تیز ہوا چلنے پر دعا

جب تیز ہوا یا طوفان آئے تو کیا کہیں۔

1 ایک بار

اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَخَيْرِ مَا أُمِرَتْ بِهِ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الرِّيحِ وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُمِرَتْ بِهِ

ترجمہ اور حوالہ

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم لوگ ہوا کو گالی مت دو۔ اگر اس میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو، تو یہ دعا پڑھو: ’’اللهم إنا نَسْأَلُكَ مِن خير هذه الريح، وخير ما فيها، وخير ما أُمِرَتْ به، ونعوذ بك من شر هذه الريح، وشر ما فيها، وشر ما أُمِرَتْ به‘‘۔ ( اے اللہ! ہم تجھ سے اس ہوا کی بہتری اور اس کے اندر جو خیر ہے اور جس خیر کا اسے حکم دیا گیا ہے، اس کا سوال کرتے ہيں۔ اور (اے اللہ!) ہم اس ہوا کے شر سے، اور اس کے اندر موجود شر سے اور جس شر کا اسے حکم دیا گیا ہے اس سے، تیری پناہ مانگتے ہیں)

رواه الترمذي درجہ: صحيح

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہوا کو گالی دینے یا اس پر لعنت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ کیوں کہ ہوا اپنے خالق کے حکم سے چلتی ہے۔ کبھی رحمت بن کر آتی ہے اور کبھی عذاب بن کر۔ اس کو گالی دینا دراصل اس کے خالق کو گالی دینا اور اس کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرنا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ہوا کے خالق یعنی اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف رجوع کر کے اس سے ہوا کی خیر، ہوا کے اندر موجود چيزوں کی خیر اور ہوا جن چیزوں کے ساتھ بھیجی گئی ہے، جیسے بارش وغیرہ، ان کی خیر طلب کرنے اور اللہ ہی سے اس کے شر، اس کے اندر موجود چيزوں کے شر اور اسے جن چیزوں کے ساتھ بھیجا گیا ہے، جیسے فصلوں اور پیڑوں کا نقصان، مویشیوں کو ہلاک اور گھروں کو منہدم کرنا وغیرہ، ان کے شر سے پناہ مانگنے کی جانب رہنمائی کی ہے۔ دراصل اللہ سے یہ چیزیں مانگنا بھی اس کی بندگی کو بروئے عمل لانا ہے۔

فوائد

  • ہوا کو برا کہنے کی ممانعت؛ کیوں کہ ہوا اللہ کے حکم پر چلنے والی ایک مخلوق ہے۔ لہذا اسے گالی دینا دراصل اس کی تخلیق اور تدبیر کرنے والے کو گالی دینا ہے، جوکہ توحید میں خلل کا باعث ہے۔
  • الله کی طرف لوٹنا اور اس کی مخلوق کے شر سے پناہ مانگنا۔
  • ہوا کبھی تو اللہ کے حکم سے خیر لاتی ہے اور کبھی اسی کے حکم سے شر لاتی ہے۔
  • ابن باز کہتے ہيں: ہوا کو گالی دینا گناہ کا کام ہے۔ کیوں کہ ہوا ایک مخلوق ہے جو اللہ کے حکم سے خیر وشر کے ساتھ آتی ہے۔ لہذا اسے گالی دینا جائز نہيں ہے۔ ہوا پر اللہ کی لعنت ہو، اللہ ہوا کو غارت کرے یا اللہ ہوا میں برکت نہ دے وغیرہ کہنا درست نہیں ہے۔ ایک مومن کا طرز عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی رہنمائی کے مطابق ہونا چاہیے۔
  • ہوا پر قیاس کرتے ہوئے سردی، گرمی، دھوپ اور غبار وغیرہ اللہ کی ديگر مخلوقات کو بھی گالی دینا جائز نہیں، جو اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

2 ایک بار

اللَّهُمَّ إنِّي أسْأَلُك خَيرها وخير ما فيها وخَير ما أُرسِلت به، وأعوذ بك من شرِّها وشرِّ ما فيها وشرِّ ما أُرسِلت به

ترجمہ اور حوالہ

اُمُّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب آندھی چلتی تو نبی ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: ”اللَّهُمَّ إِني أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرِ مَا فِيهَا، وخَيْر ما أُرسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بك مِنْ شَرِّهِا، وَشَرِّ ما فِيها، وَشَرِّ ما أُرسِلَت بِهِ“ اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں اور جو کچھ اس میں ہے اس کی خیر کا طالب ہوں اور جو خیر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اسے چاہتا ہوں، اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں اور جو کچھ اس کے اندر ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جو شر اس کے ساتھ بھیجا گیا اس سے تیری پناہ کا خواستگار ہوں۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر رہی ہیں کہ نبی ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آندھی چلا کرتی تو آپ ﷺ یہ دعا کرتے: اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں اور جو کچھ اس میں ہے اس کی خیر کا طالب ہوں۔

اللہ تعالی نے جس ہوا کو پیدا کیا اور جسے چلایا اس کی دو اقسام ہیں:

اول: عام ہوا جو خوف کا سبب نہیں ہوتی۔ اس کے بارے میں کوئی معین طور پر مسنون ذکر نہیں ہے۔

دوم: تیزی سے چلنے والی ہوا۔ ایسی ہوا خوف کا باعث ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے قومِ عاد کو سخت آندھی ہی کے ذریعے مبتلائے عذاب کیا تھا۔ العیاذ باللہ۔ لہذا جب آندھی چلے تو ویسے ہی کہیں جیسے آپ ﷺ کی سنت مبارکہ تھی کہ: اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں اور جو کچھ اس میں ہے اس کی خیر کا طالب ہوں، یعنی اللہ تعالی سے اس ہوا اور اس میں موجود منافع کی خیر طلب کریں۔ کیونکہ کبھی تو ہوا خیر کے ساتھ بھیجی جاتی ہے اور کبھی اسے شر دے کر بھیجا جاتا ہے چنانچہ ہر وہ خیر طلب کریں جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہو اور جو اس سے نکلے۔

میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں اور جو کچھ اس کے اندر ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جو شر اس کے ساتھ بھیجا گیا، یعنی اس کے شر اور اس میں موجود اشیاء کے شر اور جس شر کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہوں اس سے پناہ طلب کریں۔ کیونکہ بسا اوقات آندھی کسی قوم کے لیے عذاب ہوا کرتی ہے چنانچہ آپ کو اس کے شر سے پناہ مانگنی چاہیے۔ جب انسان اس کے شر سے اور اس میں موجود اشیاء کے شر سے اور جس شر کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہو اس سے پناہ مانگتا ہے تو اللہ تعالی اس سے اس کے شر کو روک دیتا ہے اور وہ اس کی خیر سے نفع اٹھاتا ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

3 ایک بار

ترجمہ اور حوالہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہوا اللہ کی رحمت ہے۔ یہ رحمت لے کر آتی ہے اور (بسا اوقات) عذاب لاتی ہے۔ لہٰذا جب تم اسے دیکھو تو اسے برا بھلا مت کہو اور اللہ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کی برائی سے پناہ مانگو“۔

اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ درجہ: صحیح

شرح

ہوا اللہ کی رحمت ہے یعنی ہوا اللہ کی اپنے بندوں کے ساتھ رحمت ہے۔

یہ رحمت اور عذاب لیکر آتی ہے یعنی اللہ تعالی ہواؤں کو اپنے بندوں کے لیے از راہِ رحمت بھیجتا ہے، چنانچہ اس کے سبب لوگوں کو خیر وبرکت حاصل ہوتی ہے جیساکہ اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے: ﴿وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ﴾ ”اور ہم بھیجتے ہیں بوجھل ہوائیں“۔

اسی طرح اللہ کا یہ فرمان: ﴿اللَّـهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ﴾ ”اللہ تعالیٰ ہوائیں چلاتا ہے وه ابر کو اٹھاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ اپنی منشا کے مطابق اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر آپ دیکھتے ہیں کہ اس کےاندر سے قطرے نکلتے ہیں“۔

نیز اللہ کا یہ فرمان: ﴿وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَنزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ...﴾ ”اور وه ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وه خوش کر دیتی ہیں، یہاں تک کہ جب وه ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں، تو ہم اس بادل کو کسی خشک سرزمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس بادل سے پانی برساتے ہیں“۔

اور کبھی یہ ہوائیں عذاب لے کر آتی ہیں جیساکہ اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے: ﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي أَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ ”بالآخر ہم نے ان پر ایک تیز و تند آندھی منحوس دنوں میں بھیج دی کہ انہیں دنیاوی زندگی میں ذلت کے عذاب کامزه چکھا دیں“۔

اور فرمایا: ﴿إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ، تَنزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ﴾ ”ہم نے ان پر تیز وتند مسلسل چلنے والی ہوا، ایک پیہم منحوس دن میں بھیج دی، جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر دے پٹختی تھی، گویا کہ وه جڑ سے کٹے ہوئے کھجور کے تنے ہیں“۔

اور فرمایا: ﴿قَالُوا هَـٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا ۚ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُم بِهِ ۖ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ ”کہنے لگے یہ ابر ہم پر برسنے واﻻ ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وه (عذاب) ہےجس کی تم جلدی کر رہے تھے“۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لہٰذا جب تم اسے دیکھو تو اسے برا بھلا مت کہو“ یعنی مومن کے لئے جائز نہیں کہ وہ ہوا کو برا بھلا کہے کیونکہ یہ تو اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق اور اس کے حکم کی پابند ہے اور کسی شے میں بذات خود اس کی کوئی تاثیر نہیں۔ اللہ عز وجل کے حکم کے بغیر یہ نہ کوئی نفع دیتی ہے اور نہ کوئی نقصان۔ چنانچہ اسے برا بھلا کہنا اس کے خالق و مدبر کو برا بھلا کہنے کے مترادف ہوگا جو کہ اللہ سبحانہ و تعالی ہے۔

”اور اللہ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کی برائی سے پناہ مانگو“ ہوا کو برا بھلا کہنے سے منع کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کی رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ جب ہوا چلے تو اس وقت وہ اللہ تعالی سے اس کے خیر کو طلب کریں اور اس کے شر سے اس کی پناہ مانگیں۔

مراد یہ کہ اللہ سے دعا کریں کہ وہ انہیں اس خیر سے نوازے جو اس میں پنہاں ہے اور اس شر کو ان سے دور کردے جو اس میں مضمر ہے۔

HadeethEnc.com پر پڑھیں

سوالات

اس صفحے پر کیا ہے؟

آندھی اور طوفان کی دعا: ہر ایک عربی میں، اپنے ترجمے، ماخذ حدیث، درجے اور شرح کے ساتھ۔

ترجمے کہاں سے لیے گئے ہیں؟

HadeethEnc.com سے، جو ترجمہ شدہ احادیث نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ہر حدیث بالکل ویسے ہی دکھائی جاتی ہے جیسے وہاں شائع ہوئی، اپنے حوالے اور درجے کے ساتھ، اور اصل کا لنک بھی دیا جاتا ہے۔

کیا مجھے روزانہ یاد دہانی مل سکتی ہے؟

جی ہاں۔ اینڈرائیڈ کے لیے مفت قبس ایپ آپ کو ہر روز صبح و شام کے اذکار یاد دلاتی ہے اور اس میں یہی کاؤنٹر موجود ہے۔