سورۃ الزخرف، آیت 51

43:51

وَنَادَىٰ فِرۡعَوۡنُ فِي قَوۡمِهِۦ قَالَ يَٰقَوۡمِ أَلَيۡسَ لِي مُلۡكُ مِصۡرَ وَهَٰذِهِ ٱلۡأَنۡهَٰرُ تَجۡرِي مِن تَحۡتِيٓۚ أَفَلَا تُبۡصِرُونَ ٥١

اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی اور کہا1 اے میری قوم! کیا مصر کا ملک میرا نہیں؟ اور میرے (محلوں کے) نیچے یہ نہریں بہہ رہی ہیں2، کیا تم دیکھتے نہیں؟

حواشی

1 جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے ایسی کئی نشانیاں پیش کردیں جو ایک سے بڑھ کر ایک تھیں تو فرعون کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں میری قوم موسیٰ کی طرف مائل نہ ہوجائے۔ چنانچہ اس نے اپنی ہزیمت کے داغ کو چھپانے اور قوم کو مسلسل دھوکے اور فریب میں مبتلا رکھنے کے لیے یہ نئی چال چلی کہ اپنے اختیار واقتدار کے حوالے سے موسیٰ (عليه السلام) کی بےتوقیری اور کمتری کو نمایاں کیا جائے تاکہ قوم میری سلطنت وسطوت سے ہی مرعوب رہے۔

2 اس سے مراد دریائے نیل یا اس کی بعض شاخیں ہیں جو اس کے محل کے نیچے سے گزرتی تھیں۔