحۡمَتِي وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٖۚ فَسَأَكۡتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَٰتِنَا يُؤۡمِنُونَ ﴿١٥٦﴾
اور ہم لوگوں کے نام دنیا میں بھی نیک حالی لکھ دے اور آخرت میں بھی، ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اپنا عذاب اسی پر واقع کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں اور میری رحمت تمام اشیا پر محیط ہے۔ تو وه رحمت ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان ﻻتے ہیں۔
إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ عَمَلٗا صَٰلِحٗا فَأُوْلَٰٓئِكَ يُبَدِّلُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِهِمۡ حَسَنَٰتٖۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا ﴿٧٠﴾
سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں ، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے، اللہ بخشنے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے.
سنت نبوی سے
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“۔
شرح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جو لوگ دوسروں پر رحم کرتے ہیں، ان پر نہایت رحم والا اللہ رحم کرتا ہے، جس کی رحمت نے ساری چیزوں کو اپنے دائرے میں لے رکھا ہے۔
پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے روئے زمین کے اوپر رہنے والی تمام چیزوں، جیسے انسانوں، جانوروں اور پرندوں وغیرہ پر رحم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا بدلہ یہ ہے کہ اللہ آپ پر آسمانوں کے اوپر سے رحم کرے گا۔
ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ عزوجل رات میں اپنا ہاتھ پسارتا ہے، تاکہ دن کا گنہ گار توبہ کر لے اور دن میں اپنا ہاتھ پسارتا ہے، تاکہ رات کا گنہ گار توبہ کرلے، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جا ئے۔"
شرح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی بندے کی توبہ قبول کرتا ہے۔ جب بندہ دن میں گناہ کرنے کے بعد رات میں توبہ کرتا ہے، تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ اسی طرح جب رات میں گناہ کرنے کے بعد دن میں توبہ کرتا ہے، تو اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ اللہ اپنا ہاتھ توبہ کی خوشی میں اور اسے قبول کرنے کے لیے پھیلاتا ہے۔ توبہ کا دروازہ اس وقت تک کھلا رہے گا، جب تک دنیا کے ختم ہو جانے کی نشانی کے طور پر سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے۔ جب سورج مغرب سے طلوع ہو جائے گا، تو توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”تمام بنی آدم خطا کار ہیں اور بہترین خطا کار وہ ہیں، جو کثرت سے توبہ کرتے ہیں“۔
شرح
انسان کبھی خطا سے پاک نہیں ہوتا؛ کیوں کہ فطری طور پر اس میں کمزوری پائی جاتی ہے۔ اس کی فطرت ہے کہ وہ اپنے مولا کی طرف سے مطلوبہ امور کو انجام نہیں دیتا اور اس کی منع کردہ اشیا کو ترک نہیں کرتا۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے توبہ کا دروازہ کھول رکھا ہے اور اس نے یہ بتایا ہے کہ سب سے بہتر خطا کار وہ ہیں، جو کثرت سے توبہ کرنے والے ہیں۔
سفر مکمل ہوا
شاباش!
روزمرہ زندگی میں اسلام
6 میں سے 1 سفر مکمل
تمام سفر پر واپس جائیں