سورۃ النمل، آیت 59

27:59

قُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ وَسَلَٰمٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ ٱلَّذِينَ ٱصۡطَفَىٰٓۗ ءَآللَّهُ خَيۡرٌ أَمَّا يُشۡرِكُونَ ٥٩

تو کہہ دے کہ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے برگزیده بندوں پر سلام ہے1 ۔ کیا اللہ تعالیٰ بہتر ہے یا وه جنہیں یہ لوگ شریک ٹھہرا رہے ہیں.2

حواشی

1 جن کو اللہ نے رسالت اور بندوں کو رہنمائی کے لیے چنا تاکہ لوگ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔

2 یہ استفہام تقریری ہے۔ یعنی اللہ ہی کی عبادت بہتر ہے کیونکہ جب خالق، رازق اور مالک وہی ہے تو عبادت کا مستحق کوئی دوسرا کیوں کر ہوسکتا ہے؟ جو نہ کسی چیز کا خالق ہے نہ رازق اور مالک خَيْرٌ اگرچہ تفضیل کا صیغہ ہے لیکن یہاں تفضیل کے معنی میں نہیں ہے، مطلق بہتر کے معنی میں ہے، اس لیے کہ معبود ان باطلہ میں تو سرے سے کوئی خیر ہے ہی نہیں۔