وَقَدۡ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ فَلِلَّهِ ٱلۡمَكۡرُ جَمِيعٗاۖ يَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٖۗ وَسَيَعۡلَمُ ٱلۡكُفَّٰرُ لِمَنۡ عُقۡبَى ٱلدَّارِ ٤٢
ان سے پہلے لوگوں نے بھی اپنی مکاری میں کمی نہ کی تھی1 ، لیکن تمام تدبیریں اللہ ہی کی ہیں، جو شخص جو کچھ کر رہا ہے اللہ کے علم میں ہے2۔عنقريب کافروں کو معلوم ہو جائے گا کہ (اس) جہان کی جزا کس کے لئے ہے؟
حواشی
1 یعنی مشرکین مکہ سے قبل بھی لوگ رسولوں کے مقابلے میں مکر کرتے رہے ہیں، لیکن اللہ کی تدبیر کے مقابلے میں ان کی کوئی تدبیر اور حیلہ کارگر نہیں ہوا، اسی طرح آئندہ بھی ان کا کوئی مکر اللہ کی مشیت کے سامنے نہیں ٹھر سکے گا۔
2 وہ اس کے مطابق جزا اور سزا دے گا، نیک کو اس کی نیکی کی جزا اور بد کو اس کی بد کی سزا ۔