قَدۡ كَانَتۡ ءَايَٰتِي تُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ فَكُنتُمۡ عَلَىٰٓ أَعۡقَٰبِكُمۡ تَنكِصُونَ ٦٦
میری آیتیں تو تمہارے سامنے پڑھی جاتی تھیں1 پھر بھی تم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے بھاگتے تھے.2
حواشی
1 یعنی قرآن مجید یا کلام الٰہی، جن میں پیغمبر کے فرمودات بھی شامل ہیں۔
2 نکوص کے معنی ہیں "رجعت قھقری" (الٹے پاؤں لوٹنا) لیکن بطور استعارہ اعراض اور روگردانی کے معنی و مفہوم میں استمعمال ہوتا ہے۔ یعنی آیات و احکام الٰہی سن کر تم منہ پھیر لیتے تھے اور ان سے بھا گتے تھے۔